وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر51

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر51
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر51

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس بار کشتی دیکھنے والوں میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ سردار سکندر حیات اور خضر حیات بھی کشتی دیکھنے والوں میں شریک تھے۔ یہ کشتی ہندوستان کی سب سے بڑی کشتی قرار دی جا رہی تھی۔ غونثہ جب میدان میں آیا تو اس نے اپنے گھٹنے پر پٹی چڑھا رکھی تھی۔وہ دونوں جب آمنے سامنے ہوئے تو بھولو نے جھٹ سے غونثہ کے زخمی گھٹنے پر پاؤں مارا۔ غونثہ طرح دے گیا اور بڑی مہارت سے بچ گیا۔ اس وقت منصف کے فرائض استاد الوقت کریم بخش پیلڑہ والے ادا کر رہے تھے۔ غونثہ نے بچاؤ کے بعد برق رفتاری سے بھولو کے گرد چکر لگایا اور دائیں دکھا کر بائیں طرف سے وار کر دیا۔ اس نے جواباً بھولو کی پنڈلی پر گھٹنا مارا۔ بھولو ضرب برداشت نہ کر سکا اور نیچے گر گیا۔اہل امرتسر کے کلیجے دہل گئے۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر50  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

غونثہ نے استاد پیلڑہ کی دی ہدایات پر عمل کیا تھا، جس کے نتیجے میں بھولو غونثہ کے نیچے دب گیا تھا۔ غونثہ نے بھولو پر سواری ڈال لی تھی اور اسے رگیدنے لگا۔ غونثہ کا یہ عمل بڑھتا جا رہا تھا۔بھولو کو دانتوں پسینہ آ گیا۔امام بخش، گاماں اور حمیدا تو اپنی نشستوں پر جھک کر پلکیں جھپائے بغیر غور سے بھولو کو دیکھ رہے تھے جو غونثہ کے نیچے بے بس نظر آ رہا تھا۔بھولو پر لمحہ لمحہ بھاری ہو رہا تھا۔ اسے کچھ نہیں سوجھ رہا تھا کیا کرے۔ اس سے قبل کہ وہ غونثہ کے نیچے سے نکلنے کی تگ و دو کرتا۔غونثہ پہلوان نے ایک حیرت انگیز داؤ دے مارا۔سکھوں اور غونثہ کے حواریوں کی زبانوں سے بے ساختہ نکلا ’’او گیا جے‘‘۔

ادھر نعرہ گونجا ادھر امام بخش اور حمیدا پہلوان نے آنکھیں بند کر لیں اور ہاتھ دعا کیلئے اٹھا دئیے۔ غونثہ پہلوان نے بے بس بھولو کی نہوندر چڑھائی اور اپنے زخمی گھٹنے کی مدد سے بھولو کو الٹانے کی کوشش کی۔ غونثہ نے اپنی رگ رگ میں بکھری طاقت کو مجتمع کیا اور آخری ریلے کے طور پر بھولو کو بہا لے جانے لگا تھا جب زخمی گھٹنے میں خوابیدہ درد جاگنے لگا اور وہ بھولو کو الٹانے کی کوشش میں ناکام ہو گیا۔

بھولو غونثہ سے قد میں چھوٹا تھا اسی لئے غونثہ جب اس کے اوپر آیا تو بھولو اس کے نیچے دب گیا تھا۔دیکھنے والوں کو بھولو کی مزاحمت بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہ غونثہ کے بوجھ تلے سترہ منٹ گزار چکا تھا جب اچانک اس کی حرکت میں تیزی پیدا ہوئی اور وہ غونثہ کے سامنے آ گیا۔ غونثہ نے جواب میں پھرتی سے پبی کرائی اور بھولو جس تند خولی سے حملہ آور ہوا چاہتا تھا اپنی ہی طاقت و روانگی کے ردعمل سے لڑکھڑا گیا۔ مگر اب تو جیسے وہ خونخوار ہو گیا تھا۔ اس نے اپنے لچکدار جسم میں تناؤ پیدا کیا اور دوبارہ ثابت قدمی سے غونثہ کے سامنے ڈٹ گیا اور آگے بڑھ کر غونثہ کو الٹا دے مارا۔اب کی بار غونثہ بھولو کا حملہ برداشت نہ کر سکا اور بھولو کے نیچے آ گیا۔

