عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر53

24 اگست 2018 (14:55)

ادریس آزاد

’’سلطان محمد خان‘‘

5محرم الحرام 855ھ ، 9فروری1451ء کو ’’سلطان مراد خان ثانی‘‘ نے ادرنہ میں وفات پائی۔ تجہیز و تکفین قدیم پایہء تخت ’’بروصا ‘‘ میں ہوئی۔ سلطان مراد خان کی وفات کے وقت اس کا بیٹا شہزادہ محمد ایشیائے کوچک کی ریاست ’’ایدین ‘‘ میں تھا ۔ اب شہزادہ محمد کی عمر اکیس سال اور چند ماہ تھی۔ اس سے پہلے وہ دو مرتبہ باپ کی زندگی میں تخت نشین ہوچکا تھا ۔ جب اسے مراد خان ثانی کی وفات کی خبر ملی تو وہ فوراً ایک عربی گھوڑے پر سوار ہوا اور گھوڑے کو ایڑھ لگانے سے پہلے یہ کہا:۔

’’جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔ میرے ساتھ آئیں۔ (دولتِ عثمانیہ)‘‘ وہ درِ دانیال کو عبور کرکے ادرنہ پہنچا ۔ جہاں تخت نشینی کے مراسم ادا کیے گئے۔ اب وہ شہزادہ محمد خان نہیں تھا ۔ بلکہ ’’سلطان محمد خان‘‘ بن چکا تھا ۔ وہ ادرنہ کے شاہی محل میں داخل ہوا ۔ تو یہاں اس سے محبت کرنے والے بہت موجود تھے۔ ملکہ سروین جو شاہ سربیا لارڈ سٹیفن کی بیٹی تھی اور سلطان مراد خان ثانی کی بیوی........اپنے سوتیلے بیٹے شہزادہ محمد کی تخت نشینی سے بے حد خوش تھی ملکہ سروین کے بطن سے شہزادہ محمد کا ایک بھائی بھی تھا ۔ جس کی عمر صرف آٹھ ماہ تھی۔ ملکہ سروین کے علاوہ آغاحسن ، قاسم بن ہشام اور طاہر بن ہشام بھی سلطان محمد خان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ وزراء اور عمائدینِ سلطنت کے مشورے سے جشنِ تاج پوشی کا دن مقرر کیا گیا ۔ جس کی تیاریاں زورو شور کے ساتھ کی جانے لگیں۔ 

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر52 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلطان محمد خان اپنی نوعمری کے زمانے میں جب دوبار تخت نشین ہوا تو دونوں مرتبہ اسے نامساعد حالات کی وجہ سے تختِ سلطنت سے الگ ہونا پڑا تھا ۔ پہلی مرتبہ ہونیاڈے اور لارڈ سلاس کی معاہدہ شکنی کی وجہ سے ۔ اور دوسری مرتبہ ادرنہ شہر میں ’’ینی چری‘‘ کی بغاوت کے سبب ، دونوں مرتبہ اس کے باپ سلطان مراد خان ثانی کو واپس آنا پڑا تھا ۔ جس کی وجہ سے عام عوام میں یہ تأثر پیدا ہوگیا تھا کہ شہزادہ محمد نظامِ سلطنت سنبھالنے کے لیے نااہل اور ناکافی ہے اب سلطان محمد خان کو ثابت کر ناتھا کہ چودہ پندرہ سال کی عمر میں جب اسے سلطانی ملی تھی تو اور بات تھی ۔ اور اب بائیس سال کی عمر میں جب اسے سلطانی ملی ہے تو یہ اور بات ہے۔ اب محمد بچہ نہیں تھا ۔ اس نے جشِ تاجپوشی سے دو روز قبل قاسم بن ہشام کو اپنے پاس بلا یا ۔ اور شاہانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کا استقبال کیا۔

’’آئیے! قاسم بن ہشام آئیے!!........دیکھیے ! دو دن بعد ہمارا جشنِ تاجپوشی ہے۔ اب ہم سلطنتِ عثمانیہ کے تاجدار اور سلطان بن چکے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے شانوں پر کتنی بڑی ذمہ داری آپڑی ہے۔قبل ازیں جب ہمیں سلطان بنایا گیا تو ہمیں آپ کی مشاورت سے بے حد قوت اور توانائی ملی تھی۔ اسی لیے ہم نے آج آپ کو زحمت دی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس مرتبہ بھی ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہیں۔‘‘

قاسم سلطان کا لہجہ سن کر حیران رہ گیا ۔ وہ اب نوعمر شہزادہ تو نہ تھا ۔ جو آج سے چھ سال پہلے یوں تخت نشین ہواتھا ۔ گویا چوہے دان میں پھنس گیا ہو۔ قاسم کو محسوس ہوا کہ وہ کسی عظیم شہنشاہ کی آواز سن رہا ہے۔ سلطان کے لب و لہجے کے علاوہ سلطان کی باقی شخصیت بھی پہلے کی نسبت بہت نکھر چکی تھی۔ اس کے چہرے پر نوجوانی کا تازہ خون اور آنکھوں میں موجود شاہی جاہ و جلال اور دبدبہ دیکھ کر قاسم کو محسوس ہونے لگا کہ اس مرتبہ سلطان محمد خان کوئی بہت بڑا عزم لے کر تختِ سلطانی پر جلوہ افروز ہونا چاہتا ہے۔اس نے اپنی سابقہ دوستی کو فراموش کرتے ہوئے انتہائی ادب کے ساتھ کہا:۔

’’سلطانِ معظم!..........سلطنت عثمانیہ کو آپ جیسے تاجدار پر تا ابد فخر رہے گا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ قدرت آپ کے ہاتھوں کوئی بڑا کام سرانجام دینا چاہتی ہے........جہاں تک میری خدمات کا تعلق ہے.........تو میں اور میرا خاندان اسلام اور سلطنت عثمانیہ کے لیے ہر پکار پر ہمیشہ لبیک کہتے رہیں گے۔‘‘

قاسم نے سلطان محمد خان کے ساتھ بات کرتے ہوئے اپنی سابقہ بے تکلفی کا بالکل مظاہرہ نہ کیا۔ بلکہ شاہی آداب کے تمام تقاضوں کا خیال کرتے ہوئے سلطان سے بات کی۔ دوروز بعدجشنِ تاجپوشی تھا۔ چنانچہ سلطان نے کہا:۔

’’قاسم بن ہشام .........ہمیں سب کچھ بھول سکتا ہے لیکن ’’ینی چری ‘‘ کے دستوں کی وہ بغاوت نہیں بھول سکتی ۔ جس میں تمہارے والد اور بھاوج شہید ہوئے تھے۔ اور ہمیں اب بھی ان لوگوں کی جانب سے جو ’’ینی چری ‘‘ میں اس وقت بغاوت پیدا کرنے کا باعث ہوئے تھے۔اندیشہ ہے کہ وہ لوگ پھر کہیں انتظام سلطنت کو درہم برہم کرنے پر نہ تل جائیں۔ اس مرتبہ ہم نے بروقت تمہیں اسی لیے طلب کیا ہے.........تاکہ پیش آمدہ خطرات پر نظر رکھی جاسکے۔ ہم چاہتے ہیں ۔ کہ تم ’’ینی چری‘‘ کے ان لوگوں پر نظر رکھو ۔ جنہیں مشکوک سمجھا جاسکتا ہے۔‘‘

قاسم سلطان محمد خان کے ارادے پوری طرح بھانپ چکا تھا ۔ سلطان ایک بار پھر قاسم کو جاسوسی کی ذمہ داری سونپنا چاہتا تھا ۔ خود قاسم کی نظر میں بھی یہ ضروری تھا ۔ کیونکہ مراد خان کی وفات کے ساتھ ہی اسے اس طرح کی خبریں ملی تھیں کہ ’’ینی چری‘‘ میں پھر بغاوت کا اندیشہ محسوس کیا جاسکتا تھا ۔ چنانچہ قاسم نے ذمہ داری قبول کرلی اور سلطان سے کہا:۔

’’سلطان معظم!......میں آپ کی بصیرت کی داد دیتا ہوں۔ خصوصاً جشن تاجپوشی کی روز تخریبی عناصر پر نظررکھنا بہت ضروری ہے..........دراصل کچھ لوگ آپ کی شخصیت اور عزائم سے خائف ہیں.......جو نہیں چاہتے کہ آپ مسلمانوں کی قیادت سنبھالیں......اور ایسے لوگ جو کوئی بھی ہیں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ لوگ شہنشاہِ قسطنطنیہ کے پروردہ اور خاص آدمی ہیں‘‘

