مسلم خواتین کے حقوق پر منہ پھاڑ پھاڑکر بھاشن دینے والے نریندرامودی کی بیوی ’’انصاف ‘‘ کے لئے در بدر ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھارتی وزیر اعظم کے گرد شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا

مسلم خواتین کے حقوق پر منہ پھاڑ پھاڑکر بھاشن دینے والے نریندرامودی کی بیوی ...
مسلم خواتین کے حقوق پر منہ پھاڑ پھاڑکر بھاشن دینے والے نریندرامودی کی بیوی ’’انصاف ‘‘ کے لئے در بدر ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھارتی وزیر اعظم کے گرد شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی ’’ طلاق ثلاثہ ‘‘  کے نام پر  اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور سیاسی دکان چمکانے کیلئے اپنی تقریروں اور بیانات میں اکثر و بیشتر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ مسلمان خواتین کو ان کا بنیادی حق دلانا چاہتے ہیں ،جبکہ مودی تو خود اترپردیش کے حالیہ الیکشن میں ’’منہ پھاڑ پھاڑ ‘‘ کر کہتے تھے کہ مسلمان عورتوں پر بڑا ظلم ہورہا ہے، مسلمان اپنی بیویوں کو ٹیلیفون، خط اور ایس ایم ایس کے ذریعہ جب چاہا تین طلاق دیدیتے ہیں، یہ ظلم ختم ہونا چاہئے ،اب بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے مودی جی اور ان کی پارٹی بہت خوش اور فیصلے کو تاریخی بتا رہی ہے ،لیکن اب اسی ’’تاریخی فیصلے ‘‘ کی روشنی میں ہی مودی کے اپنے گھر سے ہی ان کی بیوی نے بھی مسلم خواتین کو ملنے والے ’’انصاف ‘‘ کا مطالبہ اپنے لئے بھی کر دیا ہے،دوسری طرف انسانی حقوق کے لئے بھارت میں سرگرم تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندرا مودی کی اہلیہ جو اپنی شادی شدہ زندگی کے باوجود مودی کے ساتھ نہیں رہ سکتیں اور انہیں بیوی کے حقوق بھی حاصل نہیں ہیں اور نہ وہ اپنے شوہر سے علحدہ ہو پائی ہیں ،انہیں بھی مسلمان خواتین کی طرح انصاف فراہم کیا جائے ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین وزیر اعظم نریندرا مودی جنہوں نے 18سال کی عمر میں ایک سولہ سالہ لڑکی جسودھا بین کے ساتھ 1968ء میں شادی رچائی اور پورے 46سال اس شادی کو عوام کی نظروں سے چھپائے رکھا اور خود کو کنوارا ظاہر کرتے رہے جبکہ وہ اپنے انتخابی فارم میں’’ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ‘‘ والا خانہ دانستہ پر ہی نہیں کرتے تھے تاہم 2014ء کے الیکشن میں مودی نے پہلی مرتبہ الیکشن فارم کے خانے میں خود کو شادی شدہ ظاہر کیا بلکہ اپنی بیوی جسودھا بین کا نام بھی لکھا جس پر دنیا کو معلوم ہوا کہ 46سال سے خود کو کنوارا ظاہر کرنے والے مودی نہ صرف شادی شدہ ہیں بلکہ ان کی بیوی بھی حیات ہے جو کئی سالوں سے اپنے شوہر سے الگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذار رہی ہے۔

مسلمان خواتین کے نام پر اپنی گھٹیا سیاست چمکانے والے مودی کے خلاف اب سوشل میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی بیوی کو حقوق دلانے کے لئے مور چہ لگا لیا ہے جبکہ جسودھا بین کو بھی امید بندھ گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اسے بھی اس کا حق ملے گا ۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دلت، مسلمان اور ملک کی سول سوسائٹی خاص طور پر خواتین کی انجمنوں کو چاہئے کہ آگے آئیں اور نریندرا مودی کی بیوی کو اس کا حق دلائیں۔ دوسری طرف جسودھا بین کو اپنے شوہر سے بچھڑے ہوئے پچاس سال ہوگئے ہیں پھر بھی اس نے اپنے شوہر کا انتظار کیااوردوسری شادی نہیں کی ۔ ہندو دھرم میں ایسی قربانی کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور ایسی خاتون کا عظیم عورتوں میں شمار ہوتا ہے۔

آسام کے سابق وزیر اعلیٰ ترون گگوئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جسودھا بین کو ’نوبل پرائز‘ سے نوازا جانا چاہئے کیونکہ انھوں نے بہت بڑی قربانی پیش کی ہے، یہ حقیقت میں نریندر مودی پر بالواسطہ حملہ ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ اپنی عورت کو چھوڑ دینا یا مجبور محض بنا دینا انسانیت پر ظلم ہے۔ گروداس کامت نے کہا ہے کہ مودی جی نے اپنی بیوی کو چھوڑ کر یا علیحدہ رکھ کر اس پر ظلم کیا ہے جو ناقابل معافی ہے۔ واضح رہے کہ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ نے ایک مرتبہ پھر نریندر مودی کی اہلیہ کی تنہاء زندگی کو موضوع بحث بنادیا ہے ،لوگ مودی کی بیوی کی بے بسی کو دور کرنا ضروری تصور کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہندستان میں مسلم خواتین کو انصاف کے ساتھ انڈین وزیر اعظم کی اہلیہ کو بھی انصاف ملے اور وہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ یا شوہر سے علحدگی اختیار کرکے آزادانہ زندگی گذار سکیں۔

مزید : بین الاقوامی