طب یونانی کوعروج دینے کا نسخہ کیمیا

طب یونانی کوعروج دینے کا نسخہ کیمیا
طب یونانی کوعروج دینے کا نسخہ کیمیا

  

حکیم محمد عمرتوصیف دہول (ایم فل ہمدرد یونیورسٹی)

موجودہ حالات کے پیش نظر اس بات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے کہ ہمیں طب یونانی ، اس کے بنیادی فلسفے اورطریقہ علا ج کو بہتر انداز میں سمجھنا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ طب یونانی دنیا میں پائے جانے والے طریقہ ہائے علاج میں سب سے زیادہ قدیم اور مستند طریقہ علاج ہے۔ ویسے تو انسان اپنا علاج اپنے ظہور کے وقت سے ہی کرتا چلا آیا ہے لیکن وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی اور ترقی ہوتی چلی آئی ہے۔ پہلے پہل انسان نے تجربات سے علاج کیااورجب فلسفے اور دین کی ترویج ہوئی تو جھاڑ پھونک کو کام میں لایا اور پھر آہستہ آہستہ طب کو ایک باقائدہ طریقہ علاج کی شکل ملی۔ تاریخ گواہ ہے طب کو ایک فن کی شکل دینے میںیونانیوں نے بنیادی کردار ادا کیا جس کی بدولت اسے طب یونانی کہا گیا۔ اس کو عروج و دوام مسلمانوں نے بخشا اور اس میں پائی جانے والی حقیقی و غیر حقیقی باتوں کو مشاہدے اور تجربات کی کسوٹی پر پرکھ کر صحیح یا غلط کی سند جاری کی۔

طب یونانی کی بنیاد ارکان اوراخلاط پر ہے ، فلسفہ طب یونانی کے مطابق کائنات کی تخلیق چار بنیادی ارکان آگ، پانی، مٹی اور ہوا سے ہوئی اور انہی ارکان کو بنیاد بنا کر چار اخلاط کا فلسفہ تشکیل پایاجو خون، بلغم،صفراءاور سوداءکہلایا۔ جسم انسانی کی تخلیق انہی چار اخلاط کے تناسب سے ہوئی اور جب اس تناسب میں اندرونی یا بیرونی کسی ایک یا دونوں عوامل کی بدولت تغیر رونما ہوتاہے تو بیماری کا وجود ممکن ہوتا ہے۔

طب یونانی بدن انسانی کی ان دونوں حالتوں پر نظر رکھتی ہے حالت صحت ہو یابیماری اس کا مقصد صحت کو برقراررکھنا اوربیماری سے صحت کو لوٹانا ہے۔ اب طب یونانی یہ دیکھتی ہے کہ صحت کن اسباب کی بدولت قائم ہے اور ان میں کونسا اندرونی یا بیرونی سبب ایسا ہے جو بیماری کا باعث ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ زمانے نے ترقی کی بہت سی منازل طے کیں اور اس کے ساتھ طب یونانی نے بھی اپنے فلسفے کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تشخیصی ذرائع اپنائے جو طبیب کو بیماریوں کی درست تشخیص میں معاون ثابت ہوئے۔ابتداءمیں طب یونانی قیاس پر مشتمل رہی پھراس نے امتداد زمانہ کے ساتھ مشاہدہ، معائنہ مزاج اور تجربہ کو اپنایااور پھر کبھی انفرادی طور پر اور کبھی ان چاروں کا مجموعہ تشخیص کی بنیاد قرار پائی۔فی زمانہ طب جدید کو ایلوپیتھک طریقہ علاج کہتے ہیں، اس کی بنیاد تجربہ یعنی لیبارٹری ٹیسٹ قرارپائی ۔ اس طریقہ علاج میں قیاس ، مشاہدہ اور معائنہ مزاج کسی حد تک بے معنی ٹھہرا۔ تاہم طب یونانی کی حقانیت تجربہ (لیبارٹری ٹیسٹ ) کو جھٹلاتی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مشاہدہ، معائنہ مزاج اور قیاس کو بھی ملاتی ہے اور ایک درست تشخیص اور علاج کی سمت متعین کرتی ہے۔

طب یونانی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ درست تشخیص سے علاج کی درست سمت کاتعین ہو جانے کے بعدمریض کو اس کی بیماری کی شدت و خفت ، موسم و جنس اور مبادیاتی عوامل کے مطابق درست معیاری دوا مہیا کی جائے۔ فی زمانہ یہ پہلوکشمکش کا شکار ہے اور اس مضمون کے لکھے جانے کا محرک بھی کیونکہ موجودہ قانونی و سیاسی حالات کے مطابق یہ سمجھنا اور بھی ضروری ہے کہ طب یونانی علاج کے حوالے سے کن قواعدوضوابط کے تحت دوا تجویز کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسباب فاعلیہ(پرہیز اور رہن سہن وغیرہ)میں حتی الامکان تبدیلی لانے پر کیوں زور دیتی ہے؟

ہم پہلے جان چکے ہیں کہ کائنات کی تخلیق ارکان اربعہ سے ہوئی جن کے ملنے سے موالید ثلاثہ پیدا ہوئے جو کہ نباتات، حیوانات اور جمادات کہلائے جو کہ کرہ ارض پر حیات کے مظہر ہیںاسی لئے فلسفہ طب یونانی کی بنیاد بھی یہ تینوں ہی ہیںاور انسان کی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ان تینوں مآخذات سے بننے والی ادویات ہی حقیقی یونانی ادویات ہیں۔ آج ہم حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں اور کل کی بجائے جز کو وقتی مفاد کے لئے پراپیگنڈے کا شکار ہو کر کل کہہ رہے ہیںجس سے مراد طب یونانی کو ہربل کا نام دینا اور حجریات کو بنیاد بنا کر آیوویدک کا لیبل چسپاں کرنا ہے۔یہ بقاءکی جنگ ہے جس میں وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اطباء اپنی حقیقت کو پہچانیں اور آنکھوں پر بندھی ہٹا کر ہربل کی لاٹھی تھامنے کی بجائے طب یونانی کی وسعت اور حقانیت کو تسلیم کروائیں اور اس فلاسفی کے تحت بننے والی ادویات کو طب یونانی کے اصولوں کے مطابق بنائے گئے قواعد و ضوابط ہی پرکھنے اور جانچا نے پر زور دیںاور اپنی سفارشات DRAP کے سامنے مندرجہ ذیل نکات کے تحت پیش کریں اور منظور کروائیں:۔

طب یونانی اور مطب کے لئے تجاویز

۱۔ طب یونانی ایک مکمل اور جامع نظام ہے اس لئے اس کو دو سرے سسٹم آف میڈیسن سے الگ کیا جائے اور اس کا علیحدہ سے ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے۔

۲۔ طب یونانی کو ڈائنگ کیڈر سے نکالا جائے۔

۳۔ ہم صرف ہربل نہیں ہیں اور ہمیںاس کی چھڑی سے نہ ہانکا جائے۔

۴۔ پاکستان فارماکوپیا فار یونانی میڈیسن بنایا جائے۔

۵۔ مریض کی فلاح کے لئے مطب میں دواسازی کی اجازت دی جائے۔

۶۔ مطب کی دواسازی کے لئے جدید ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے جو کی طب یونانی کی ترقی و ترویج کے لئے لازم و ملزوم ہے۔

۷۔ اس مقصد کے لئے علیحدہ سے قواعد وضوابط بنائے جائیں۔

۷۔ دوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے مطب کی دواسازی کو کاٹج انڈسٹری کا درجہ دیا جائے۔

۷۔ اطباءکو کاٹج انڈسٹری کے تمام فوائد بہم پہنچائے جائیں۔

۰۱۔ کاٹج انڈسٹری کے طور پر مطب کی دواساذی کی حوصلہ افزائی کی جائے نہ کہ DRAPکے جن کا تر نوالہ بنادیا جائے۔

۱۱۔ اس مقصد کے حصول کے لئے گرانٹ، ٹریننگ کورسز اور خام مال کے مہیاکرنے میں معاونت اور سہولت پیدا کی جائے۔

۱۲۔ ایسی ادویات جن کی تیاری کے دوران ماحول کے متاثر ہونے کا خدشہ ہو ان کے لئے تھرڈ پارٹی مینوفیکچرنگ کی اجازت دی جائے۔

۱۳۔ ان تمام عوامل کو بروئے کار لانے کے لئے جب تک فارماکوپیا نہیں بن جاتا وقت دیا جائے۔

۱۴۔ دوسرے ملکوں کے ماڈل اپنانے کی بجائے اپنے ملک کے حالت و ضروریات کے مطابق ملک کے جید اطباءکی مشاورت سے اپنا ماڈل تشکیل دیا جائے۔

۱۵۔ طب یونانی کے اطباءکے لئے وفاق میں قائم کردہ ادارےNCT کو فعال کیا جائے اور ان تمام عوامل کو مرکز کے تحت ہی رکھا جائے۔

۱۶۔ NCTکی باگ ڈور موقع پرست اور مفاد پرست لوگوں کی بجائے جید اطباءکے ہاتھ میں دی جائے۔

۱۷۔ فروغ طب یونانی کے نام سے گرانٹ کا اجراءکیا جائے جس کی مالیت کم ازکم دس لاکھ ہو۔

 ۱۸۔ طب یونانی سے متعلقہ اداروں کے جانچ پڑتال کے لئے NCTکے نمائندے ہی تعینات کئے جائیں اور ایلوپیتھک باڈی کا عمل دخل بند کیا جائے۔

۱۹۔ جب تک طب یونانی پاکستان کا اپنا فارماکوپیا نہیںبن جاتا تب تک اطباءاور دواسازوں کو ہراساں نہ کیا جائے۔

دواسازی کے لئے تجاویز

۱۔ ادویات کی سٹینڈرڈائزیشن طب یونانی کے اصولوں کے تحت ہو۔

۲۔ یونانی ادویات بنانے والوں کے لئے ٹریننگ کورس متعارف کروایا جائے۔

۳۔ خام مال یعنی جڑی بوٹیوں کو امپورٹ کرنے کی بجائے مقامی طور پر کاشت کیا جائے۔

۴۔ درآمدی ہربل ادویات کی بجائے مقامی معیاری یونانی ادویات کو فروغ دیا جائے۔

۵۔ یونانی ادویات کی بر آمد کے لئے NCTکی منظوری ہی کو کافی سمجھا جائے ۔

۶۔ کسانوں، اطباءاور دواسازاداروں کی چیمبر آف کامرس میں رجسٹریشن آسان بنائی جائے اور کسی بھی مرحلے پر برآمد کو تحفظ دیاجائے۔

۷۔ طب یونانی کے فروغ کے لئے مائیکروبیالوجی کا شعبہ بنایاجائے اور اس کی سفارشات پر کسانوں کی تربیت کی جائے اور تیار شدہ ادویات کی ایکسپائری بہتر بنائی جائے۔

۸۔ کسانوں میں آگاہی کے لئے ورکشاپس کرائی جائیں، انہیں تعلیم دی جائے اور تربیت کی جائے۔

۹۔ طبی جڑی بوٹیوں کی فصل کی خریدوفروخت کا نظام وضع کیا جائے تاکہ مقامی ادویاتی اجناس کو ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ کمایا جائے تاکہ امپورٹ پرانحصار کم سے کم ہو سکے۔

نیشنل کونسل فار طب کے لئے تجاویز

۱۔ چیئرمین NCTکا لیول سیکٹری ہیلتھ کے برابر کیا جائے۔

۲۔ طب یونانی کے معاملات کو کلی طور پر کنٹرول کرنے کے لئے NCTکے مختلف شعبے بنائے جائیں جن میں مندرجہ ذیل شعبے ضرور ہوں

ا۔ شعبہ رجسٹریشن

اطباءکی رجسٹریشن

دواسازاداروں کی رجسٹریشن

دواﺅں کی رجسٹریشن

تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن

کسانوں کی رجسٹریشن

ب۔ شعبہ تعلیم و تحقیق

پاکستان فارماکوپیا فار یونانی میڈیسن بنائے

طب یونانی کے تعلیمی اداروں کے امور کو کنٹرول کرے

دواسازی کے ابتدائی اور جدید کورسز کروائے

کسانوں کی تربیت کے کورسز کروائے

تعلیمی و تربیتی ورکشاپس کروائے

HECکے تعاون سے ریسرچ کو فروغ دے

مائیکروبیالوجی لیب بنائی جائے

حکیم ڈرگ انسپکٹر کی تربیت کے لئے کورس متعارف کرائے

ج۔ شعبہ دواسازی

مطب کی دواسازی کے امور کو دیکھے

انڈسٹری کی دواسازی کے معاملات کو سنبھالے

د۔ شعبہ معیارات(کوالٹی کنٹرول)

طب یونانی کی ادویات کی تیاری کے لئے معیارات طب یونانی کے اصولوں کے مطابق مقرر کرے اور اس مقصد کے لئے فنگر پرنٹس بنائے جائیں اور ان پر عملدرآمد کروائے

ر۔ شعبہ جانچ پڑتال

اداروں کی انسپیکشن کرے خواہ تعلیمی ہوں یا دواساز ، مطب ہوں یا کسان

دوا سازی میں کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنائے

اس کی اپنی State of the Art Quality Controll Laboratoryہو جس میں یونانی ادویات کی طب یونانی کے اصولوں کے مطابق جانچ پڑتال ہو

ک۔ شعبہ زراعت

طبی جڑی بوٹیوں کی کاشت کو یقینی بنائے

اور ان کو محفوظ کرنے کے عمل کو عام کرے

کھیت سے منڈی تک اور منڈی سے دواساز ادارے تک کے سفر کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرے

ل۔ شعبہ خزانہ

طب یونانی کے فروغ کے لئے رقم مختص کرے

مطب کو بہتر بنانے کے لئے گرانٹ دے جس کی مالیت کم از کم دس لاکھ روپے ہو

کسانوں کو بلاسود آسان قرضے فراہم کرے

دواساز اداروں کو کارکردگی کی بناءپر گرانٹ دے

دواساز اداروں کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بلا سود آسان قرضے فراہم کرے

ن۔ شعبہ نشرواشاعت

طب یونانی اور یونانی ادویات کے فروغ کے لئے میڈیا پر ملک گیر آگاہی مہم چلائے

طب یونانی کی آڑ میں اس کو بدنام کرنے والے نام نہاد میڈیا پرسنز کا سدباب کرے

ایلوپیتھک کے پراپےگنڈے کا توڑ کرے

اطباءاور دواسازوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تشہیر کرے

۳۔ NCTکے ہر شعبہ کے لئے پڑھے لکھے اور ٹرینڈ لوگوں کو تعینات کیا جائے۔

۴۔ اس مقصد کے حصول کے لئے الیکشن سے ہٹ کر ایک قابل عمل طریقہ وضع کیا جائے۔

۵۔ اگر الیکشن ناگذیر ہوں تو گورننگ باڈی میںکالج اور دواساز اداروں کے نمائندوں کی شمولیت سے احتراز برتا جائے۔

(بلاگر طبیب محمدعمر توصیف دہول علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے آبا¿¿واجداد کے علمی اثاثے کے علمبردار ہیں ۔وہ فخرالاطباءحکیم فقیر محمد چشتیؒ امرتسری کے فرزند ارجمنداور حکیم محمد موسیؒامرتسری کے بڑے بھائی حکیم محمد نورالدینؒ چشتی نظامی کے نواسے ہیں۔ ہمدرد یونیورسٹی سے امراض معدہ و امعاء(Gastroentrology) میں ایم فل کیا ہے اور مختلف تحقیقاتی مقالوں کے مصنف ہیں اور قومی و بین الاقوامی فورمز پر تحقیقی مقالے پیش بھی کرچکے ہیں)

مزید : بلاگ