قاسم سلطان کے ساتھ دیر گئے تک بہت سے خفیہ معاملات پر بات چیت کرتا رہا........اور پھر وہاں سے اجازت لے کر واپس آگیا۔اور پھر سلطان محمد خان کی تاجپوشی کی تقریب بھی تاریخ عثمانیہ کی ایک کبھی نہ بھلائی جانے والی تقریب ہے.......جب سلطان اور قاسم بن ہشام کے تمام انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اور دشمن عین تاجپوشی کے وقت اپنا کام دکھا گیا ۔

سلطان محمد خان کا دربار لگا ہوا تھا ۔ عمائدین سلطنت ، وزراء سلطنت ، امراء اور شرفائے شہر ..........قصرسلطانی کے دیوان عام میں جمع تھے۔ یہ ایک وسیع و عریض برآمدہ تھا ۔ جس کے چاروں طرف شرکائے تقریب کے لیے نشستیں لگائی گئی تھیں۔ اس وقت دیوان عام میں ہزار سے زیادہ افراد موجود تھے۔ سلطان کے سر پر تاج عثمانی سجا دیا گیا تھا ۔ اور شاہی خاندان کے افراد سب سے پہلے باری باری سلطان کو تاجپوشی کی مبارک باد دے رہے تھے۔ چند بزرگ مرد و خواتین کے بعد ملکہ سروین کی باری آئی ۔ یہ سلطان مراد خان کی نوجوان ملکہ تھی۔ جو شاہ سربیا لارڈ اسٹیفن کی لاڈلی بیٹی تھی اور یورپی النسل ہونے کی بدولت انتہائی حسین و جمیل بھی تھی۔

ملکہ سروین سلطان محمد خان کو بہت اچھا سمجھتی تھی۔ اور شروع دن سے سلطان کے ساتھ اخلاص و محبت کے ساتھ پیش آیا کرتی تھی۔ ملکہ سروین آگے بڑھی اور پھولوں کا تحفہ سلطان کے ہاتھوں میں تھمانے کے لیے تخت شاہی کے قریب آکر رک گئی۔ ابھی اس نے کچھ کہنے کے لیے ہونٹ کھولے ہی تھے کہ دیوان عام کے باہر اچانک شور سنائی دیا۔ ملکہ سروین اپنی جگہ رک گئی۔ سلطان کے ماتھے پر شکنیں پڑ گئیں اور وہ کسی قدر برافروختہ نظر آنے لگا۔ اس نے حکم دیا :۔

’’کون گستاخ ہے یہ؟........جو ہمارے جشن تاجپوشی میں اپنی منحوس آواز کے ذریعے بد شگونی پھیلا رہاہے.......اسے گرفتار کرکے ہمارے سامنے لایا جائے۔‘‘

بہت سے سپاہی اپنی جگہوں سے بجلی کی سرعت کے ساتھ دیوان عام سے باہر کی جانب لپکے۔ سلطان کی نظریں باہر کی طرف ہی لگی ہوئی تھیں۔ سلطان کے چہرے پر حیرت و استعجاب کے ساتھ ساتھ غصہ بھی تھا ۔ تمام اہل دربار اپنی اپنی جگہوں پر کسمسارہے تھے ۔ کچھ دیر بعد سلطان کے سپاہی ایک بوڑھے ’’خواجہ سرا‘‘ کو بازؤں سے پکڑ کر سلطان کے سامنے لے آئے۔ 

خواجہ سرا نے اپنے دونوں بازؤں میں کوئی چیز اٹھا رکھی اورجو کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے خواجہ سرا نے کوئی شیر خوار بچہ اٹھا رکھا ہے۔ بوڑھا خواجہ سرا زور زور سے روتا ہوا دربار میں داخل ہوا۔ اس نے عتاب شاہی کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی۔ وہ دربار میں د اخل ہوا اور واویلا مچا تاہوا سلطان کی خدمت میں پیش ہونے کی بجائے ۔ ملکہ سروین کے سامنے جاکر دھاڑیں مارنے لگا۔

ملکہ پہلے ہی اسے پہچان کر حیران و ششدر کھڑی تھی۔ یہ اس کا خاص خواجہ سرا تھا .........’’خادمِ خاص‘‘ ملکہ اس کے ہاتھوں میں شیر خواجہ بچہ دیکھ کر تڑپ اٹھی۔ اور سب کچھ بھول کر روتے ہوئے خواجہ سرا کی طرف دوڑی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔ یقیناًخواجہ سرا کے ہاتھوں میں ننھا شہزادہ تھا ۔