صورت حال حیرت انگیز حد تک بدل گئی تھی۔ طویل و جسیم غونثہ اب نہ صرف بھولو کے نیچے تھا بلکہ بھولو کے پھیلتے ہوئے جسم کے نیچے چھپتا جا رہا تھا۔گونگا رستم ہند کے بعد بھولو پہلوان ہی وہ واحد پہلوان تھا جس کا کشتی سے پہلے دکھائی دینے والا جسم دوران کشتی تبدیل ہو جاتا تھا اور تماشائی اس کے پھیلتے ہوئے جسم کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتے تھے کہ شاید ان میں کئی غیر مرئی قوت داخل ہو کر وجود کو بڑھا رہی ہے مگر یہ تو ان کی ریاضتوں کا ثمر تھا جو پہلوان سالوں سے چکی کے دو پاٹوں میں پس کر کیا کرتے تھے۔

بھولو ایک قدم مزید آگے بڑھا اور غونثہ کی چھاتی کا ریلہ مارا۔ بھرپور جھٹکا لگنے سے غونثہ کی پیشانی اکھاڑے کی مٹی سے رگڑ کھا گئی اور نتیجے میں پیشانی کی کھال ادھڑ گئی۔ بھولو نے اپنے اس عمل کو ترک نہ کیا بلکہ جنونی انداز میں گھسے پر گھسا مارتا چلا گیا۔ نتیجتاً غونثہ کی پیشانی سے کھال بری طرح اتر گئی اور خون رسنے لگا۔ غونثہ اس تکلیف کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے دم توڑتی طاقت کو اپنے دانتوں میں اکٹھا کیا۔ اس کے دانت پیسنے کی آواز دور تک سنائی دے رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ غونثہ کشتی کے جانکنی کے مرحلہ سے گزر رہا ہے۔ بھولو نے غونثہ کو اپنی توانائی مجتمع کرنے کا موقع ہی نہ دیا اور اس کی نہوندر چڑھا کر اکھاڑے کے کنارے چت کر دیا۔ایک نعرہ گونجا اور پھر دنگل گاہ میں سکوت سا چھا گیا۔منصف کریم بخش پیلڑہ آگے بڑھا اور بھولو کی فتح کا اعلان کر دیا۔

بھولو لڈیاں ڈالتا اپنے حواریوں کے نرغے میں تھا جب ایک عجیب اعلان ہوا۔ گورنر بہادر کشتی کا اختتام نہیں دیکھ سکے تھے لہٰذا یہ کشتی دوبارہ کرانے کا اعلان کیا گیا۔ غونثہ اپنا لنگوٹ کھول چکا تھا۔ اسے دوبارہ بلایا گیا۔ بھولو اور غونثہ دونوں کے چہروں سے عیاں تھا کہ کشتی صاف ہونے کے باوجود ان کو دوبارہ مقابلے کیلئے بلانا ناگوار ہے۔غونثہ کو گرتے ہوئے دیکھنے کا نظارہ گورنر بہادر نہ کر سکے تھے یا شرطیں لگانے والوں کی یہ شرارت تھی بہرحال اب دونوں پہلوان پھر سے مقابل تھے۔اس بار جب بھولو غونثہ کے مقابل آیا تو وہ خونخوار ہو چکا تھا۔ اس کے کانوں میں گاماں کلووالا کے الفاظ سیسے کی طرح ٹپک رہے تھے اور اس کا دماغ گھوم رہا تھا۔ اس نے کہا تھا۔

’’بھولو! غونثے نے تیرے طور بھلا دئیے ہیں۔تو کیا بکری بن گیا ہے۔ اب تجھے پھر موقع ملا ہے تو ذرا آگے پیچھے کی تمام کسریں نکال دے‘‘

بھولو نے تھکے ماندے غونثے کو ’’ترول‘‘ ماری اور پھر نیچے گرا کر پہلی کشتی والا عمل دوبارہ دہرایا۔ نہ صرف یہی بلکہ غونثے کے زخمی گھٹنے والی ٹانگ کو سردائی گھوٹنے والے ڈنڈے کی طرح کچھ اس طرح گھمایا کہ غونثہ نیم جاں ہو گیا۔بھولو نے اسے چت کر دیا اور اس کی چھاتی پر بیٹھ گیا۔اس نے اپنی پیٹھ غونثہ کے منہ کی طرف اور اپنا چہرہ گورنر بہادر کی طرف کیا ہوا تھا۔بھولو نے ہاتھ ماتھے پر لے جا کر گورنر بہادر کو سلامی دی۔ گویا زبان دل کہہ رہی تھی۔

’’صاحب بہادر! اب تو تسلی ہو گئی ہے ناں‘‘۔

یہ کشتی جیتنے کے بعد تو بھولو شوریدہ سر دریا کی طرح بپھر گیا۔اب وہ علی الاعلان کہتا پھرتا تھا۔

’’بھئی اب تو ہمیں بس گونگا سے لڑنا ہے‘‘۔

گونگا پہلوان رستم ہند کو اس کے حواریوں نے اشاروں کنائیوں سے بھولو کے ارادوں سے باخبر کیا تو وہ اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتا، خم تھپتھپاتا پھر ہاتھ جھٹک دیتا۔ یعنی وہ کہتا ’’میں تیار ہوں بھئی، مگر بھولو میرے آگے کیا چیز ہے‘‘۔

جس طرح سیاست کے میدان میں ہزارہا چالبازیاں کر کے اپنی ساکھ بچانا پڑتی ہے۔اسی طرح شاہ زوری کے میدان میں بھی سیاست کو عمل دخل حاصل رہا ہے۔ اگر ایک پہلوان اپنا مقام بنا لیتا تھا تو وہ دوسرے تمام پہلوانوں کو خود سے ایک درجہ پرے رکھ کر بات کرتا تھا اور اس کو اپنے نائب پہلوان (ڈھال) سے مقابلے کا مستحق سمجھا کرتا تھا۔ یہ طریقہ گاماں کے ہاں رائج تھا۔

گاماں تک پہنچنا اتنا آسان نہیں رہا تھا۔ گاماں کی ڈھالوں میں بھولو، حمیدا اور امام بخش عمر عزیز کے اس درجہ پر تھے جہاں شیروں جیسی خو تو برقرار رہتی ہے مگر پہلے والی تندی طراری جواب دے جاتی ہے۔ البتہ ایک بھرم قائم رہتا ہے اور اسی بھرم کی لاج رکھنے والا بھولو اور اس کے جواں ہوتے بھائی تھے جنہوں نے آہستہ آہستہ پر پھیلانے شروع کر دئیے تھے۔

گونگا پہلوان رستم ہند نے شکست خوردہ غونثہ کو لاہور سے اٹھا لیا تھا اور اسے اپنے گاؤں جھار (راقم کے قصبہ اگوکی سیالکوٹ کے نزدیک گاؤں ہے،گونگا کا پوتا میرا کلاس فیلو تھا ،یہ وہی گاؤں ہے جہاں سابق وزیر رحمن ملک کی بہن بیاہی ہوئی تھی اور ان کا بھانجا میرا جگری یار ہے ۔اس لئے میں جھاریں جاتا تو گونگا کے بیٹے صدیق پہلوان کے بیٹے سے ان کے اکھاڑے میں جاکر خوب بات چیت ہوتی بلکہ ایک بارجب میں میٹرک میں تھا تو اس اکھاڑے میں تیل مالش کرکے ڈنڈ بیٹھک بھی لگائی ) لے گیا۔ اس نے بھی وہی حکمت عملی اپنائی جو بڑے شاہ زور خاندانوں میں اختیار کی جاتی ہے۔ اس نے غونثہ کو اشاروں کنائیوں سے سمجھا دیا۔

’’دیکھ غونثے! میں تجھے تیار کرتا ہوں۔ تیرا اب ایک ہی کام ہے تو بھولو کو مانگتے جانا اور میں گاماں اور امام بخش کو للکارتا جاؤں گا‘‘۔

غونثہ اپنے محسن کو تسلی دیتا۔ ’’استاد جی فکر نہ کریں۔ میں ایسا ہی کروں گا‘‘ مگر یہ غونثے کا فن و طاقت پر اعتماد تھا جس پر وہ بھولو کو للکارنے کا دعویٰ کر رہا تھا۔ یہ حقیقت تو وہ اچھی طرح جان رہا تھا کہ اس کا ناکارہ گھٹنا اس کو کشتی لڑنے نہیں دے گا۔ اس نے گونگا پہلوان رستم ہند کو اپنے گھٹنے کی طرف متوجہ کیا اور کہا۔

