شبقدر،واپڈا ہائیڈرو یونین کا تاجروں کی بد تمیزی کیخلاف ہڑتال کا اعلان

شبقدر،واپڈا ہائیڈرو یونین کا تاجروں کی بد تمیزی کیخلاف ہڑتال کا اعلان

شبقدر (نمائندہ خصوصی )شبقدر گزشتہ روز بازار میں واپڈا اہلکاروں کا غیر قانونی ٹرانسفارمر کے خلاف کاروائی اور واپڈا اہلکاروں کے ساتھ مقامی تاجروں کی بدتمیزی پر پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن نہ لینے اور پولیس کی جانب سے مجرمان کے خلاف ایف آئی آر نہ کاٹنے پر واپڈا ہائیڈرو الیکٹر ک یونین نے ہڑتال کا اعلان کر دیا جب تک پولیس مجرمان کے خلاف ایف آئی آر نہیں کرئے گی تب تک مکمل طور پر ہڑتال جاری رہے گا اس دوران اگر کسی فیڈر پر کوئی فالٹ آیا یا کوئی اور مسلہ پیش ایا تو اہلکاروں کی جانب سے کوئی کام نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی نا خوشگوار واقعہ کی تما م تر ذمہ داری مقامی پولیس پر ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق شبقدر واپڈا ہائیڈو الیکڑک لیبر یونین کے چیرمین فرہاد جنرل سیکرٹری حیال محمد وائس چیرمین شماد علی جواینٹ سیکرٹری خالد خان ڈپٹی جوائنٹ سیکرٹری عالم خان نے شبقدر میڈیا سنٹر کے صحافیوں کو تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز واپڈا اہلکار شبقدر بازار میں غیر قانونی طور پر لگائے گئے ٹرانسفارمر کے خلاف کاروائی کر رہے تھے جس پر شبقدر کے تاجروں نے واپڈا اہلکاروں پر تشدد کیا اور ان کی گاڑی کو یرغمال بنایا جس پر ہم نے مقامی پولیس کو واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر کے لئے درخواست دی جس پر پولیس تھانہ شبقدر نے سیاسی دباو کے باعث مجرمان کے خلاف تا حال کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی اور یہاں تک کہ مقامی تاجروں نے مذکورہ ٹرانسفارمر کی بجلی پولیس کی موجودگی میں پرائیویٹ شخص پر دوبارہ بحال کر دی انہوں نے کہا کہ ہم شبقدر واپڈا ہائیڈرو الیکڑک لیبر یونین نے اج سے مکمل ہڑتال کا اعلان کیا اور ہمارا ہڑتال تب تک جاری رہے گا جب تک شبقدر پولیس مجرمان کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کراتی انہوں نے کہا کہ اسی دوران اگر کسی بھی فیڈر پر کوئی فالٹ آیا یا کوئی دوسرا مسلہ پیش آیا تو واپڈا اہلکار ان کو حل نہیں کریں گے اور کسی بھی نا خوشگوار واقعہ کی تمام تر زمہ داری مقامی پولیس پر ہوگی انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختون خواہ اور آئی جی خیبر پختون خواہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شبقدر پولیس پر جاری سیاسی مداخلت کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے انہوں نے کہا کہ اگر مجرمان کے خلاف قانونی کاروائی نہ ہوئی تو ہم اپنا احتجاجی سلسلہ صوبہ بھر تک بڑھائے گے

 

مزید : پشاورصفحہ آخر