سلطان محمد خان کا معصوم بھائی جو ابھی شیر خوار تھا ۔ اور ملکہ سروین کے بطن سے تھا ۔ ملکہ زرد چہرہ لیے خواجہ سرا کی طرف بڑھی ۔ اور اپنے بچے کو اس کے بازؤوں سے چھین لیا۔ دربار پر اس واقعہ سے عجیب ماحول طاری ہوچکا تھا ۔ لوگ خواجہ سرا کے رونے اور بازؤوں میں بچے کو اٹھانے کے انداز سے .........اندازہ لگا چکے تھے۔ کہ خواجہ سر ا کے بازؤوں میں ملکہ سروین کے شیر خوار بچے کی لاش ہے۔ سلطان محمد خان جس کی عمر ابھی بمشکل بائیس سال تھی۔ اس صورتحال سے بری طرح سٹپٹا گیا تھا ۔ اسے کچھ سمجھ نہ آرہی تھی کہ یہ سب کچھ اچانک کیسے ہوگیا تھا ۔

ملکہ نے جونہی اپنے مردہ بچے کو ہاتھوں میں اٹھایا ۔ اس کی ایک دلدوز چیخ بلند ہوئی جس سے پورا دربار لرز کر رہ گیا ۔ ملکہ نے دیکھا کہ اس کا شیر خوار بچہ جس کی عمر کل آٹھ ماہ تھی۔ مرچکا تھا ۔ یہ اچانک کیسے مرگیا تھا ؟ ابھی چند لمحے پہلے تو ننھا شہزادہ اپنی ماں کے ساتھ اٹھکیلیاں کر رہا تھا اور کھیل رہا تھا ۔ پھر یہ اچانک کیا ہوا ۔ کہ خواجہ سرا اس معصوم کی لاش اٹھا کر یوں اچانک دربار میں لے آیا۔ ملکہ حاضرینِ دربار کی پرواہ کیے بغیر رو رہی تھی۔ وہ ماں تھی اور ننھا شہزادہ اس کا لختِ جگر تھا ۔ سلطان بری طرح بوکھلا چکا تھا ۔ یہ اس کا تخت نشینی کا پہلا دن تھا۔ اچانک اسے خیال آیا کہ وہ خواجہ سرا سے حقیقت حال معلوم کرے۔ اس نے کسی قدر نرم لہجے میں خواجہ سرا کو مخاطب کیا:۔

’’خواجہ سرا.........! یہ سب کیسے ہوا..........ہمیں بتاؤ۔ تاکہ ہم اس معصوم کے قاتل کو ابھی اور اسی وقت جہنم رسید کرکے اپنے ننھے بھائی کا انتقام لے سکیں۔‘‘

سلطان کے آخری الفاظ میں گرج تھی ۔ لیکن خواجہ سرا کا بیان سن کر سلطان کے پاؤں تلے سے حقیقی معنوں میں تخت نکل گیا ۔ اور وہ اچھل کر فرش پر اتر آیا۔ اور اگلے لمحے پورے دربار نے اس طمانچے کی آواز سنی جو سلطان نے بوڑھے خواجہ سرا کے چہرے پر رسید کیا تھا .......کیونکہ خواجہ سرا نے سلطان سے کہا تھا:۔

’’واہ سبحا ن اللہ ، قاتل بھی پوچھتا ہے کہ ننھے شہزادے کو کس نے قتل کیا ہے.........اے اہلیانِ دربار!.......میں دہائی دیتا ہوں......کہ اس معصوم اور ننھی جان کو تمہارے ’’نئے سلطان ‘‘ نے قتل کر وادیا ہے میں دہائی دیتا ہوں........میں دہائی دیتا ہوں۔‘‘

خواجہ سرا زور زور سے چیخ رہا تھا ۔ تمام اہلیان دربار مارے حیرت اور خوف کے سن ہو کر رہ گئے۔ خواجہ سرا نے بے حد بے باکی اور گستاخی کا مظاہرہ کیا تھا ۔ اس نے عتاب شاہی کو کھلم کھلا دعوت دی تھی۔ اس نے سر دربار ، تخت نشینی کے پہلے روز ہی سلطان محمد خان پر اپنے ننھے بھائی کے قتل کا الزام عائد کر دیا تھا ۔ ملکہ سروین یہ خبر سن کر یکدم خاموش ہوگئی۔ اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے سلطان کو دیکھنے لگی۔ کچھ وقت کے لیے سلطان سمیت تمام دربار کو سانپ سونگھ گیا ۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزیدخبریں