تحصیل کونسل پبی کا اجلاس

تحصیل کونسل پبی کا اجلاس

پبی (نمائندہ پاکستان)تحصیل کونسل کا اجلاس زیر صدارت نائب ناظم ساجد لالا منعقد ہوا متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ تحصیل کونسل موجودہ ٹی ایم اوکے ہوتے ہوے ہمارا کوئی کام نہیں ہوسکتا ٹی ایم او ناظم کے ساتھ ملے ہوے ہیں جتنے قردادیں ہم نے پاس کیے ہیں اس پر کوئی کام نہیں ہوا ۔کونسل نے 2017/2018کا بجٹ مسترد کردیا بجٹ اجلاس پیر 28اگست کو طلب کردیا گیا تفصیلات کے مطابق تحصیل کونسل کا اجلاس زیر صدارت ساجد لالا منعقد ہوا اجلاس سے خطاب کرتے ہوے ارباب نورحسین نے کہا کہ ہم نے الیکشن عزت کے لیے کیا ہے اور ہم عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ہمارے آبا واجداد نے عوام کی خدمت کی ہے اور ہم بھی کر رہے ہیں ہمارا تحصیل تباہ ہو چکا ہے اپوزیشن کو بھی ساتھ چلنا چاہتے ہیں ناظم اورنائب ناظم ہم کو جواب دہ ہیں اور ہم عوام کواپوزیشن کے افتحاراور حیدر علی شاہ باچا نے کہاکہاچھا ہوا کہ حزب اقتدار کو یہ احساس ہو ا کہ اپوزیشن بھی منتحب ہوئے ہیں اور جو بجٹ پاس کیا گیا ہے اس میں کورم پورا نہیں تھا اور جو لوگ ممبران نہیں تھے ان سے دستحط لیے گئے ہیں وہ بجٹ نامنطور ہے انہوں نے کہا کہ ٹی ایم اواور ٹی ایم اے افسران بھی ہمارا مذاق اڑارہے ہیں جب بھی ہمارا اجلاس ہوتا ہے تو ناظم اور ٹی ایم او غیر حاضر رہتے ہیں ہم اپنا حق مانگنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرینگے نور حمان نے کہا کہ ہم تو کھلونا بن چکے ہیں نا ظم مرتضی الرحمان اور ٹی ایم او ملے ہوے ہیں اور جو مرضی ہو کرتے ہیں ٹی ایم او اویس خان کو فوری تبدیل کیا جائے محب اللہ شاہ نے کہا کہ تحصیل کونسل منفی میں جارہا ناظم اور نائب ناظم کونسل چلانے کے اہل نہیں ہے جب ضرورت پڑھتی ہے تو ناظم اور نائب ناظم کو مصیبت میں ممبران یاد آتے ہیں کونسل کے کنوینئرساجد لالا نے کہا کہ ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ بھی عوام کی ووٹوں سے منتحب ہوئے ہیں انکو بھی اپنا حق ملنا چاہیے میں نے دو سال قبل کہا تھا کہ انکو بھی فنڈ ملنا چاہیے متفقہ طور پر ریکوزیشن پاس کیا گیا کہ بجٹ اجلاس 28اگست کو طلب کیا جائے گا اور ناظم اور ٹی ایم او بھی اپنی شرکت کو یقینی بنائیں

مزید : پشاورصفحہ آخر