اپنی محبوبہ سے تنگ آدمی ایک دن خاموشی سے گھر چھوڑ کر دوسرے ملک چلاگیا لیکن پھر کئی سال بعد وہ اچانک اس کے سامنے آگئی اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ آدمی کی پوری زندگی پل پھر میں تباہ ہوگئی، کیا ہوا تھا؟ جان کر کوئی مرد کبھی غلطی سے بھی ایسا کام نہ کرے گا

اپنی محبوبہ سے تنگ آدمی ایک دن خاموشی سے گھر چھوڑ کر دوسرے ملک چلاگیا لیکن ...

لندن(نیوز ڈیسک)جو شخص اپنی محبوبہ کے ساتھ بے وفائی کرے، اور بے وفائی بھی ایسی سفاکیت سے کہ اسے کچھ بتائے بغیر اچانک اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لئے غائب ہو جائے، یقیناًوہ کبھی نہیں چاہے گا کہ ایک دن اس کی سابق محبوبہ اس کے سامنے آ جائے، اور وہ بھی باس کے طور پر۔ اگرچہ یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے لیکن ایک بدقسمت برطانوی شخص کے ساتھ عین یہی واقعہ پیش آ گیا، جو یقیناًاس کے کرتوتوں کا ثمر ہے۔ 

اس شخص نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنی بدبختی کا رونا روتے ہوئے بتایا ’’یہ دس سال قبل کی بات ہے کہ سلویہ نامی ایک لڑکی کے ساتھ میرا رومانوی تعلق تھا۔ اس وقت ہم دونوں ایک دوسرے ملک میں رہتے تھے۔ سلویہ میرے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی لیکن میں محض وقت گزاری چاہتا تھا اور خاموشی سے اسے چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ کرسمس کے موقع پر جب وہ میرے لئے تحائف خرید رہی تھی اور میرے ساتھ چھٹیوں پر جانے کے بارے میں سوچ رہی تھی تو مجھے ملک سے باہر جانے کا موقع مل گیا۔ میں نے اس موقعے کو تعلق ختم کرنے کا اچھا موقع جانا اور سلویہ کو کچھ بتائے بغیر خاموشی سے باہر روانہ ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے دوبارہ کبھی اس سے رابطہ نہیں کیا۔

دوسرے ملک میں آنے کے بعد مجھے ایک انٹرنیشنل سکول میں ملازمت مل گئی اور میں نے ایک اور لڑکی کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کر دیا ۔ سلویہ والے واقعے کو 10 سال گزرچکے تھے اور میں ماضی کو تقریباً بھول ہی چکا تھا کہ ایک دن مجھے پتہ چلا کہ ہمارے سکول میں نئی ڈائریکٹر آرہی ہیں۔بظاہر یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، لیکن جب وہ نئی ڈائریکٹر میرے سامنے آئی تو مجھے اس زور کا جھٹکا لگا کہ روح تک ہل گئی۔ میں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پارہا تھا لیکن سلویہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ وہ بھی بہت حیران تھی، لیکن میری حیرت اور پریشانی کا تو عالم ہی کچھ اور تھا۔ وہ میرے سامنے کھڑی تھی، اور وہ بھی میری باس کے طور پر۔

میں اپنی نئی زندگی میں ایڈجسٹ ہوچکا ہوں اور اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ اب یہاں سے کہیں اور جاؤں اور نئی نوکری تلاش کروں۔ مجھے اپنے کئے پر بہت پچھتاوا ہے لیکن یہ سوچ کر مجھے نیند نہیں آتی کہ اب میرے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔وہ میرے بارے میں کیسا رویہ اپنائے گی اور میرے ساتھی اساتذہ کو میرے کردار کے متعلق کیا بتائے گی، ابھی مجھے معلوم نہیں لیکن یقیناًوہ وقت دور نہیں جس کے متعلق سوچ کر ہی میں کانپ اٹھتا ہوں۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس