قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 49

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 49
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 49

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ پروڈیوسر موہن کمار کے دعوت تھی جو میرے بڑے دیرینہ دوست پروڈیوسر اور ڈائریکٹر جے اوم پرکاش کے برادر نسبتی ہیں۔ انہوں نے یہ پارٹی بمبئی کے ایک بڑے ہوٹل سنتور میں دی اور کوشش یہ کی کہ فلم انڈسٹری کا ہر وہ آدمی جو بمبئی میں موجود ہے اس پارٹی میں آنے سے رہ نہ جائے۔ چنانچہ فلم پروڈکشن کے لوگوں کا ایک دریا امڈ آیا تھا اور صرف وہی آدمی نہیں آئے تھے جو بمبئی میں موجو د تھے ۔ اس دعوت میں کم و بیش ساڑھے تین یا چار سو آدمی موجود تھے۔ اس دعوت کے ٹھاٹھ یہ تھے کہ سب سے پہلے تو بمبئی کی ریت کے مطابق پینے کا اہتمام کیا گیا تھا کیونکہ وہاں کوئی پارٹی اس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جاتی جب تک اس میں پینے کا انتظام نہ ہو۔ اس کے بعد گانے کا انتظام تھا جس میں کچھ لوگوں نے میری غزلیں اور گیت گائے۔ ان میں نابینا گلوکار رویندر خصوصاً قابل ذکر ہیں جنہوں نے یہ کہہ کر غزل سنائی کہ جب میں فلم انڈسٹری میں داخل ہوا تھا اور سنگر بننا چاہتا تھا تو میں نے قتیل صاحب کو یہ غزل ٹرائل کے طور پر سنائی تھی ۔ انہوں نے غزل سنا کر سماں باندھ دیا۔ وہ جتنے اچھے کمپوزر ہیں اتنی اچھی آواز بھی ہے۔ اللہ کی دین ہے کہ بعض آنکھوں والے اندھے ہوتے ہیں اور بعض اندھوں کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ رویندر کی محبت کو میں اب تک یاد کر رہا ہوں اور ان کی تصویریں بھی سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ میرے ساتھ میرا بیٹا بھی ہے اور اسے بھی موسیقی سے شغف ہے تو انہوں نے خاص طور پر خواہش ظاہر کر کے اس کے ساتھ تصویر بنوائی۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 48  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میوزک پروگرام کے بعد مشاعرہ ہوا تو اس میں تمام نامور شاعروں کو اور فلم اور ادب سے تعلق رکھنے والے میرے دوستوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ سب نے اپنا اپنا کلام سنایا حتیٰ کہ نوشاد صاحب‘ کیفی اعظمی اور مجروح سلطانپوری بھی اس میں بطور شاعر شریک ہوئے تھے ۔ حسن کمال نے بڑی خوبصورتی سے اس میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے ۔ اس درمیان میں میں نے دیکھا کہ ایک آدمی دور دروازے سے بھاگتا ہوا چلاآرہا ہے۔ وہ قریب آیا تو دیکھا کہ یہ فلمسٹار پران تھے ۔ وہ آتے ہی سامنے بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر بعد انہوں نے کہا ’’پروگرام چلتا رہے گا مگر میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں راجستھان میں شوٹنگ کر رہا تھا۔ وہاں مجھے معلوم ہوا کہ قتیل صاحب کے اعزاز میں تقریب ہے اور اس کے لئے مجھے بھی دعوت ہے ۔ اگر دعوت نہ بھی ہوتی تو پھر بھی میں یہی کرتا۔ میں وہاں سے بذریعہ سڑک چلا اور گھر جانے کی بجائے سیدھا یہا ں آگیا ہوں۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں تھکا ہوا ہوں اور میرے لئے ایک پیگ لاؤ۔ پیگ لگا کر انہوں نے کہا کہ اب میں ایک گیت سناؤں گا‘‘چنانچہ انہوں نے وہی گیت ’’کہ گھنگرو ٹوٹ گئے ‘‘ نرت کے ساتھ تحت اللفظ سنایا۔ مجھے اس گیت کا وہاں جو مزا آیا وہ کسی گانے والی کی میں نہیں آیا۔ پھر جب وہ بیٹھے بیٹھے پورے موڈ میں آگئے تو جب بھی کوئی موقع آتا تھا تو سو کا نوٹ میرے سر سے وار کے بیروں کی طرف پھینک دیتے تھے۔

یہ ایسی باتیں ہیں جو بھلائی نہیں جا سکتیں۔ یہاں ایک یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ مجلس کے شروع ہونے سے پہلے مجھے ایسی جگہ بٹھایا گیا تھا جہاں سے سب کو گزر کر آنا تھا۔ جو آتا تھا باری باری مجھ سے ہاتھ ملا کر گزرتا تھا اور اس کی ایک تصویر لی جاتی تھی۔ اس طرح ایک اتنا البم بن گیا جس سے سینکڑوں تصویریں ہیں اور یہ زندگی کی بہترین یاد گار یں ہیں جواب بھی میرے پاس پڑی ہوئی ہیں۔

اس تقریب میں راج کپور صاحب کا ایک پیغام موصول ہوا کہ مجھے ضرور آنا تھا مگر میں بیمار ہوں۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ وہ اس دعوت میں موجود نہیں ہیں اور میری نظر میں وہ بمبئی کے بڑے لوگوں میں سے ایک تھے اور میں چاہتا تھا کہ وہ بھی آئیں۔ لیکن پیغام آنے کے بعد صورتحال واضح ہو گئی۔ وہ دراصل دمہ کے مریض تھے۔ ان کے علاوہ امیتابھ بچپن بمبئی میں موجود نہیں تھے۔

دیو آنند آئے تودور سے انہوں نے آواز دی کہ قتیل صاحب ہم آپ سے معافی چاہتے ہیں کہ ہم نے آپ کی غزل مار لی۔ میری ایک غزل تھی۔

تم پوچھو او ر میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کو ئی بات نہیں

یہ غزل ان کے شاعر نے ذرا سی تبدیلی کر کے اپنی فلم میں رکھی ہوئی تھی۔ میں اس بات کو محسوس کیے ہوئے تھا۔ دیو آنند نے جب یہ کہا تو مجھے ان پر بڑا پیار آیا ۔ وہ آکر مجھ سے گلے ملے تو میں نے کہا ’’ دیو جی آپ جو کچھ مجھ سے کہہ چکے ہیں اس کے بعد تو میرا جو کچھ بھی ہے وہ مارنا تو کیا آپ حق کے طور پر لے سکتے ہیں‘‘

ان سے میرے اچھے تعلقات بن گئے۔ اور پھر جب میں دوبارہ انڈیا گیا تو ان سے پروگرام یہ بنا تھا کہ اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان کبھی کوئی پروڈکشن ہوئی تو ہم مل کر فلم بنائیں گے ۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ جب آپ دوبارہ یہاں آئیں اور میری کوئی فلم شروع ہونے والی ہو تو اس کے پورے گانے لکھ دیں ۔ یوں ان سے تعلقات بن گئے۔

بمبئی میں دیو آنند کے بھائی چیتن آنند کا میں اس وقت سے معترف تھا جب انہوں نے ’’نیچانگر ‘‘ بنائی تھی۔ وہ زمانہ سٹیج کے انداز کی بڑی تصنع والی فلمیں بنانے کا تھا۔ انہوں نے حقیقت کے بڑا قریب رہ کر نچلے طبقے کے متعلق یہ آرٹ فلم بنائی تھی۔ مرحوم رفیع پیرزادہ نے اس میں ولن کا بہت خوبصورت کردار ادا کیا تھا۔ یہاں حمید اختر صاحب ہیں ۔یہ بھی اس میں داڑھی لگا کر ایک کریکٹر کر چکے تھے۔

اتفاق کی بات ہے کہ انہیں تھوڑی سی دمے کی شکایت تھی اور وہ بابا بہادر شاہ کے مریض تھے ۔ بابا بہادر شاہ کے ہاں کہیں میرا ذکر چل نکلا تو انہوں نے کہا کہ میں تو قتیل صاحب کو بہت پسند کرتا ہوں۔ انہوں نے مجھے خط لکھا تو میں نے جواب دیا کہ ان سے کہیے کہ میں ان سے پہلے سے انہیں پسند کرتا ہوں۔ اور ’’نیچا نگر ‘‘ سے ان کا فین ہوں ۔ پھر ان کے ساتھ خط و کتابت ہوتی رہی۔

خط و کتابت سے قربت ہو گئی۔ جب میں بمبئی گیا تو ان کی فلم ’’قدرت ‘‘ بن رہی تھی۔ انہوں نے مجھے دعوت میں چائے پر بلایا اور کہنے لگے ’’ میرا ارادہ تو تھا کہ اپنی اگلی فلم انارکلی میں آپ کو زحمت دیتا۔ لیکن اب اس فلم میں ایک الجھن پڑی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں ایک تھیم سانگ ہے ۔ وہ کئی شاعر لکھ چکے ہیں لیکن میری مرضی کا نہیں آیا ۔ شاعر بات سمجھ نہیں پار ہے۔ اگر آپ محسوس نہ کریں تو اس کا ایک یہ والا گانا سردست مجھے لکھ دیں۔ وہ انار کلی والا سلسلہ تو ہے کہ اس کے گانے آپ ہی لکھیں گے‘‘

میں نے پوچھا کہ ’’قدرت ‘‘ کے گانے کون لکھ رہا ہے تو کہنے لگے ’’ مجروح سلطانپور ی لکھ رہے ہیں‘‘

