بلدیاتی نظام کو ناکامی سے دوچار کرنیوالے ملک کے خیر خواہ نہیں:آل ناظمین اتحاد

بلدیاتی نظام کو ناکامی سے دوچار کرنیوالے ملک کے خیر خواہ نہیں:آل ناظمین ...

ڈیرہ اسماعیل خان (بیورورپورٹ)بلدیاتی نظام کو ناکامی کیطرف دھکیلنے والے عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل ہونے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں صوبائی حکومت نے فوری نوٹس نہ لیا تو عید الالضحی کے بعدویلج اور نیبر ہڈ کونسلز کے حقوق کے حصول کیلئے '' بلدیاتی نظام بچاؤ '' تحریک کا آغاز کر دیں گے رہنما آل ناظمین اتحاد ۔ گزشتہ سال فنڈز میں کٹوتی اور امسال ماضی کی روایت برقرار رکھنے والے زبانی کلامی طور پر اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے دعوے کر رہے ہیں جن کی آل ناظمین اتحاد پرزور مذمت کر تا ہے۔ تفصیلات کیمطابق آل ناظمین اتحاد جو ویلج اور نیبر ہڈ کونسلز کے حقوق کے تحفظ کیلئے نہ صرف روز اول سے جدوجہد کر تا چلا آرہاہے بلکہ بلدیاتی نظام کو نقصان پہنچانے والوں کا مقابلے کرنے کا واحد فورم ثابت ہو ا ہے جس نے ایک مرتبہ پھر ویلج اور نیبر ہڈ کونسلز کے حقوق کے حصول کیلئے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آل ناظمین اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ بلدیاتی نظام ایک اچھا نظام ہے جس میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور عوام کے مسائل کا انکی دہلیز پر حل ہونے کے اسباب موجود ہیں مگراس نظام کو چلنے نہیں دیا جارہاہے۔ حکومت سے باہر اس نظام کے مخالف عناصر کے علاوہ صوبائی حکومت کے اندر موجود عناصر بھی اس نظام کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ اتحاد کے رہنماؤں کا مذید کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی اتحادی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو بلدیات مخالف قوتوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرنی چاہئے بلکہ بلدیاتی نظام کو اپنے خطوط پر مضبوطی سے چلانے کے اقدامات اٹھانے چاہئیں مگر ایسا نہیں ہورہا ہے۔ گزشتہ سال 60% فیصد کم فنڈز ویلج اورنیبر ہڈ کونسلز کو فراہم کئے گئے تھے اور جو % 40 فنڈز فراہم کئے گئے تھے وہ بھی بلدیاتی نمائندوں کی چیخ و پکار کے باعث ممکن ہوئے تھے۔ امسال بھی یہ بازگشت سنائی دی جارہی ہے کہ فنڈز ماضی کے حساب سے ملیں گے جس سے صاف ظاہر ہے کہ بلدیاتی نظام کو خود وہ لو گ نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں جنہوں اس کی داغ بیل ڈال بلند و بانگ دعوے کئے تھے اور عوام کو یقین دلایا تھا کہ ان کے مسائل انکی دہلیز پر حل ہو نگے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن کو ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ویلج کونسل کے امور چلانے کیلئے بلدیاتی نمائندوں کو کوئی تربیت نہیں دی گئی لہذا بلدیاتی نمائندوں کو کیلئے مناسب تربیتی پروگرام شروع کیا جائے ، آبادی کیمطابق ہر ویلج اور نیبر ہڈ کونسل کو گزشتہ سال اور رواں سال کا فنڈ فراہم کیا جائے، کونسلرز کا اعزازیہ3500 روپے فی کونسلر مقر رکیا جائے، سیشن الاؤنس 200 روپے سے بڑھا کر 500 روپے کیا جائے، ناظمین اور نائب ناظمین کا اعزازیہ 130% بڑھایا جائے، انٹر ٹینمنٹ اور ٹیلی فون الاؤنس میں50% ا ضافہ کیا جائے، سرکاری اداروں کا رویہ بلدیاتی نمائندوں کیساتھ نامناسب ہے اس کا نوٹس لیا جائے، ویلج اور نیبر ہڈکونسلز کی انکوائری رپورٹ پر ناظم کی سفارش پر فوری کاروائی کی جائے۔پراجیکٹس کمیٹیوں کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جائے ، این جی اوز کو ہر ویلج اور نیبر ہڈ کونسلز کی مشاورت کا پابند کیا جائے۔ آل ناظمین اتحاد کے رہنماؤں نے زور دیکر کہا کہ حکومت بلدیاتی نمائندوں اور بلدیاتی نظام کا مذاق اڑا رہی ہے اگر عیدالالضحی کے بعد ان کے مطالبات پر تسلیم نہ کیا گیا تو وہ ویلج اور نیبر ہڈ کونسلز کے حقوق کے حصول کیلئے زور دار ''بلدیاتی نظام بچاؤ '' تحریک شروع کر دیں گے۔ جس میں دھرنے بھی دئیے جائیں گے، احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے اور آخری مرحلے پر صوبائی حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور یہ تحریک ایک مرتبہ پھر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے شروع ہو گی تو جنوبی اضلاع سے ہوتی ہوئی پورے صوبے میں پھیل جائے گی جس کا منصوبہ دیگر اضلاع کے بلدیاتی رہنماؤں کیساتھ گفت و شنید کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر