فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر501

24 اگست 2018 (14:41)

علی سفیان آفاقی

کہنے کو ہمارے ملک میں علم و ادب اور فنون لطیفہ سے متعلق درجنوں سرکاری ادارے موجود ہیں جن پر قوم اب تک کروڑوں روپے صرف کر چکی ہے لیکن یہ آج تک کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے۔یہاں تک کہ اپنے اپنے شعبوں سے متعلق تاریخی ریکارڈ او ضروری معلومات تک یک جا کرکے کتابی صورت میں شائع نہیں کرسکے۔

فلمی صنعت کے حوالے سے ہمارے ملک میں کتنے سرکاری ادارے بن چکے ہیں۔نیف ڈیک نے تو ابھی کچھ عرصہ قبل دم توڑا ہے،یہ ادارہ سالہا سال تک لاکھوں کروڑوں روپے لٹا تا رہاہے لیکن کسی کو پرانی فلموں،پرانے فنکاروں اور تخلیق کاروں کے بارے میں تاریخی مواد یک جا کرنے اور انہیں سلیقے سے عوام تک پہنچانے کی توثیق نہ ہوسکی۔اس کے علاوہ پاکستان فلم پرو ڈیوسرز ایسوسی ایشن بھی سالہا سال تک اپنی شان و شوکت اور حکمرانی کا بگل بجاتی رہی ہیں۔شان دار دفاتر،دعوتیں،کھانے،تقاریب ،ملک ملک کے دورے،سب کچھ کیا لیکن پاکستان کی فلمی صنعت کے بارے میں کوئی ایک مختصر کتابچہ تک شائع نہیں کیا۔پاکستان کے قیام سے پہلے اس علاقے میں کن مسلمان فنکاروں اور تخلیق کاروں نے فلمی صنعت کا آغاز کی اور انہوں نے نامساعد حالات میں کیسے کیسے کارنامے سر انجام دیے اس بارے میں کوئی تردد نہ کیا گیا۔پاکستان فلم ایکسپورٹ کارپوریشن کے دفاتر لندن میں بھی تھے مگر قسم لے لیجئے جو اس ادارے نے لیپا پوتی کے سوا پاکستانی فلموں کو یورپ میں فروغ دینے کیلئے دھیلے کا بھی کام کیا ہو بلکہ اس کے برعکس مشکلات ہی پیدا کرتے رہے۔ان کے مقابلے میں مختلف سر پھرے افراد نے بہت کام کیا ہے جن کا تذکرہ کیا جا چکا ہے۔جس ملک میں یہ بنیادی فرائض تک فراموش کر دیے جائیں اور سرکاری و نیم سرکاری یا پرائیویٹ ادارے محض اپنے حلوے مانڈے سے ہی غرض رکھیں اور اپنے فرائض کا احساس تک نہ کریں وہاں اس قسم کی مایوسی محرومی اور اپنے ماضی کی ثقافت،روایات اور افراد کے بارے میں لا علمی عام ہو جاتی ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر500 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بہر حال۔یہ ایک علیحدہ اور بے حد تکلیف دہ موضوع ہے۔ہر قومی شعبہ اس بیماری میں مبتلا ہے۔اب اس کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔آپ اسے پس مرگ واویلا بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ایسے قدر دان بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنے ہیروز اور پیش رو تخلیق کاروں اور فنکاروں کو دلوں میں بٹھا رکھا ہے۔ان میں ایک نام شاہد پردیسی کا بھی ہے۔انہوں نے تن تنہا فلموں کے بارے میں معلومات یک جا کر کے شائع کرنے کے سلسلے میں جو گراں قدر کام کیا ہے ہمارا کوئی سرکاری ادارہ اس کا عشر عشیر بھی نہ کر سکا۔شاہد پردیسی ایک جوان آدمی ہیں پرانی فلموں اور شخصیات کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کا نہیں دیوانگی کی حد تک شوق ہے۔ہم نے بھی ان س بہت استفادہ کیا ہے۔اگر ان کے تحریر کردہ مضامین کو کمپیوٹرمیں محفوظ کر لیا جائے اور انہیں کتابی صورت میں یک جا کرکے شائع کیا جائے تو یہ ایک نادر تاریخی کام ہوگا لیکن افسر تو شاید ان کا نام تک نہیں جانتے۔اداروں کے سربراہ ان کی موجودگی سے ہی یکسر بے خبر ہیں۔فنون لطیفہ سے متعلق ادارے آ ج بھی یہ کام کرسکتے ہیں لیکن انہیں اپنی دیگر شاہانہ مصروفیات سے فرصت ملے تو اس طرف بھی توجہ دیں اور یہ قریب قریب نا ممکن ہے۔

گل حمید کی کہانی جو ظہور انجینئرصاحب نے ہمیں فراہم کی ہے،ان کے مطابق یہ بالکل مستند ہے اور انہوں نے کافی تحقیق کے بعد حاصل کی ہے ۔اب گل حمید کی کہانی سنئے۔یہ وہ ہیرو تھا جسے اس پس ماندہ دور میں بے شمار خطوط موصول ہوا کرتے تھے۔فلم بین اس کے شیدائی تھے۔لڑکیاں اس کی دیوانی تھیں۔اس کی وفات کی خبر سن کر کئی لڑکیوں نے خودکشی کر لی تھی۔ایسی مثال صرف ہالی وڈ کے ایک ہیرو ’’ویلنٹینو‘‘کی ہے جو اسپتال میں بیمار رہنے کے بعد فوت ہو گیاتو کئی لڑکیوں نے خود کشی کر لی تھی۔وہ بھی عین جوانی میں دنیا سے رخصت ہوا تھا۔گل حمید ہی کی طرح خوب رو اور شان دار شخصیت کا مالک تھا۔اس کا تذکرہ پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔یہاں تک کہ اس زمانے کی اکثر معروف ہیرو ئنیں اس کی جاذب نظر شخصیت اور مردانہ حسن و جمال کے باعث اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی تھیں۔

ظہور صاحب کی معلومات کے مطابق گل حمید کا طویل بیماری کے بعد 16اپریل 1937ء کو انتقال ہوا تھا۔اس وقت اس کی عمر صرف27سال تھی۔

کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

مگر گل حمید نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز1929ء میں پولیس انسپکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد کیا تھا ا ور 1937ء میں اﷲ کو پیارا ہوگیا۔اس طرح گل حمید کی اداکاری کا زمانہ چھ سات سال کے مختصر عرصے پر محیط ہے اس دوران میں بھی وہ ایک مرتبہ فلمی دنیاسے کنارہ کش ہو گیا تھا مگر اے آر کاردار کے اصرار پر دوبارہ فلم’’چندر گپتا‘‘میں کام کیا ۔اس سے پہلے گل حمید نے خاموش فلموں میں اداکاری کی تھی۔جب بولتی فلموں کا زمانہ آیا تو وہ اس کے تقاضے پورے نہ کرنے کے خیال سے فلموں سے کنارہ کش ہو گیا تھا۔در اصل اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ گل حمید کا لب و لہجہ خالص پشتو انداز کا تھا۔خاموش فلموں میں تو یہ کوئی برائی نہ تھی لیکن بولتی فلموں میں اداکاروں کے تلفظ اور لب و لہجے پر کافی توجہ دی جاتی تھی۔

چناچہ کچھ عرصے کی بے روزگاری کے بعد کلکتہ سے کاردار صاحب کا تار موصول ہوا تو گل حمید نے فوراً بوریا بستر باندھا اورکلکتہ پہنچ گیا۔کاردار صاحب نے’’چندر گپتا‘‘کے مرکزی کردار کیلئے گل حمید کو منتخب کیا تھا مگر گل حمید کا تلفظ اور لہجہ بہت کرخت تھا۔گل حمید کو تلفظ بہتر بنانے کیلئے تربیت دی گئی جس کے بعد فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہوا۔اس فلم میں سبیتا دیوی ہیروئن تھیں جو گل حمید کی پسندیدہ ہیروئن تھیں۔’’چندر گپتا‘‘ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی اور اس طرح گل حمید کی فلمی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوا۔ 

اس سے پہلے کی کہانی بھی سن لیجئے۔ظہور صاحب کے مطابق گل حمید فرنٹیئرپولیس فورس میں سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز تھا۔کانگریس کے ایک اجلاس کی رپورٹ کے سلسلے میں وہ لاہور پہنچا تو قسمت اس کے لیے بازو پھیلائے منتظر کھڑی تھی۔یہاں اس کی ملاقات ایک دوست کے ذریعے اے ،آر،کاردار صاحب سے ہوئی۔کاردار صاحب نے فلم سازی کا آغاز کردیا تھا اور ایک نامور فلم ساز اور ہدایت کار تھے۔انہوں نے گل حمید کی شان دا ر شخصیت کو دیکھا تو فلموں میں کام کرنے کی پیشکش کر دی۔کہا ں ایک اکھڑپٹھان پولیس سب انسپکٹر اور کہاں فلم کی اداکاری؟مگر کاردار صاحب کی فلم کمپنی میں ملازمت کر لی۔

