ٹرمپ کی نئی پالیسی ،پاکستانی حکومت سے زیادہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کو چیلنج

ٹرمپ کی نئی پالیسی ،پاکستانی حکومت سے زیادہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کو ...

واشنگٹن (خصوصی تجزیہ:اظہر زمان) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے بارے میں اپنی نئی جامع حکمت عملی کا اعلان کردیا جس کا کئی ماہ سے انتظار تھا، ٹرمپ انتظامیہ سے پہلے ہی پاکستان کو زیادہ نیکی کی توقع نہیں تھی لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے سخت رویے کو اس حد تک لے جائے گا، افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کے دورسے ہی پاکستان پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ افغان طالبان اور خصوصاً حقانی نیٹ ورک کو اپنی سر زمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہا ہے پاکستانی طالبان کے خلاف تو پاکستانی افواج زبردست آپریشن کررہی ہیں لیکن وہ ان گروہوں کو نہیں چھیڑ رہی جو پاکستان کی بجائے افغانستان پر حملوں میں مصروف ہیں، اسی طرح پاکستان کو افغانستان سے یہ شکایت رہی ہے کہ وہ پاکستان کیخلاف کام کرنیوالے دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دیئے ہوئے ہیں، جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے اس کا سابق صدر اوبامہ کے دور سے ہی جو موقف رہا ہے وہ افغانستان سے مطابقت رکھتا ہے اور پاکستان کے بار بار مطالبے کے باوجود اس نے افغانستان کی سرزمین پر موجود ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کیلئے امریکہ نے کبھی زیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سابق صدر اوبامہ کی طرح پہلے یہ کہتے رہے ہیں کہ پاکستان افغان مخالف طالبان اور دہشتگرد گروھوں کی اپنی سرزمین پر موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی سے گریز کررہا ہے لیکن اب صدر ٹرمپ اس موقف سے ایک قدم نہیں کئی قدم آگے بڑھ گئے ہیں اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان امریکہ سے اربوں ڈالر کی امداد بھی لے رہا ہے اور امریکی فوجیوں اور حکام کو نقصان پہنچانے والے بلکہ ہلاک کرنے والے ان گروھوں کو ’’پال‘‘ رہا ہے۔ اپنے تازہ پالیسی بیان میں صدر ٹرمپ نے گلہ کیا ہے کہ یہ کام وہ ملک کررہا ہے جو اس کا اتحادی رہا ہے اس تقریر میں انہوں نے واضح کہا ہے کہ اب پاکستان کے بارے میں امریکی نقطہ نظر اور رویے میں تبدیلی آئے گی۔ پہلی تبدیلی تو یہ آہی چکی ہے کہ انہوں نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس کا اتحادی رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نئی صورتحال میں امریکہ اب پاکستان کو اپنا اتحادی تسلیم کرنے کیلئے انکاری ہے امریکہ پاکستان کو اقتصادی اور فوجی امداد دیتا رہا ہے اور اس کے علاوہ دہشتگردی کے خلاف پاکستانی فوج کے اخراجات کی ادائیگی بھی کرتا رہا ہے۔ ان سارے فنڈز میں بتدریج کمی ہوتی رہی ہے۔ رواں مالی سال میں بھی جو ستمبر میں ختم ہوگا جہاں امریکی امداد میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے وہاں پاکستانی فوج کے اخراجات کی ادائیگی کے لئے جو تخمینہ بنا تھا اس میں سے بھی امریکہ نے 35 لاکھ ڈالر کی کٹوتی کرنی ہے۔ نئی حکمت عملی کے اعلان کے بعد اس بات کا قومی امکان ہے کہ اکتوبر 2017ء سے شروع ہونے والے مالی سال کیلئے امریکہ نے کانگریس کو پیش کی جانے والی بجٹ تجاویز میں پاکستان کے لئے جو امداد مانگی ہے وہ اس پر بحث کے دوران رضا کارانہ طور پر اسے مزید کم یا ختم کردے۔اس وقت امریکہ کے 26 ایسے اتحادی ہیں جو نیٹو سے باہر ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے یا شامل تھا، صدر ٹرمپ کی تقریر کے مطابق تو غیر نیٹو اتحادی کا جو خصوصی درجہ پاکستان کو حاصل تھا وہ اب نہیں رہا۔ صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اس موقف کی وضاحت کرتے ہوئے زبان تو نرم استعمال کی ہے لیکن جو اشارے دیئے ہیں ان سے مستقبل میں پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کی توقع کی جارہی ہے، مبصرین کے مطابق اگر پاکستان کو غیر نیٹو اتحادی کا درجہ حاصل نہیں رہتا تو پھر امریکی کانگریس پاکستان کیلئے امداد منظور نہیں کرے گی۔ صدر ٹرمپ افغانستان میں اپنی فوج میں اضافے کی بات کرتے ہوئے طالبان سمیت اپنے مخالفین کو پیغام دے رہے ہیں کہ اب امریکہ افغانستان میں جنگ جیتنے کیلئے کارروائیاں کرے گا، افغانستان میں جنگ جیتنے کیلئے کارروائیاں کرے گا، افغانستان کو ’’قومی ترقی‘‘ پر توجہ دینے کی بجائے وہاں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے اقدامات کو ترجیح دے گا۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ افغانستان کو اب ’’خالی چیک‘‘ نہیں ملے گا اسے اپنے لئے خود بھی کچھ کرنا ہوگا، اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ کم از کم اس اقتصادی امداد میں کمی ضرور ہوگی اور امریکہ فوجی امداد میں نیٹو اور اتحادیوں کا حصہ بڑھانے اور اپنا بوجھ کم کرنے کی کوشش کرے گا، اس نئی پالیسی میں بھارت کو اہمیت دینے سے امریکہ کو کئی فائدے پہنچیں گے، صدر ٹرمپ نے اپنی ’’تاجرانہ‘‘ سوچ کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے تجارت میں اربوں ڈالر کا فائدہ اٹھا رہا ہے اس کا بدلہ وہ اس طرح چکا سکتا ہے کہ وہ افغانستان کے ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی ترقی کی ذمہ داری اٹھائے۔ بھارت اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ ساتھ افغانستان سے اپنی تجارت کو مزید فروغ دے گا اور اپنے مفادات کے مطابق وہاں پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کرے گا، آئندہ دور میں ایشیاء اور بحر الکاہل کے خطے میں امریکہ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا جو ارادہ رکھتا ہے اس میں اسے بھارت کی ضرورت پڑے گی اور افغانستان میں بھارتی کردار میں اضافے کی حوصلہ افزائی کے بعد بھارت بحرالکاہل کے خطے میں امریکہ کے ساتھ بخوشی تعاون بڑھانے کیلئے آمادہ ہوگا۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ اب خطے میں لازماً حملے کرے گا لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ حملے کب ہوں گے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب امریکی افواج افغان فورسز کے شانہ بشانہ طالبان اور دیگر شورش بندوں کے خلاف لڑے گی۔ شاید اس کا مطلب یہ نہیں ہے لگتا ہے کہ امریکی افواج اپنی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ افغان فورسز کے مورچوں کے پیچھے موجود رہ کر طالبان کی شکست کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی، امریکی حملوں سے غالباً مراد ڈرون حملے ہیں اور صدر ٹرمپ کے تازہ اعلان کے تناظر میں دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے کی طرح ایک مرتبہ پھر امریکہ پاکستان کی سرزمین کے اندر گھس کر حقامی نیٹ ورک اور افغان طالبان گروھوں کے ٹھکانوں پر زیادہ شدت سے براہ راست حملے کرے گا اور اس سلسلے میں پاکستانی فوج پر انحصار نہیں کرے گا۔صدر ٹرمپ کی نئی حکمت عملی پاکستان کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے جس کا سامنا حکومت سے زیادہ فوج اور فوج سے زیادہ اس کی انٹیلی جنس اداروں کو کرنا ہوگا، آئندہ ایک دو ہفتے پاکستان کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی سخت ترین پالیسی کا اظہار کرتے ہوئے دھمکیاں ضرور دی ہیں لیکن فی الحال تصادم کی راہ اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔ توقع ہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج بھی توازن کی پالیسی اپنائیں گے، 24 اگست کو اسلام آباد میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں توقع کے مطابق ایسی ہی جوابی حکمت عملی طے ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کی پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کیلئے پہلے سے موجود امریکہ کے دورے کی دعوت اب بہت اہمیت اختیار کرگئی ہے دونوں ملکوں کے تعلقات جو ایک بار پھر نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں انہیں زیادہ خراب ہونے سے روکنے کا یہ موقع دونوں ملکوں کو ملے گا، اس نمائندے سے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چودھری سے پوچھا تھا کہ صدر ٹرمپ نے نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پہ جو سنگین الزام لگائے ہیں ان کا جواب دینے یا نمٹنے کیلئے انہوں نے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم اپنا ’’پیپر ورک‘‘ تیار کررہے ہیں۔ اسلام آباد میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں مکمل جائزے کے بعد پالیسی گائیڈ لائن مرتب ہوگی جس کے ملنے کے بعد ہم ٹرمپ انتظامیہ سے رابطوں کا آغاز کریں گے۔ اس دوران وزیر خارجہ بھی واشنگٹن پہنچ جائیں گے، تو اعلیٰ سطحی رابطے بھی ہوجائیں گے۔پاکستانی سفیر نے بتایا یہ گائیڈ لائن ملنے کے بعد جب ایک جامع اور متحدہ رد عمل سامنے آجائے گا تو اس وقت امریکی انتظامیہ سے رابطہ کرکے ان سے امریکہ کی پاکستان کے بارے میں نئی پالیسی معلوم کی جائے گی اور پھر اس پر ھم اپنے تحفظات پیش کریں گے۔ پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آپ کو امریکہ کا شراکت دار سمجھتا ہے جو ایک مستحکم اور پر امن افغانستان کے قیام کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے استحکام اور امن سے پاکستان کے اپنے مفادات وابستہ ہیں۔ گزشتہ 38 برس میں افغانستان جس بحران سے دوچار ہے وہ پاکستان پر بھی بدستور اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔پاکستانی سفیر کہتے ہیں کہ افغان حکومت کی سربراہی میں امن مذاکرات کے ذریعے ہی دوبارہ افغانستان میں امن آسکتا ہے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کا جس کامیابی کے ساتھ سامنا کیا ہے اس کی مثال ملنا محال ہے اس کام میں حکومت اور فوج کو مکمل عوامی تائید حاصل ہے کیونکہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا صفایا کئے بغیر پاکستان میں ترقی مشکل ہے، پاکستانی سفیر نے واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان امریکہ سمیت تمام بین الاقوامی برادری کے ساتھ اس خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کی کوششوں کا تعمیری انداز میں کام کرنے کیلئے ہمیشہ تیار ہے۔پاکستانی سفیر کے خیالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی موجودہ جارحانہ پالیسی کے باوجود پاکستان مشتعل ہونے کی بجائے اعتدال کا راستہ ہی اختیار کرے گا، واشنگٹن کے ایک سکیورٹی مبصر نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان پر جو الزمات تواتر سے لگ رہے ہیں انہیں رد کرنے کی بجائے غور کرنے اور اصلیت جاننے کی ضرورت ہے کہ پتہ چل سکے کہ ان میں کتنی صداقت ہے، یہ الزامات اس لئے بھی لگ رہے ہیں کہ ماضی میں کسی مرحلے پر ان افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کی ہمدردیاں تھیں اور اب اگر پاکستان اور اس کی افواج سب دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کررہی ہے تو اسے اس کے شواہد فراہم کرنے ہوں گے، معاملے کو بگاڑ سے بچانے کیلئے ساری صورتحال پر کھل کر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی پالیسی

مزید : علاقائی