’’لیکن استاد جی میں لولا لنگڑا بھولو سے کیسے لڑ سکوں گا‘‘۔

’’گونگا پہلوان نے اپنے خم تھپتھپائے اور زور زور سے چیختے چلاتے ہوئے غونثہ کو یقین دلایا’’ لے یہ بھی کوئی فکر والی بات ہے۔ پاگلا، تو اگر چاہے تو یہ گھٹنا بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔بس ہمت کر اور جیسے تجھے تیار کراتا ہوں سر جھکائے کرتا چلا جا‘‘۔ گونگا پہلوان نے ساتھ ہی اسے تنبیہہ بھی کر دی۔ ’’دیکھ جب تک تو ٹھیک نہیں ہو جاتا اور پھر میں اپنی تسلی ظاہر نہیں کرتا تو کسی سے نہیں لڑے گا‘‘۔ غونثہ پہلوان نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا پھر جھک کر گونگا کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا۔ ’’توبہ توبہ جی! میں آپ کی اجازت کے بغیر بھلا کیسے لڑ سکوں گا‘‘۔

گونگا نے مکمل اعتبار حاصل کرنے کے بعد غونثہ پہلوان کو استاد زمانہ اپنے باپ گاموں بالی والے رستم ہند کے سپرد کر دیا۔ گاموں نے غونثے کو اکھاڑوں کی سیاست اور زمانے کی اونچ نیچے سے باخبر کیا اور پھر اس کے زخمی گھٹنے پر توجہ دی۔

گاموں رمزشناس اور حکیمانہ طبیعت کا پہلوان تھا۔ یہ اسی کا کمال تھا کہ اس نے ایک گونگے بہرے شخص کو ایک ناقابل تسخیر شاہ زور کی صورت میں پیش کر دیا تھا۔

گاموں پہلوان نے غونثے کی ’’چپنی‘‘ کو مختلف جڑی بوٹیوں سے جوڑا اور دنوں میں اس کو فعال بنا دیا۔ البتہ ایسے زوروں سے منع کر دیا جس میں گھٹنے کا استعمال زیادہ ہوتا۔ اس نے غونثے کو بیٹھک لگانے سے روک دیا اور اس کے متبادل ’’کنواں گیڑنے‘‘ پر لگا دیا اور گونگا پہلوان بذات خود غونثہ کو زور کرانے لگا۔ گاموں اور گونگا کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں غونثہ طاقت و فن کا طوفان بنتا چلا گیا۔ غونثہ کے تو بھاگ سنور گئے تھے۔وہ اپنے طور پر مطمئن تھا مگر گونگا کی ابھی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ وہ کم از کم چھ ماہ تک غونثہ کو تیاری کرانا چاہتا تھا لیکن اس کے تمام کئے کرائے پر پانی پھر گیا۔

حمیدا پہلوان رستم ہند جھاراں والی میں ہونیوالی سیاست سے باخبر تھا۔ اس نے دیکھا کہ غونثہ اب تیار ہو چکا ہے تو اس نے غونثہ کو بھولو سے مقابلہ کی دعوت بھجوائی۔ معاملہ چلا اور غونثہ تیار ہو گیا۔گونگا کو خبر ہوئی تو وہ چیخا چلایا اور غونثہ کو سمجھایا۔

’’اوئے کم بخت، ابھی تھے تین مہینے ہوئے ہیں۔ چھ ماہ پورے کر لے پھر جس پہاڑ سے چاہے جا ٹکرانا‘‘۔

’’استاد جی! آپ تسلی رکھیں۔اللہ سوہنے کے فضل سے میں ٹھیک ہو گیا ہوں‘‘۔

’’یہ تو میں یا میرا رب جانتا ہے تو کتنے پانی میں ہے غونثے‘‘۔ گونگے نے اسے تنبیہہ کی۔ ’’پترا اگر تو اسی حالت میں بھولو سے ٹکرایا تو نہ صرف خود بے عزت ہو گا بلکہ ہماری ناک بھی کٹوائے گا۔ زمانہ کہے گا بالی والوں نے بھی زور لگا لیا مگر بھولو کا کچھ نہ بگاڑ سکے‘‘۔

غونثہ نے ایک نہ سنی اور یوں بھولو اور غونثہ کا ہارون آباد میں مقابلہ طے پا گیا۔ دونوں پارٹیاں ہارون آباد کیلئے روانہ ہو گئیں۔شومئی قسمت دونوں کی مڈبھیڑ پٹیالہ کے ریلوے سٹیشن پر ہو گئی۔ مچھیرا پہلوان غونثہ کا مہاوت تھا۔اس نے بھولو کے حواریوں کو طنز کیا۔

’’دیکھنا بھئی اب غونثہ بالی والوں کے ہاتھ کا تراشا ہوا ہے۔ گونگے نے اسے زور کرائے ہیں۔ بھولو کو سنبھال کر رکھنا‘‘۔

جواب ملا۔ ’’اپنی قسمت پر اتنا گھمنڈ نہ کرو پہلوان جی! غونثے کو تو آج ایک گونگے نے زور کرائے ہیں، بھولو تو قسمت والا ہے جسے کئی گونگے زور کراتے ہیں‘‘۔

گرمیوں کے دن تھے۔ ہارون آباد کی ریتلی زمین پر گرمیوں کے دن تو بڑے کڑے اور سہانے ہوتے ہیں۔ دن اگر مثل جہنم ہے تو راتیں مثل بہشت بن جاتی ہیں۔ مقررہ دن جب دنگل گاہ سجی تو ہارون آباد میں گویا دنیا سمٹ آئی تھی۔ خلقت ٹوٹ کر گری تھی۔ وجہ تسمیہ یہ تھی کہ یہ معرکہ بھولو کا فقط غونثہ سے نہ تھا بلکہ غونثہ کے اندر گونگا پہلوان رستم ہند، گاموں پہلوان رستم ہند اور استاد الوقت کریم بخش پیلڑے والے کا فن اور حکمت انگڑائیاں لے رہی تھی۔ زمانے کو اشتیاق تھا کہ غونثہ جو خود بڑا بلاخیز نام ہے اب اتنے بڑے استادوں کے فن کی خیرات لے کر کیا بن گیا ہو گا۔

بلاشبہ غونثہ طاقت و فن کا ایک طوفان بن چکا تھا۔ جب وہ بھولو کے سامنے آیا تو بھولو کو پہلے تو سمجھ نہ آئی کہ اس کے مقابل گونگا کھڑا ہے یا استاد کریم بخش پیلڑہ۔ غونثہ اسے فن کار شاہ زوروں کی ادائیں اور جھکائیں دکھا رہا تھا۔ تماشائی غونثہ کے اس روپ پر بڑے محظوظ ہو رہے تھے۔ غونثہ بڑی دیر تک بھولو پر چھایا رہا۔ دیکھنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ غونثہ کے دموں میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور بھولو کی سانس پھولنے لگی تھی۔ بھولو نے غونثہ کی بڑھی ہوئی جارحیت کا بڑے تحمل سے جواب دیا اور پھر وہ غونثہ کو اپنے نیچے لے آیا۔

دو تین بار غونثہ اٹھا اور بھولو سے ’’لگا‘‘۔ بھولو نے اس کا بھرپور سواگت کیا۔ پھر آخری مرحل میں جب کشتی عروج پر تھی، بھولو نے غونثہ کے پٹ کھینچ لئے اور اسے چت کر دیا۔ منصف نے بھولو کو بدا دی اور غونثہ نیم دلی سے اکھاڑہ سے نکل گیا۔اسے رہ رہ کر گونگا پہلوان کے الفاظ یاد آ رہے تھے اور وہ شرمندہ ہو رہا تھا۔ گونگا پہلوان غونثہ سے اس حد تک ناراض ہوا کہ اس نے ہارون آباد آنا گوارا نہ کیا۔

بھولو کے پرکھ اب گونگا کے پیچھے لگ گئے تھے۔انہیں سوائے گونگا رستم ہند کے ہندوستان میں بھولو کے پائے کا کوئی اور پہلوان دکھائی نہ دیتا تھا۔اگر بھولو گونگا کو گرانے میں کامیاب ہو جاتا تو گویا بھولو پہلوانی کی ہفت اقلیم سر کر لیتا لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

مارچ 1944ء میں میلہ چراغاں کے دنوں میں لاہور میں ایک عالی شان دنگل کا اہتمام کیا جا رہا تھا۔ جس میں گونگا پہلوان رستم ہند کو منصف کے فرائض انجام دینا تھے۔ گونگا جب اپنے بچوں کے ساتھ سیالکوٹ سے عازم لاہور ہوا تو راستے میں اس کی بس کو حادثہ پیش آ گیا۔ بس کیا الٹی کہ گونگے کی تقدیر الٹ گئی۔ حادثے میں گونگے کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اسے نیم بیہوشی کی حالت میں میوہسپتال لاہور لایا گیا۔خون بے تحاشا بہہ چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے فیصلہ سنایا کہ پہلوان کی ٹانگ کاٹ کر ہی جان بچائی جا سکتی ہے۔ جان عزیز تھی سو ٹانگ کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا مگر جونہی آپریشن کی تیاری ہوئی گونگا پہلوان دم توڑ گیا۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں )

مزید : طاقت کے طوفاں