گل حمید کی اداکاری کا آغاز چھوٹے موٹے کرداروں سے ہوا تھا۔کاردار صاحب نے سب سے پہلے گل حمید کو فلم’’صفدر جنگ‘‘ میں آزمایا۔1930ء میں فلم بریو ہارٹ(BRAVE HEART) ) اس زمانے میں فلموں کے انگریزی نام رکھنے کا رواج تھا(میں گل حمید نے ولن کی حیثیت سے کام کیا اور تیسری فلم گولڈن ڈیگر میں انہیں ہیرو بنا دیا گیا اس فلم میں گل حمید کی ہیروئن کلی زان تھی۔

کاردار صاحب کی اگلی فلم’’ونڈرنگ ڈانسر‘‘تھی۔کاردار صاحب اس فلم میں گل حمید کو ولن کے طور پر لینا چاہتے تھے مگرگل حمید کی درخواست پر انہیں ہیرو کاسٹ کر لیا گیا۔اس فلم کی ہیروئن رقیہ خاتون تھیں۔کہتے ہیں کہ گل حمید نے جتنی ہیروئنوں کے ساتھ کام کیا تھا رقیہ خاتون ان میں سب سے زیادہ خوب صورت اور شائستہ تھیں۔فلم کی شوٹنگ کے دوران میں ان دونوں کے بہت اچھے تعلقات ہوگئے تھے۔اس فلم نے کامیابی بھی حاصل کی مگر کچھ عرصے بعد گل حمید کی رقیہ خاتون سے کلکتہ میں ملاقات ہوئی تو ان کا رویہ بدلا ہوا تھا۔گل حمید کیلئے یہ ایک صدمے سے کم نہ تھا۔

اسی دوران میں بولتی فلموں کا آغاز ہو گیا جس کی وجہ سے خاموش فلموں کے بہت فنکار بے روزگار ہو گئے۔گل حمید بھی ان ہی میں شامل تھے مقبولیت کا دور دیکھنے کے بعد بے روزگاری نے گل حمیدکو پریشان کر دیا۔یہاں تک کہ بیکاری سے تنگ آکر انہوں نے پولیس کے انگریز آئی جی سے درخواست کی کہ انہیں دوبارہ پولیس میں رکھا لیا جائے۔آئی جی مسٹر پی لینڈ کو فلمی دنیا میں گل حمید کی کامیابیوں اور مقبولیت کا علم تھا۔انہوں نے گل حمید کو سمجھایا کہ وہ حوصلہ نہ ہاریں اور فلمی دنیا سے ہی وابستہ رہیں۔ایک نہ ایک دن انہیں کامیابی ضرور ملے گی۔

آئی جی پی لینڈ کے یہ الفاظ بعد میں حرف بحرف درست ثابت ہوئے ۔گل حمید نے دوبارہ کلکتہ کا رخ کیا کہ اس زمانے میں یہ بہت بڑا فلمی زندگی کا آغاز کیا تھا۔اے ،آر،کاردار صاحب اس زمانے میں لاہور میں تھے۔ایک روز گل حمید کو کاردار صاحب کی طرف سے بذریعہ تار اطلاع ملی کہ وہ ایک بولتی فلم کی تیاری کے سلسلے میں کلکتہ آرہے ہیں۔گل حمید ان سے ملاقات کریں۔یہ گل حمید کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔کلکتہ میں کاردار صاحب کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے گل حمید کو اپنی متکلم فلم’’چندر گپتا‘‘ کے مرکزی کر دار کیلئے منتخب کرلیا۔اس کی تفصیل پہلے بیان کی جا چکی ہے۔

1933ء میں اے آرکاردار نے فلم’’سلطانہ‘‘ بنانے کا اعلان کیا تو گل حمید اس کے ہیرو تھے۔اب بولتی فلموں کا دور شروع ہو چکا تھا۔گل حمید کی جھجک بھی دور ہو چکی تھی اور وہ ایک بولتی فلم میں کامیابی سے اداکاری کا مظاہرہ کر چکے تھے جس کی وجہ سے ان میں خود اعتمادی پیدا ہو گئی تھی۔فلم ’’سلطانہ‘‘کی ہیروئن زبیدہ خانم تھیں۔ظہور صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ کیا یہ وہی مس زبیدہ تھیں جنہوں نے برصغیر کی پہلی بولتی فلم’’عالم آرا‘‘میں ہیروئن کا کردار کیا تھا؟لیکن اغلب حیال یہی ہے کہ یہ وہ مس زبیدہ نہیں تھیں۔انہیں کار دار صاحب نے ان کی ذاتی کشش اور خوب صورتی کو دیکھ کر منتخب کیا تھا۔

(جاری ہے ۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں