’’ تُم ہمارے ٹکروں پر پلتے ہو اور پھر بھی ہم سے غداری کرتے ہو‘‘پاکستان کو بھی کرارا جواب دینا ہوگا

’’ تُم ہمارے ٹکروں پر پلتے ہو اور پھر بھی ہم سے غداری کرتے ہو‘‘پاکستان کو ...
’’ تُم ہمارے ٹکروں پر پلتے ہو اور پھر بھی ہم سے غداری کرتے ہو‘‘پاکستان کو بھی کرارا جواب دینا ہوگا

  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹر مپ کا پاکستان کے بارے میں حالیہ بیان پاکستان کی حکومت اور عوام کے لئے پر یشانی کا با عث ہے۔ اگر بیان کو بغور مطالعہ کیا جائے تو اِس کے متن میں کوئی خاص چیز نہیں ہے۔ یہ ایک دھمکی کا اعادہ ہے جو کہ پاکستان کی حکومت کو اکثرکروایا جاتا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کو یاد ہانی کروائی جاتی ہے’’ تُم ہمارے ٹکروں پر پلتے ہو اور پھر بھی ہم سے غداری کرتے ہو‘‘اِس کارروائی پر بھارت اور افغانستان کی حکومتیں کافی خوش ہیں۔ کیونکہ وُہ یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بگڑ جائیں۔ تاکہ وُہ علاقے میں اپنی من مانی کر سکیں۔امریکی عوام اور حکومت کا خیال ہے کہ ہم امریکی ڈ الرز جو امداد کی شکل میں لیتے ہیں، ہم اُنکا استعمال دہشت گردوں کو اپنے مُلک میں پناہ دیکر کرتے ہیں تاکہ امریکی حکمتِ عملی کو افغانستان میں ناکام بنایا جا سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو امریکہ نے اپنی لڑائی میں جان بُوجھ کر اُلجھایا ہے۔ کیونکہ اُس کو معلوم ہے کہ پاکستان کی حمایت کے بغیر وُہ افغانستان میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وُہ افغا نستان میں پاکستان کے اثر و رسوخ سے اچھی طرح سے واقف ہیں۔ وُہ پاکستان کی حمائت حاصل کرنے کے لئے ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ لیکن حالت کُچھ بھی کیوں نہ ہوں امریکہ بھارت اور افغانستان کا لاکھ شکائتوں کے با و جود بھی کُلی طور پر کبھی بھی پاکستان سے اپنے حالات خراب نہیں کرے گا۔کیونکہ سفارت کاری کے مروجہ اصُولوں کے مُطابق کسی بھی مُلک کے ساتھ تمام دروازے کبھی بھی بند نہیں کئے جاتے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ پاکستان سے تعلقات مُنقطع کرکے چین اور رُوس کو مو قعہ فراہم نہیں کریگاکہ وُہ پاکستان جیسے مُلک میں اپنے پاؤں جما سکے جس کی علاقائی اور دفاعی انداز سے اپنی اہمیت ہے۔لہذا امر یکہ کی یہ دھمکیاں گیڈر بھبکی کے سوا کُچھ بھی نہیں۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک ہماری ترجیحات کو اہمیت دیں تو ہمیں خود انحصاری کی پالیسی اختیار کرنا پڑے گی۔ 

عمران خان اور دوسرے پاکستانی لیڈروں کا خیال ہے کہ ہمیں امریکہ کو منہ تُوڑ جواب دینا چاہئے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم امریکہ کی امداد بغیر کتنی دیر تک چل سکتے ہیں؟

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات لگ بھگ سات دہائیوں پر مشتمل ہیں۔ پاکستان ہمشیہ امریکہ کا حلیف مُلک رہا ہے۔ پاکستان کے افواج کی تما م جنگی ضروریات کو امریکہ ہی پورا کرتا رہا ہے۔ با الفاظِ دیگر، پاکستان کے افواج کے پاس زیادہ تر اسلحہ امریکہ کا ہی دیا ہوا ہے۔ بعد ازاں پاکستان نے چین سے بھی کافی مقدار میں فوجی اسلحہ خریدا ہے لیکن ٹیکنیکی اعتبار سے امریکی ٹیکنالوجی کو یکسر رد نہیں کیا جا سکتا۔ قیمت کے اعتبار سے چین کا اسلحہ ارزاں ہے۔ اِس کے علاوہ، پاکستان کو چین سے اُ د ھار مال آسانی سے مِل جاتا ہے۔ اِس لئے ہم اِس کو حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں لیکن ز مانے کے ساتھ چلنے کے لئے ہمیں امریکہ کے اسلحے کی بھی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اُس اسلحے کے سپئیر پارٹس کی جو کہ ابھی تک پاک افواج کے زیر استعمال ہے۔اِس کے علاوہ اقوام عالم میں سیاسی طور پر امریکہ سے الحاق کی بھی اشد ضرورت ہے۔ چین کی شہ پر امریکہ سے تعلقات یکسر منقطع نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی یہ بات سفارت کاری کے اصولوں سے مُطابقت رکھتی ہے۔ بد قسمتی سے چار بر سوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو دُ نیا میں متعارف کروانے کے لئے کوئی وزیر نامزد نہیں کیا گیا۔ بلکہ اِس اہم وزارت کی طرف توجہ ہی نہیں دی گئی۔ نواز شریف صاحب نے وزارتَ خا رجہ کو چلانے کے لئے اپنے مشیروں کا سہارا لیا لیکن اِس ضروری اور اہم وزارت کی طرف کوئی توجہ نہیں دِی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا کے ممالک مختلف مسائل پر پاکستان کا موقف نہیں جانتے۔ وُہ سُنی سُنائی باتوں کو سچ سمجھ کر پاکستان کو ایک ایسا مُلک سمجھ لیتے ہیں جو دہشت گردوں کو پنا ہ دیتا ہے۔ دوسرں ممالک سے امداد حاصل کرنے کے باوجود امریکہ اور نیٹو ممالک کے ساتھ غداری کرتا ہے۔ در اصل امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ ہی سے بد اعتمادی کی فضا قایم رہی ہے۔ امریکہ کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ ہم حقانی گروپ کی نہ صرف حمایت کرتے ہیں بلکہ اِس گروپ کو اپنے مُلک پنا ہ بھی دیتے ہیں۔ اِس شکایت کی وجہ بھارت اور افغانستان کا پاکستاں کے خلاف وُہ پراپیگینڈہ جو بھارت اور افغا نستان مِل کر باہم کرتے ہیں۔ دراصل بھارت کو افغا نستاں میں اپنا اثر رسوخ قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وُہ ا فغانستان کے ساتھ تجارت کے بہانے مضبوط قسم کے روا بط قا یم کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستاں اُس کو اپنی مصنوعات افغانستان بھیجنے کے لئے راہداری کی سہولتیں فراہم کردے۔ یہ بات پاکستان مُفادات کے قطعی خلاف ہے۔ علاوہ ازیں، افغانستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی، ثقافتی اور تاریخی انمول رشتے ہیں۔ جو کوششوں کے باوجود بھی آسانی سے توڑے نہیں جا سکتے۔ لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ آزادی کے ستر سال گُزر جانے کے بعد بھی ہم اپنی مُلک کو خوُد انحصاری کی پالیسی پر گامزن نہیں کرسکے۔اگر امریکہ کے چنگل سے نکلنا ہے تو پھر اس پر سوچنا ہوگا ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