ٹرمپ کی پاکستان پر تنقید ن لیگی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے :سردار عتیق

ٹرمپ کی پاکستان پر تنقید ن لیگی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے ...

مظفرآباد(بیورورپورٹ)صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو جو ہمالیہ جیسے شخص تھے مسلم کا نفرنس کو ختم نہیں کر سکے نواز شریف کیا ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی اور پاکستان پر تنقید نواز حکومت کی چار سالہ ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ نواز لیگی آئین پاکستان میں ترامیم کی آڑ میں ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ پاکستانی قوم کا نواز شریف سے سوال ہے کہ آپ کے دور حکومت میں پاکستان سے 14ارب ڈالر ہندوستان کیوں منتقل ہوئے۔ مسلح افواج نے ہر مشکل وقت میں کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ اہل کشمیر اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ امریکی پالیسی کے بعد چین کا عالمی برادری سے مطالبہ کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا اعتراف کرے قابل تحسین ہے۔ امریکہ اور ہندوستان کے چھے سو پچاس ملین ڈالر، ہیلی کاپٹر کے خرید منصوبہ کے عوض حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینا ناانصافی ہے۔ کشمیری ستر سال سے حق خود ارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اور ہندوستانی دہشت گرد فورسز نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔ اقوام عالم کو دوہرا معیار ترک کر کے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وستم کا نوٹس لینا ہوگا۔ وزیر اعظم فاروق حیدر کا حلف کی خلاف ورزی سنگین جرم ہے کشمیر کا بچہ بچہ الحاق پاکستان پر کٹ مرے گا۔ نواز حکومت نے اکیس جولائی 2016 کو عوامی حقوق پر ڈھاکہ ڈالا۔ ن لیگ کی آزاد کشمیر میں بننے والی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ شریعت کورٹ جیسے ادارے ختم کیے جار ہے ہیں۔ اڈہاک اور عارضی ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ بعض محکموں کے ملازمین تنخواہوں کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ وزیر اعظم انفراسٹریکچر پروگرام سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار انھوں نے نیلہ بٹ کے مقام پر تکمیل پاکستان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کنونشن سے اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یٰسین ، ممبر قومی اسمبلی ریاض فتحیانہ ، حریت رہنماء داؤد خان، چیئرمین تحریک نوجوانان عبداللہ گل، ممبر ان اسمبلی ملک نواز ، صغیر چغتائی، سابق وزراء راجہ محمد یٰسین ، دیوان چغتائی، مہرالنساء، شمع ملک، مرزا شفیق جرال، مفتی منصور، سردار الطاف، غلام رضا نقوی، مسلم کانفرنس رہنماؤں وحید الحق ہاشمی، چوہدری فیض ایڈووکیٹ، چوہدری شوکت علی، الیاس بٹ، سردار حبیب خان، سردار کمال خان، عبدالرشید چغتائی، ملک سجاد ضیاء، سردار طاہر انورایڈووکیٹس سردار اظہر نذر، سردار منظور ایڈووکیٹ، سردار مختار عباسی، چوہدری خضر ، میر عتیق ، میجر خضر، راجہ خورشید، و دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ سردار عتیق احمد خا ن نے کہا پاکستان بیت المال نہیں کہ کوئی اسے ہڑپ کر لے۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور بیس کروڑ عوام مشکل وقت میں اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آزادکشمیر کے اس خطے کو نظریاتی طور پر مضبوط رکھنا اور اُس کا پاکستان کے ساتھ تعلق کو مضبوط رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ ماضی میں روس نے افغانستان میں شکست تسلیم کھائی کے وہاں کے عوام اس کے ساتھ نہیں تھے۔ مغربی پاکستان عوامی حمایت نہ پر بنگلہ دیش کی صورت میں الگ ملک بن گیا۔ مسلم کانفرنس کے مردو ذن کے جذبے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسلم کانفرنس کے متبادل کوئی قوت موجود نہیں ہے۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آزادکشمیر کے وزیر اعظم کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں کہ وہ یہ بات کہیں کہ میں کس کیساتھ الحاق کروں یہ مینڈیٹ صرف مسلم کانفرنس کے پاس ہے۔ جو پاکستان بننے سے قبل غازی ملت کی رہائش گاہ میں قرارداد الحاق پاکستان منظور کر کے مسلم کانفرنس نے حاصل کیا تھا۔ فاروق حیدر کی سیاسی عمر سات سال ہے۔ اگر شخصیات کی بات ہوتی تو پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح سے کوئی انسان نہیں تھا۔ نواز شریف سے تو پاکستان میں بڑے بڑے لوگ موجود ہیں۔ ہندوستان نے سرجیکل سٹرائیک کی بات کی تو جنرل راحیل شریف نے جواب دیا کہ اگر ہندوستان نے ایسی غلطی کی تو وہ اپنی تاریخ نصاب میں پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ۔انھوں نے کہا کہ میاں نواز شریف آج پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا گیا میں سوال کرتا ہوں کہ انھیں کیوں رکھا گیا ۔ ایک شخص پاکستان کی تاریخ سے ناواقف ہے گیاری میں پاکستانی فوجی شہید ہوتے ہیں تو میاں نواز شریف سیاہ چین سے فوجیں پیچھے ہٹانے کی بات کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس کو ریاستی جبر کے ذریعے سے اقتدار سے تو الگ کیا جا سکتا ہے لیکن عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر