ان کو معلوم ہے کیا دستِ صبا چاہتا ہے

ان کو معلوم ہے کیا دستِ صبا چاہتا ہے
ان کو معلوم ہے کیا دستِ صبا چاہتا ہے

  

آزادی کی کہانی جب خون لکھتا ہے تو ایک دن اپنے آپ کو ضرور منواتا ہے اور سر چڑھ کے بولتا ہے-

 راہِ کشمیر پہ شہیدوں  کے لہو سے جلائے گئے دیپ سب کو وہ رستہ دیکھنے پہ مجبور کر رہے ہیں جو اس سے اٹھنے والے دھوئیں کی لکیر سے نقشہ ء عالم پہ ابھر رہا ہے - قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں یہ جو داستانیں لکھتی ہیں وہ ایک روز اپنے آپ کو ضرور منواتی ہیں- اس دفعہ  چودہ اگست 2017 ء  کو جس سحر ِ آزادی نے جنم لیا تو اس کے ساتھ گونجنے والی اذان نے  اپنے اندر کے عزم ،ارادے اور جذبات کی گرمی سے   دشمن کو لرزا دیا- دیے جانے والےپیغام  میں چھاتیوں  پہ گولیاں کھانے والے جوانوں کی عظمتوں کو سلام تھا اور  دشمن کے لئے ایک شیر دل جرنیل کا اعلان تھا کہ تو خنجر آزما ہم جگر  آزماتے ہیں- کشمیر کے متعلق دو ٹوک الفاظ نے  بتا دیا کہ اس کی قسمت کے فیصلے جنگ سے نہیں  کئے جا سکتے  - موت سے نہ ڈرنے والے جانبازوں کے سامنے آپ کا لوہا بارود کم پڑ جائے گا – برہان وانی اور اس کے ساتھیوں کے دیے جان کے نذرانے اب رائیگاں نہیں جائیں گے- بھارت کے یومِ آزادی پہ منایا جانے والا یومِ سیاہ دنیا نے دیکھا – کرفیو  اور بھارتی بوٹوں کے سامنے ہوتا ہوا احتجاج اسکے جبر،زبردستی اور راج کے منہ پہ ایک طمانچہ تھا جس کی ضرب مودی سرکار نے بھی محسوس کی  اور اپنے خطاب میں کہا کہ اب کشمیر کو گولی یا گالی سے  زیر دست نہیں رکھا جا سکتا- یہ جیت ہے اس کارواں کی جس کی منزل آزادی ہے- شہیدوں کی روحیں پکار رہی ہیں-                                                                                                                                                   

اٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں

نفس ِ  سوختہء   شام  و  سحر  تازہ  کریں

 

بھارتی افواج نے کشمیریوں کے حقِ ارادیت کو دبانے کے لئے کب سے ظلم و ستم کا آلاؤ سلگا رکھا ہے لیکن پاکستان سے الحاق کی تمنا دل میں بسائے غیور کشمیری بھارتی سنگینوں کے سامنے سینہ سپر ہیں- جانیں نچھاور کرتے وہ دنیا کو  اپنی متعینہ منزل  سے آگاہ کررہے ہیں- پاکستان کے یومِ آزادی پہ کشمیریوں کے خلاف ریاستی جبر و استبداد نے تو انتہا کر دی کیونکہ بھارت جانتا ہے کہ یہ اس کے سیکولرازم پہ پڑنے والی پہلی کنکر نہ ہوگی  اور اس کے بعد کئی اور ریاستیں ہیں جو اس سے نجات چاہتی ہیں ان کو بھی شہ مل جائے گی لیکن اسےیہ بھی  معلوم ہے کہ کشمیری اپنی  کٹی پھٹی لاشوں  اور لٹی عصمتوں کی داستانوں سے  اسے اپنی ہی  سرحدوں میں اقلیتوں کی نظر میں اور بھی  قابلِ نفرت بنا رہے ہیں  - اب اسے اپنا وجود شکست و ریخت کا شکار ہوتا نظر آتا ہے- پاکستان میں دہشت کی آگ بڑھکانے والا اب اس آزادی کی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیک رہا ہے- بھارتی گھناؤنی سازشوں سے تاریخ بھری پڑی ہے اور کشمیر کے حل سے گریز کرنے کی کہانیاں بھی تو  صفحہء ہستی پہ ریکارڈ کا حصہ ہیں- نا انصافی ،  سینہ زوری ، مکاری و  بربربیت  کے شاخسانے لکھنے والے   بھارتی وزیر اعظم نہرو خود ہی اس مسئلہ کو لے کر اقوام متحدہ گئے جہاں کشمیریوں کےحقِ ارادیت  کو تسلیم کیا گیا اور استصوابِ رائے کی ہدایت کی گئی لیکن بنیا اس سے خود ہی منحرف ہو گیا- اپنے آئین میں ترمیم کی اور مقبوضہ وادی کو اپنی ریاست کا درجہ دے کر اسے اپنا اٹوٹ انگ  قرار دیتے ہوئے آسمان سر پہ اٹھا لیا- کشمیر کو ترنوالہ بنا کے حلق سے اتارنے کی چالبازیوں، چالاکیوں اور  سازشوں نے اسے 1972 ء کو  شملہ معاہدہ کرنے پہ اکسایا اور اسے دو طرفہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے آپس میں مل بیٹھ کے حل کرنے پر اتفاق کر لیا گیا پر  کشمیر کو  دو طرفہ مسئلہ کی راہ دکھا کے دھوکہ باز اس رستے پہ چلنے سے ہی مکر گیا – زیرک کشمیری اس بد نیتی کو بھانپ گئے اور اپنے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پہ ڈتے رہے اور اس ازادی کی راہ میں نئی داستانیں رقم کیں- ستر سال بھارتی  مظالم سہنے والے راہِ آزادی پہ  اپنے عزم و استقلال کی مثال بنے رہے- جانوں کی قربانیاں دیں اور اٹھائے ہوئے اس علم کو سرنگوں نہ ہونے دیا- آزادی کے ان رستوں پہ سر بکف ایک تڑپ ایک تمنا لئے آگے بڑھتے رہے اور آج دنیا و دشمن کو باور کروا دیا کہ  جان جائے گی پر مفاہمت قبول نہ ہوگی – گالی دو یا گولی چلاؤ یہ زندہ قوم قدموں میں نہ جھکے گی- خطے کا امن اور بھارت کی سلامتی بھی اسی میں مضمر  ہے کہ  کشمیر کو  طاقت کے زور سے محکوم رکھنے کی بجائے  وہ اس کے باسیوں کے آگے  خود جھک جائے  جو خود اس کی بقا کے لئے بھی ضروری ہے اور  مودی جی کو بھی معلوم ہے کہ  اب کیا دست ِ صبا چاہتا ہے-                                                                                        

 .

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