پاکستان سب کا ہے یہاں کوئی اقلیت نہیں ، پیغامِ محبت کے بغیر کسی بھی مذہب کی تعلیمات نامکمل ہیں:عالمی مجلس ادیان

پاکستان سب کا ہے یہاں کوئی اقلیت نہیں ، پیغامِ محبت کے بغیر کسی بھی مذہب کی ...
 پاکستان سب کا ہے یہاں کوئی اقلیت نہیں ، پیغامِ محبت کے بغیر کسی بھی مذہب کی تعلیمات نامکمل ہیں:عالمی مجلس ادیان

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں بسنےوالے تمام مذاہب اور اور مسالک کے رہنماؤ ں نے کہا ہے کہ یک دوسرے کی رسومات اور مذہبی عقائد کا احترام معاشرے میں برداشت کی راہوں کو ہموار کرتا ہے، پاکستان سب کا ہے یہاں کوئی اقلیت نہیں ہے ، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہم اس  پیغام کو فروغ دیں گے تو معاشرے میں امن خود بخود قائم ہو جائے گا ۔

تفصیلات کے مطابق ’’ عالمی مجلس ادیان پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام  مقامی ہوٹل میں منعقدہ ’’امن کانفرنس ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئےمسلم، سکھ، مسیحی اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے مرکزی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش معاشرتی مسائل کے حل کے لئے بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،اسلام واداری و امن کا درس دیتاہے اور امن ہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کا ضامن ہوتاہے ۔مقررین کا کہنا تھا کہ ’پیغامِ محبت کے بغیر کسی بھی مذہب کی تعلیمات نامکمل ہیں،کسی بھی مذہبی گروہ سے تعلق سے پہلے تمام لوگوں میں جو چیز مشترک ہے وہ انسانیت ہے،  تمام مذاہب پیار، محبت اور امن کا درس دیتے ہیںاور اسی ’’درس ‘‘ کو معاشرے میں عام کرنے کی ضروررت ہے ، اگر تمام اہلِ مذاہب مل کر انسانیت کے لیے کام کریں تو معاشرے اور دنیا سے غربت، بے روزگاری اور جہالت سمیت کئی بنیادی اور پیچیدہ مسائل خود حل ہو جائیں گے۔عالمی مجلس ادیان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حافظ محمد نعمان حامد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم مختلف مذاہب کے درمیان باہمی بھائی چارہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہتے ہیں،اس طرز کی سرگرمیوں کے انعقاد سے نوجوانوں کو دیگر مذاہب کے حوالے سے آگاہی ملتی ہے اور ایک دوسرے کے عقائد کے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔امن کانفرنس سے  وزیراعلیٰ پنجاب کے معان خصوصی رانا محمد ارشد ،سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر منور چند ،قاضی نیاز حسین نقوی،معروف صحافی حبیب اکرم، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، مولانا عاصم مخدوم،مفتی سید عاشق حسین شاہ ،ڈاکٹر عبد الغفور راشد ،حافظ کاظم رضا نقوی،پاسٹر آئی بی روکی، بھگت لال کھوکھر، عمانیول کھوکھر، مفتی عاشق حسین، اجمل جامی، ڈاکٹر مدثر حسین، سہیل احمد رضا، حاجی عامر رشید، ڈاکٹر مجید ایبل، فادر ندیم فرانسز، سردار کلیان سنگھ، طارق گِل (ایم پی اے)، قاری انعام الرحیم، مولانا شکیل الرحمٰن ناصر، حافظ سمیع اللہ اور مولانا اسلم ندیم نقشبندی سمیت مسلم، سکھ، مسیحی، ہندو برادریوں سے تعلق رکھنے والے دانشور، صحافی، وکلا، اساتذہ، طلبہ و طالبات، علماء کرام اور دیگر مذہبی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔کانفرنس میں 10 نکاتی مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بلا تفریق مذہب و مسلک، تمام پاکستانیوں کے حقوق برابر ہیں، جن کا احترام کیا جائے گا۔مذہب کے نام پر انتہا پسندی، دہشت گردی و قتل و غارت گری خلاف دین ہے۔آئین پاکستان کی وضاحت کے علاوہ کسی بھی فرقے اور مسلک کے ماننے والے کو کافر قرار دینا خلافِ قانون ہے، اس سے اجتناب کیا جائے گا۔کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہیں دیا جائے گا۔شرانگیز مواد کی اشاعت، تقسیم اور ترسیل نہیں کی جائے گی۔ مذہبی رہنما اور مصنفین اپنی تقریروں اور تحریروں میں توازن و اعتدال پیدا کریں گے اور ایسے اشتعال انگیز بیانات اور تحریروں سے احتراز کریں گے جن سے دوسروں کی دل آزاری ہو۔ مذہبی تنازعات کو باہم مشاورت، افہام و تفہیم اور سنجیدہ مکالمے کے اصولوں کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔کسی بھی پلیٹ فارم سے اپنے مخالفین کے خلاف طعن و تشنیع سے مکمل اجتناب کیا جائے گا۔تمام مذاہب اور مسالک کی مقتدر و مقدس شخصیات اور کتب کا ادب و احترام ملحوظ رکھا جائے گا۔استحکامِ پاکستان اور پُر امن بقائے باہمی کے فروغ کے حوالے سے، قومی اور مُلکی حالات و معاملات میں تمام مذہبی حلقے متفق و متحد رہیں گی۔تقریب میں قیامِ امن کے لیے کوششوں کے اعتراف میں بشپ سیموئل عزرایاہ کو ان کی ریٹائرمنٹ پر کو پھولوں کے تحائف اور شیلڈز پیش کی گئیں۔اس موقع پر نئے منتخب شدہ بشپ آف رائے ونڈ کو استقبالیہ دیا گیا۔ 

مزید : لاہور