عدالتی فیصلے پر تبصرہ توہین عدالت نہیں،یوسف خان توہین عدالت کیس میں قرار دیا جاچکا کہ سچائی کو خاموش نہیں کروایا جا سکتا

عدالتی فیصلے پر تبصرہ توہین عدالت نہیں،یوسف خان توہین عدالت کیس میں قرار دیا ...

لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا حکام کو حکم دیا ہے کہ عدلیہ مخالف مواد نشر کرنے پر پابندی سے متعلق پیمرا کے قواعد وضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے آمنہ ملک نامی خاتون کی درخواست پر یہ حکم جاری کرتے ہوئے آئندہ تاریخ سماعت پر عمل درآمد رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔اس عدالتی حکم کے اثرات کیا ہوں گے ؟بیان کی نوعیت کاتعین کیسے ہوگا؟کیاعدالتی فیصلوں پر تبصرہ توہین عدالت ہے ؟قانون کے تحت نظریہ پاکستان یا پاکستان کی حاکمیت ،سالمیت یا سلامتی یا پاکستان کی عدلیہ کی سالمیت یا آزادی کے لئے نقصان دہ رائے کی تشہیر نہیںکی جاسکتی ہے ،اس بابت کسی اقدام کی بھی ممانعت ہے ۔ پاکستان کی مسلح افواج اور عدلیہ کو بدنام یا ان کی تضحیک کرنے والا بھی قانون کی گرفت میں آتا ہے ۔آئین کے آرٹیکل63(1)جی کے تحت مذکورہ اقدامات کی بنا پر اگر کسی کو کسی عدالت سے سزا ہوجائے تو وہ اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل قرارپاتا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 68میں بھی قدغن لگائی گئی ہے کہ پارلیمنٹ میں فرائض کی انجام دہی میں عدالت عظمیٰ یا کسی ہائی کورٹ کے کسی جج کے رویہ کی بابت کوئی بحث نہیں ہوسکتی ۔کیا مروجہ قوانین اور دستورکے تحت کسی جج کے بارے میں حقیقت پر مبنی معلومات کی فراہمی اور کسی عدالتی فیصلے پر نیک نیتی سے کئے جانے والے تبصرے بھی ان قوانین کی زد میں آتے ہیں ۔اس بارے میں عدالتوں کے متعدد فیصلے موجود ہیں کہ سچائی پر مبنی مواد اور نیک نیتی سے کی گئی حقیقت پر مبنی تنقید توہین عدالت کے زمرہ میں نہیں آتی ،اس حوالے سے یوسف علی خان کیس میں سپریم کورٹ واضح احکامات جاری کرچکی ہے ،1977ءمیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یعقوب علی خان ،جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس قیصر خان پر مشتمل بنچ نے قراردیا تھا کہ عدلیہ پرعوامی اعتماد کو برقرار رکھنے اور ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سچائی کو خاموش کروادیا جائے ۔کسی سچائی کے بیان کے حوالے سے ججوں کو استثنیٰ حاصل نہیںہے ،اس کیس کا پس منظر یہ تھا کہ یوسف علی خان نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج سے کہا تھا کہ ان کے سینئر ترین جج سے تعلقات ہیں ،اس لئے وہ زیر نظر کیس کی سماعت نہ کریں ۔اس پر فاضل جج نے یوسف علی خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کردی اور قرار دیا کہ ان کااعتراض عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش ہے ۔توہین عدالت کی کارروائی کو یوسف خان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں قائم فاضل بنچ نے مذکورہ آبزرویشن کے ساتھ لاہور ہائی کورٹ کے جج کی طرف سے کی جانے والی توہین عدالت کی کارروائی کالعدم کردی تھی ۔بعد میں سپریم کورٹ کے 1977ءکے اس فیصلے کو مختلف عدالتوں میں عدالتی نظیر کے طور پر پیش کیا جاتارہا اور متعدد مقدمات میں اعلیٰ عدالتوں نے اسی نظیر کی روشنی میں فیصلے جاری کئے جس کے باعث اسے طے شدہ اصول کا درجہ حاصل ہوچکا ہے ۔کسی جج سے اگر کوئی فوجداری یا کوئی دوسرا جرم سرزد ہوجائے تو کیا اس کی اطلاع دینا یا اس کی خبر نشر اور شائع کرنا جرم ہوگا ؟ ایسا کرنا کسی بھی قانون کے تحت جرم نہیں ہے اور نہ ہی اس حقیقت بیانی کا مطلب عدلیہ کو بدنام کرنا لیا جاسکتا ہے ۔پیمرا رولز اور الیکٹرانک میڈیا کے کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت عدلیہ اور فوج مخالف مواد نشر کرنے پر پابندی ہے ۔یوسف علی خان کیس سمیت مختلف عدالتی فیصلوں کی روشنی میں اس" پابندی" کا جائزہ لیا جائے تو ان معاملات کی بابت حقیقت بیانی جرم نہیں ہے ۔لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے پیمرا رولز پر عمل درآمد کا جو حکم جاری کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں لیا جاسکتا کہ عدلیہ کے حوالے سے کوئی بات ہی نہیں ہوسکتی تاہم عدلیہ کو بدنام کرنے کے لئے بدنیتی سے کئے جانے والا پراپیگنڈاضرور اس کی زد میں آتا ہے ۔عدلیہ کے فیصلوں اور نظام عدل پر کس قسم کی تنقید یا تبصرہ توہین عدالت کے زمرہ میں آتا ہے ،اس بابت کوئی طے شدہ اور تحریری اصول موجود نہیں ہے تاہم یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ حق بیانی جرم نہیں،(پی ایل ڈی سپریم کورٹ 1977ءصفحہ 482)۔لاہور ہائی کورٹ میں زیرسماعت درخواست میں میاں محمد نوازشریف ،وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اور متعدد وزراءسمیت مسلم لیگ(ن) کے راہنماﺅں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ پاناما لیکس کیس کے عدالتی فیصلے پر تنقید کرکے عدلیہ کو بدنام کررہے ہیں ۔عدالتی نظائر کی روشنی میں دیکھا جائے تو متاثرہ فریق جو نکات اٹھا رہا ہے وہی نکات اس نے اپنی نظر ثانی کی درخواستوں میں اٹھائے ہیں ۔وہ جو اعتراضات اٹھا رہے ہیں وہ تحریری طور پر نیب کے سامنے بھی اٹھائے گئے ہیں ۔اگر لاہور ہائی کورٹ کے زیربحث حکم کا مطلب میاں محمد نوازشریف اور دیگر افراد کی عدلیہ کی بابت زباں بندی لیا جائے تو یہ بادی النظر میں درست نہیں ہوگا ،اس حکم کا مقصد منفی پراپیگنڈا روکنا ہے ۔توہین عدالت سے متعلق سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدالتوںکے کئی ایک فیصلوں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ سچائی کا گلا اس خوف سے نہیں گھونٹا جانا چاہیے کہ اس سے نظام عدل گستری کی نیک نامی پر حرف آئے گا۔توہین عدالت کے معاملے میں یہ بھی ایک طے شدہ اصول ہے کہ ہر وہ اقدام جو زیرسماعت مقدمہ پر اثر انداز ہوسکتا ہے توہین عدالت ہوگا ۔اس حوالے سے ججوں پر دباﺅ ڈالنے کے لئے بے جا تنقید کے علاوہ ان کی بے جا تعریف و توصیف کو بھی عدالتی فیصلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران فریقین نے جس طرح سپریم کورٹ کے باہر بیان بازی کی اس پر سپریم کورٹ کی طرف سے کوئی عدالتی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور عدالت کی طرف سے تحمل کا مظاہرہ کیا گیا جس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ زیرالتواءاور زیر سماعت مقدمات پر بھی تبصرہ کیا جاسکتا ہے ۔

مزید : تجزیہ