سعودی فوج نے میزائل مار کر ہوٹل تباہ کردیا، افراتفری پھیلادی

سعودی فوج نے میزائل مار کر ہوٹل تباہ کردیا، افراتفری پھیلادی
سعودی فوج نے میزائل مار کر ہوٹل تباہ کردیا، افراتفری پھیلادی

  

صنعاء(مانیٹرنگ ڈیسک )سعودی اتحاد نے گزشتہ روز ایک بار پھر یمن پرفضائی حملے کئے ہیں، اور یمنی حکام کی جانب سے ایک بار پھر یہ سنگین الزام سامنے آیا ہے کہ ان حملوں کا نشانہ حوثی باغیوں کی بجائے سولین اہداف بنے ہیں جن میں ایک بڑا ہوٹل بھی شامل ہے۔ 

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یمنی حکام کا کہنا ہے کہ ارہاب شہر میں واقع دو منزلہ ہوٹل پر ہونے والے حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کے بارے میں متضاد رپورٹیں سامنے آرہی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ عام کسان اور دیگر شہری تھے جبکہ کچھ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مرنے والے حوثی باغی تھے۔ یہ حملہ دارالحکومت صنعاء سے 35 کلومیٹر کی دوری پر ہوا۔

دوسرا حملہ حوثی باغیوں کی ایک چیک پوسٹ پر کیا گیا جس میں ہونے والی تباہی کے مناظر حوثی باغیوں کے ’المسیرۃ‘ ٹی وی پر نشر کئے گئے ہیں۔ حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے حملوں میں 41 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب کچھ سرکاری اہلکاروں اور عینی شاہدین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 60 تک پہنچ چکی ہے اور مرنے والوں میں سے اکثر حوثی باغی ہیں۔

سعودی اتحاد کی جانب سے حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حمایتی ملیشیا پر فضائی حملوں کا سلسلہ مارچ2015ء سے جاری ہے۔ ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے الزاما ت پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں اور انہی الزامات کی بناء پر یہ مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ مغربی ممالک سعودی اتحاد کی عسکری امداد بند کردیں۔

ایک اندازے کے مطابق یمن کی جنگ میں اب تک 10ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، 30لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے ہیں اور خوراک و صاف پانی کی قلت کے باعث یہ ملک قحط کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

مزید : عرب دنیا