ملکی و پارلیمانی سیاست میں نوجوانوں کا کردار مسلمہ ہے ،طلباء یونینز پر پابندی ہٹائی جائے :میاں افتخار

ملکی و پارلیمانی سیاست میں نوجوانوں کا کردار مسلمہ ہے ،طلباء یونینز پر ...

پبی ( نمائندہ پاکستان )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے طلباء یونین پر پابندی فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو منفی سرگرمیوں اور رجحانات سے بچانے کیلئے واحد طریقہ یہی ہے کہ ان کی یونینز پر پابندی ختم کی جائے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں پختون ایس ایف کے زیر اہتمام داخلہ رہنمائی کیمپ کے دورے کے موقع پر طلباء اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے طلباء کی جانب سے نئے آنے والے طلباء کی رہنمائی کے جذبہ خیر سگالی کو سلام پیش کیا اور کہا کہ پختون ایس ایف نے کالجز اور یونیورسٹی میں نئے آنے والے طلباء کے استقبال کے حوالے سے تاریخ ہی بدل دی ہے جبکہ قبل ازیں نئے طلباء کا استقبال فولنگ کے ساتھ کیا جاتا ہے، انہوں نے اس عظیم کاوش پر طلباء کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ طلباء کی جانب سے مثبت روایت کی بنیاد رکھنے پر دلی طور پر خوشی محسوس کر رہا ہوں ، انہوں نے کہا کہ اس روایت سے جہاں ادب و احترام کا جذبہ پیدا ہوا ہے وہاں طلباء کی تعلیم کے ساتھ محبت میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ داخلہ رہنمائی کیمپ کے اجراء سے طلباء نے باچا خان بابا کے فلسفہ پر عمل پیرا ہو کر خدائی خدمت گاری کی مثال قائم کر دی ہے جو مستقبل کیلئے نیک شگون ہے،اور پختون ایس ایف کی تقلید کرتے ہوئے باقی طلباء تنظیموں نے بھی اس قسم کی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں،انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس اہم ایشو پر فوری طور پر توجہ دے گی اور طلباء یونینز پر پابندی ہٹا کر انہیں اپنی سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کے مواقع فراہم کرے گی، انہوں نے کہا کہ ملکی اور پارلیمانی سیاست میں نوجوان نسل کا انتہائی اہم کردار رہا ہے اور نوجوان ہی اس ملک کا اصل سرمایہ ہیں جنہوں نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ یونیورستی کی مثال ایک نرسری کی ہے جہاں سے مستقبل کے پایہ کے سیاستدان میدان عمل میں آتے ہیں لہٰذا مصلحت سے بالاتر ہو کر انہیں اپنی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ طلباء کو تعلیمی درسگاہوں میں درپیش مسائل بھی جوں کے توں ہیں اور ایک عرصہ سے مسائل حل نہیں ہو پارہے ، انہوں نے کہا کہ بہتا پانی ہی پاک و صاف ہوتا ہے اس لئے ان طلباء کے مستقبل کے حوالے سے فوری اور مثبت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ یونین پر بندش سے مسائل حل نہیں ہوتے البتہ طلباء کا رجحان منفی سرگرمیوں کی جانب زیادہ ہوتا ہیاور ان میں احساس محرومی کو جنم دیتا ہے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے قوت میں یہ طلباء اپنی تمام توانائیاں ملک کے روشن مستقبل کیلئے صرف کریں گے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی اپنا اور ملک کا نام روشن کریں گے۔اس موقع پر طلباء اور طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی

 

مزید : پشاورصفحہ آخر