میں نے کہا ’’ اصولاً تو یہ ہے کہ آپ ان سے مجھے کہلوادیں‘‘

کہنے لگے ’’ انہیں پیسے دے دیئے گئے ہیں۔ وہ لکھ نہیں پائے تو ان کے بعد ہم نے فاضلی صاحب سے کہا۔ ندا فاضلی بھی بات تک نہیں پہنچ پائے۔ ان کے بعد کسی اور کو بھی کہا تھا اور اب آپ چوتھے آدمی ہیں۔ اس لئے اجازت لینے کا مرحلہ تو گزر چکا ہے ‘‘ ان کی بات ٹھیک تھی۔ میں سمجھ گیاکہ معاملہ کیا ہے ۔ کیونکہ شاعر سیچوئیشن کی تہہ تک پہنچ جائے پھر تو وہ لکھ لیتا ہے ورنہ مشکل ہوتی ہے۔

میں نے انہیں گیت لکھ کر دیا۔ اور یہ ٹیون بننے کے لئے موسیقار آر ڈی برمن کے پاس چلا گیا۔ اس کے بعد ایک طوفان مچ گیا اور پتا چلا کہ مجروح سلطانپوری صاحب کو اعتراض ہے کہ قتیل صاحب تھیم سانگ کیوں لکھ رہے ہیں ۔ ہمارا کریڈٹ خراب کر دیاہے۔ میں نے سوچا کہ میں کس مصیبت میں پڑ گیا ہوں۔ اچھا خاصا دوست تھا اور اب اسے شکایت پیدا ہوئی ہے۔

آنندصاحب نے میرے سامنے فون کیا اور کہا کہ کیا معاملہ ہے ۔ تو مجروح سلطانپوری صاحب نے کہا ’’ قتیل صاحب کو ہم سے پوچھنا چاہیے تھا‘‘

انہوں نے کہا’’ بات تو آگے نکل چکی ہے اور آپ نے سارا معاوضہ لے لیا ہے‘‘

کہنے لگے ’’پھر بھی انہیں پوچھنا چاہیے تھا اور ہم یہ دوستی میں کہہ رہے ہیں ‘‘ میں نے اشارہ کیا اور انہوں نے کہا ’’ اچھا بھئی وہ آپ سے اجازت لے لیں گے۔ جب آئیں گے تو میں انہیں کہہ دوں گا‘‘

تھوڑی دیر کے بعد میں نے انہیں فون کر کے کہا ’’ مجروح صاحب میں نے تو ان سے بہت سی باتیں پوچھ لی تھیں لیکن اس کے باوجود اگر آپ کو شکایت ہے تو میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔ اگرآپ کو اعتراض نہ ہو تو وہ گانا دے دوں‘‘

کہنے لگے ’’ اچھا ہم سوچ کر کل بتائیں گے‘‘

دوسرے دن میں نے پوچھا تو کہنے لگے ’’ آپ اس شرط پر گانا لکھیں گے کہ وہ مجھے مزید ایک گانے کے پیسے دے دیں‘‘

میں نے کہا ’’یہ تو آپ کا اور ان کا معاملہ ہے‘‘ اب دوسری طرف یہ بات ہے کہ انہی مجروح سلطانپوری صاحب نے میرا گیت گھنگرو ٹوٹ گئے‘ یہی مکھڑا رکھ کے اور آگے تھوڑی سی تبدیلی کر کے استعمال کیا تھا اور فلم ’’دھرم کانٹا ‘‘ کیلئے یہ کام کر چکے تھے۔ انہوں نے میری اجازت کے بغیر ایسا کیا تھا۔ اور جب یہ گانا فلم میں آچکا تھا تو اس کے بعد حمید اختر کہیں بمبئی گئے اور انہوں نے کہا ’’ یہ تو قتیل صاحب کا گیت ہے ‘‘تو کہنے لگے ’’ان سے کہنا کہ ہمارے پروڈیوسر نے تمہارے گھنگرو ہمارے سر میں مار دیئے اور اور اب تم اس کا سکینڈل نہ بنا لینا‘‘ پھر بھی میں نے انہیں خط میں لکھا تھا کہ آپ نے کر لیا ہے تو اب کوئی بات نہیں۔

میر ے گیت سے تو انہوں نے پہلے پیسے کمائے اور اب جب میں اپنا گیت لکھ رہا تھا تو انہیں اعتراض ہو رہا تھا۔ بہر حال چیتن آنند نے کہا ’’ ان کی بات بڑی بیہودہ ہے۔ ہم انہیں پہلے سب گانوں کے پیسے دے چکے ہیں اور اب گیت آپ لکھیں اور ہم انہیں گیت کے اور پیسے دیں‘ یہ غلط ہے ۔ ہم کوئی پیسہ انہیں نہیں دیتے۔ آپ گیت ریکارڈ ہونے دیجئے۔‘‘(جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے