فیض بخشاپوری کی یاد میں’’ سیمینار‘‘اور’’ محفل مشاعرہ‘‘ کا انعقاد

فیض بخشاپوری کی یاد میں’’ سیمینار‘‘اور’’ محفل مشاعرہ‘‘ کا انعقاد

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام غالب سندھ شاعرفیض بخشاپوری کی یاد میں’’ سیمینار‘‘اور’’ محفل مشاعرہ‘‘ کا انعقاد اکادمی کے کراچی دفتر میں کیا گیا جس کی صدارت ممتاز شاعر،ادیب پروفیسر سحرانصاری نے کی، مہمانان خاص حیدر آباد سے آئے ہوئے سندھی زبان کے نامور ادیب قلندر بخش لکیاری اور اردو کے نامور شاعرمنظر ایوبی تھے ۔جبکہ مہمان اعزازی ٹھٹہ سے آئے ہوئے رسول بخش تمیمی ،حیدرآباد سے آئے ڈاکٹر عابد لغاری تھے۔ صدر محفل سحرانصاری نے اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ فیض کی شاعری فطرت کی ترجمانی کرتی معلوم ہوتی ہے۔ خصوصاً فیض کی انفرادیت مخصوص رنگ ، جدت ترازی، سوزوگداز،خصاصت ، چشتی الفاظ اور ریشم جیسی ملائم بحروں کی صحبت نے شاعری کو ایک نئی زندگی ایک نیا روپ اور ایک نیا حسن بخشاہے۔ موجودہ زمانہ شاعری روحِ غالب اور میر سے خراج لے رہی ہے۔ قلندر بخش لکیاری نے کہا کہ سرزمین بخشاپوری نے ایک ساحر پیدا کیا ہے جس نے ساحری کو شاعری کے سانچے میں ڈھال کر کیف و سرور کی ایک فضا سوزوگداز کی ایک نئی دنیا اور شعلہ و بشم کا ایک نیا جہاں تخلیق کیاہے ۔ یہ ساحر یہ عظیم شاعر اور جدید صنف شاعری کا خالق غالب سندھ فیض بخشاپوری ہے۔ جس نے اپنی شاعری سے ثابت کیاہے کہ روح غالب ان کے اشعار کے پردے میں گنگناتی نظر آتی ہے۔منظر ایوبی نے کہا کہ شہنشاھ تغزل غالب سندھ حضرت فیض بخشاپوری کی ہمہ گیر شخصیت محتاج تعارف نہیں فیض صاحب شعر کبھی سوچ اور فکر کے نہیں کہتیاسی لئے آپ کا کلام مجاز سے بلاتر ہوکر حقیقت پرمبنی ہوتا ہے۔ آپ سندھی اردو فارسی بلوچی وغیرہ زبانوں میں شعرکہتے ہیں اورہرزباں میں اندازبیاں اورطرز سخنیکساں ہے۔ عابد لغاری نے کہا کہ حضرت فیض کا حلقہ تلامزہ معتقدین نہیایت وسیع ہے بعض شعراء نے تو آپ کو شعرو سخن کا مجتہد اور رئیس المتغزلین بھی کہا کہ آپ اپنے طرز کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔ روزنامہ اوصاف کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ابرار بختیار نے کہا کہ فیض صاحب کے کلام کے دلدادہ اور آپ کی قدر منزلت کرنے والے عالی مرتبت شعراء کرام میں مرحوم سید سردار علی شاھ ذاکر، ڈاکٹر شیخ محمد ابراھیم خلیل اور مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ بھی شامل ہیں۔ شعراء اردو میں حضرت جوش ملیح آبادی ، سراج الدین ظفر ، بہزاد لکھنوی، ماہر القادری ، احسان دانش، شورش کاشمیری، راغب مرادآبادی، کوثر نیازی، آغا صادق اور عبدالرحمن غورآپ کے مداح ہیں رونق حیات فیض بخشاپوری نے اپنے کلام کے ذریعے علم و ادب شعرو سخن کے ساتھ ملک و ملت اور اسلام کی خدمت کی کوشش کیہے ۸۲ سال تک آپ جمعیت الشعراء سندھ کے نائب صدر اول رہا۔جبکہ مخدوم طالب المولیٰ جمعیت کے صدر رہے ۔ اس درویش کو قدر شناس اور نکتہ و شعراء کرام نے شہنشاہ تفزل اور غالب سندھ کے القاب سے نوازہ ہے لیکن اس پر ناز نہیں خدمات پر ضرور ہے آپ کو شمس الدین بلبل کا پہلا ایوارڈ شاھ لطیف ادبی کانفرنس تنظیم فکر و نظر سکھر اور چوتھا صدارتی ایوارڈ اسلام آباد میں حاصل ہوا ۔اس موقع پر ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ شہنشاھ تغزل غالبِ سندھ فیض صاحب کا نام فیض اللہ خان اور تخلص فیض بخشاپوری ہے۔ والد کا نام مصری خان ہے یہ ممتاز بلوچ قبیلہ ڈومکی سے تعلق رکہتے ہیں بقول مولائی شیدائی بلوچ قوم کے اس ممتاز قبیلے کو شاعری ورثہ میں ملی ہے۔اس قبیلے میں ہر دور میں ملک المشعراء جام درک کی طرح قادر کلام شاعر پیدا ہوئے ہیں فیض صاحب شعر کبھی سوچ اور فکر کرکے نہیں کہتے اس لئے آپ کا کلام مجاز سے بلاتر ہوکر حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ سندھ کی مٹی یقیناًعقیدت کے قابل ہے کہ جس نے جہاں شاعری کو ایسا پیارا ایسا انوکھااور ایسا مخلص عظیم شاعر عطاکیا۔آخر میں مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ جن شعرا ء کرام نے کلام پڑھا ان میں منظر ایوبی، رونق حیات،ابرار بختیار،زیب النساء زیبی،سیف الرحمن سیفی، قمر جہاں قمر،عرفان علی عابدی، عشرت حبیب،ڈاکٹر نزہت عباسی، نواز علی نواز،افروز رضوی، سلطان مسعود شیخ، اقبال سہیوانی،الطاف آثیم،سید غفور تقوی، سجاد میراٹی،اقبال رضوی، کاشف علی ہاشمی، غازی بھوپالی، سید صغیر احمد جعفری، صبیحہ صبا ،ریحانہ احسان،شاکر علی، گوہر فاروقی،تنویر حسین سخن،طاہرہ سلیم سوز، شاہینہ فلک صدیقی، عبدالصمد تاجی، مسعود اختر، پروفیسر محمد رفیق ملک، شہناز رضوی،ڈاکٹر لبنیٰ عکس،محمد علی زیدی، زارا صنم،آغا ناصر، کشور عدیل جعفری، جمیل ادیب سید ، دلشاد احمد دہلوی،محمد عارف قریشی، نے اپنا کلام سُنا کر فیض بخشا پوری کی عظمت کوخراج تحیسن پیش کیا۔نظامت ڈاکٹر نزہت عباسی نے کی۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیا ت پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر