جنوبی پنجاب میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، وولٹیج کمی کا خاتمہ نہ ہوسکا

جنوبی پنجاب میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، وولٹیج کمی کا خاتمہ نہ ہوسکا

ملتان (سٹاف رپورٹر)ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ‘وولٹیج کی کمی اور ٹرپنگ کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ مرمت و بحالی کے کام کے نام پر کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن گئی۔ صارفین احتجاج کرکرکے تھک ہار گئے ۔ میپکو کے جنرل منیجر نے نے77فیڈرز پر 14گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا اعتراف کرلیا۔ ملتان سمیت میپکو ریجن میں بجلی کا بدترین بحران جاری ہے ۔چند ماہ قبل سابق وزیر اعظم نواز (بقیہ نمبر47صفحہ12پر )

شریف نے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نصف کرنے کا اعلان کیا لیکن اس پر عملدرآمد نہ کرا سکے اور الٹا لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا۔ رمضان المبارک میں بھی شدید لوڈشیڈنگ کی گئی ۔ وزارت پانی و بجلی کے احکامات کے برعکس تراویح اور افطاری کے اوقات میں بھی بجلی بند کرکے روزہ داروں کو اذیت دی گئی ۔بجلی و پانی کے وزیر عابد شیر علی نے ملتان کے 2بار دورے کئے اور اس شہر کو لوڈشیڈنگ فری قرار دیا لیکن اس اعلان پر وہ عملدرآمد نہیں کرا سکے جس کے باعث عوام اذیت میں مبتلا ہیں ۔میپکو ریجن میں 16گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ۔ 14گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا اعتراف تو میپکو کے جنرل منیجر آپریشن انجینئر سرفرازاحمد ہراج نے بھی کرلیا ہے جن کا کہنا ہے کہ میپکو ریجن کے زیر انتظام علاقوں میں 77ہائی لاس (زیادہ نقصانات ) فیڈرز ہیں جہاں بجلی چوری اور لاسز 40سے 80فیصد تک ہیں۔ وہاں 8سے14گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ۔ فیڈرز کالاس کنٹرول نہ کرنا نااہلی اور سنگین غفلت کے ذمرے میں آتا ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وفاقی وزیر پانی وبجلی عابد شیر علی سے مطالبہ کیا ہے کہ میپکو کے افسران کی نا اہلی کا نوٹس لیاجائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر