قومی وطن پارٹی کے رہنماء خورشید خان عمر زئی کمرہ عدالت سے گرفتا ر

قومی وطن پارٹی کے رہنماء خورشید خان عمر زئی کمرہ عدالت سے گرفتا ر

چارسدہ (بیورو رپورٹ) قومی وطن پارٹی کے رہنماء خورشیدخان عمر زئی کمرہ عدالت سے گرفتا ر۔ ڈسٹرکٹ سیشن جج نے ضماعت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی ۔ خور شید خان عمرزئی پر قتل و اقدام قتل اور دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق قومی وطن پارٹی کے رہنماء اور سابق صوبائی وزیر ارشد خان عمر زئی کے بھائی خورشید خان عمر زئی کو ڈسٹرکٹ سیشن جج کے عدالت سے گرفتار کیا گیا ۔ خور شید خان عمر زئی اورا ن کے بھائی ارشد خان عمر زئی پر 12جنوری 2013کو عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی وزیر بشیر خان عمر زئی کی گاڑی پر ریمورٹ کنڑول بم دھماکے کا الزام تھاجس میں بشیر خان عمر زئی کے ڈرائیور لیاقت علی جاں بحق جبکہ گاڑی میں سوار بشیر خان عمر زئی ، پولیس اہلکار عاصم ، ظفر علی خان اور نثار علی زخمی ہو گئے تھے ۔واقعہ کے حوالے سے بشیر خان عمر زئی کے بیٹے خلیل بشیر خان عمر زئی نے سابق صوبائی وزیر ٹیکنکل ایجو کیشن ارشد خان عمر زئی اور ان کے بھائی خور شید خان عمر زئی کے خلاف تھانہ عمر زئی میں قتل اقدام قتل اور دہشت گردی ایکٹ 302,148,149,427,3/4EXP کے تحت مقدمات درج کئے تھے۔ بعد ازاں ارشد خان عمر زئی نے مذکورہ مقدمات میں گرفتاری پیش کی اور چارسال طویل عدالتی جنگ کے بعد ڈسٹرکٹ سیشن جج منیرہ عباسی نے موصوف کو 31مئی 2017کو باعزت طور پر بری کر دیا تھا ۔ عدالت سے باعزت طو رپر بری ہونے کے بعد ارشد خان عمر زئی کے بھائی خورشید خان عمر زئی نے ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی جس میں 23اگست 2017کو تاریخ پیشی مقرر تھی ۔ ڈسٹرکٹ سیشن جج منیرہ عباسی نے خورشید خان عمر زئی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کردی جس پر پولیس نے ان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا ۔

 

مزید : کراچی صفحہ اول