پرائیویٹ سکول ریگولیٹری بل پاس کرنے پر مالکان کا اظہار اطمینان

پرائیویٹ سکول ریگولیٹری بل پاس کرنے پر مالکان کا اظہار اطمینان

پشاور( کرائمز رپورٹر)خیبرپختونخوا اسمبلی کی طرف سے پرائیویٹ سکول ریگولیٹری بل پرائیویٹ سکول مالکان نے اظہار اطمینان کیا ہے۔ سکول فار پروفیشنل سٹڈیز پشاور کے ڈائریکٹر کے مطابق اب پرائیویٹ سکول میں داخلہ کیلئے فیس کی ادائیگی کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔محترمہ ماریہ عماد ڈائریکٹر ایجوکیٹرز سکول پشاور نے کہا کہ بہن بھائیوں کی فیس میں 25% رعایت سے پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ کی شرح میں اضافہ ہوگا۔ عمران الدین کے مطابق اس بل سے والدین نے سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ اب پرائیویٹ سکول کی فیسیں نہایت معقول سطح پر ہیں۔ابرار ایک ادارہ میں ڈرائیور ہے ، وہ خوش ہے کہ اب میں نزدیک کے پرائیویٹ سکول میں اپنے بچوں کو داخل کراسکتا ہوں۔اس بل سے حکومت خیبرپختونخوا کا مقصد پرائیویٹ سکولوں میں درس، تدریس، تعلیمی ماحول خصوصاً فیس اور دیگر تعلیمی امور کوایک موثر نظام کے تحت لانا تھا۔ حکومت کا یہ اقدام نہایت مستحسن ہے۔ اب پرائیویٹ سکولوں میں بھی ایک ہی والدین کے بچوں کو فیس میں 25% رعایت، معیاری نصاب اور معیاری ماحول میسر ہوگا۔محکمہ تعلیم کا سیکریٹری اس ریگولیٹری اتھارٹی کا چیئرمین ہوگا۔ پرونشل فنانس، سیکرٹری انتظامیہ اس کے ممبر ہونگے۔ ریگولیٹری اتھارٹی کے ممبران کو اعزازی طور پر مالی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ اس بل کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ اور قید بھی ہوگی۔ بغیر اجازت ہائی سکول کھولنے پر 2 لاکھ روپے جرمانہ، ایک سال قید یا دونوں سزائیں۔ بلا اجازت پرائمری تا ماڈل سکول کھولنے پر 6 ماہ قید اور 50,000 روپے جرمانہ یا دونوں قوانین کی خلاف ورزی پر تین ماہ قید یا 20 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں، اس بل کے قوانین کی خلاف ورزی پر ایک ماہ قید اور دس ہزار روپے جرمانہ یا دونوں۔ان اصلاحات سے تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہونگی اور صوبہ بھر کے سکولوں میں درس و تدریس اور دیگر امور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر