صاف پانی کمپنی میں افسروں کی شاہ خرچیاں ،لگتا ہے یہ لوگ دبئی کے لگژی ہوٹلوں میں ہنی مون پر جاتے ہیں ،ہائی کورٹ کا اظہار ناراضی

صاف پانی کمپنی میں افسروں کی شاہ خرچیاں ،لگتا ہے یہ لوگ دبئی کے لگژی ہوٹلوں ...
صاف پانی کمپنی میں افسروں کی شاہ خرچیاں ،لگتا ہے یہ لوگ دبئی کے لگژی ہوٹلوں میں ہنی مون پر جاتے ہیں ،ہائی کورٹ کا اظہار ناراضی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے صاف پانی کمپنی میں کرپشن کی تحقیقات کے لئے دائر درخواست پر کمپنی کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دبئی کے لگژری ہوٹلوں میں خرچ کی گئی رقم سے لگتا ہے کہ افسران ہنی مون پر جاتے رہے ہیں، عدالت نے کمپنی کے بجٹ اور اخراجات کے بارے میں تفصیلی جواب طلب کر لیاہے۔

سینٹ اجلاس کی براہ راست کوریج میں پی ٹی وی کی غفلت، وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا

تفصیلات کے مطابق جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے ثانیہ کنول ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی جس میں صاف پانی کمپنی میں کرپشن کے الزامات لگائے گئے ہیں، درخواست گزار کے مطابق صاف پانی کمپنی میں مبینہ طور کروڑوں روپے دبئی دوروں پر خرچ کئے جا رہے ہیں، غریبوں کو پانی دینے کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی کیا جواز ہے ہے ،صاف پانی کمپنی میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔ سماعت کے دوران صاف پانی کمپنی کے سی ای او اور دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے، کمپنی کے وکیل نے روڈ شوز، دبئی دوروں کا تمام ریکارڈ جمع کرایا، عدالت نے استفسار کیا کہ غریبوں کو صاف پانی دینے کے لئے بیرون ملک لگژری ہوٹلوں میں جانے کا کیا جواز ہے؟ لگژری ہوٹلوں پر اخراجات سے لگتا ہے کہ افسران ہنی مون پر جاتے رہے ہیں۔ ہائیکورٹ نے صاف پانی کمپنی کے جواب کو نامکمل قرار دے کر مسترد کر دیا، عدالت نے کمپنی کے بجٹ اور اخراجات کے بارے میں تفصیلی جواب پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے 8ستمبر کو ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اور صاف پانی کمپنی سی ای او اور دیگر افسروں کو بھی طلب کر لیاہے۔

مزید : لاہور