مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے مودی سرکار نے بھارتی آئین پر خود کش حملہ کیا :غلام نبی آزاد

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے مودی سرکار نے بھارتی آئین پر خود کش ...
 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے مودی سرکار نے بھارتی آئین پر خود کش حملہ کیا :غلام نبی آزاد

  


نئی دہلی(ڈیلی پاکستان  آن لائن)ہندوستانی راجیہ سبھامیں اپوزیشن لیڈر اور  انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر اپوزیشن کے مشترکہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے مودی سرکار کے اقدام کو آئین پر خود کش حملہ قرار دے دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق تامل ناڈو میں اپوزیشن کی نو جماعتوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مودی سرکار کے اقدام کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے بھی خطاب کیا۔اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے اسیر کشمیری رہنماوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں کشیدہ صورت حال سنگین صورت اختیار کرگئی ہے، مسلسل کرفیو نافذ کر کے لوگوں کو محصور کردیا گیا ہے اور رہنماوں کو گھروں میں نظر بند اور جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے قابض بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں ہے،مقبوضہ کشمیر میں بہت کچھ برا ہو رہا ہے، جسے مودی سرکار چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی رہنما سیتا رام نے بھی آئین کے آرٹیکلز 370 اور 35-اے کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی کو آئین کے ستونوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔مظاہرین کے شرکا نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں، عوامی نمائندوں اور معصوم شہریوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...