بھارتی ہائی کمیشن، لندن کی بوکھلاہٹ؟ 15 اگست 2019ء بطور ”یوم سیاہ“ تسلیم؟

بھارتی ہائی کمیشن، لندن کی بوکھلاہٹ؟ 15 اگست 2019ء بطور ”یوم سیاہ“ تسلیم؟
بھارتی ہائی کمیشن، لندن کی بوکھلاہٹ؟ 15 اگست 2019ء بطور ”یوم سیاہ“ تسلیم؟

  


بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے ملکی آئین بالائے طاق رکھا اور مقبوضہ وادیء کشمیر کے عرصہ دراز سے حاصل خصوصی آئینی حیثیت بذریعہ دھونس دھپہ، بیک جنبش قلم تبدیل کر کے جنت نظیر وادی ہڑپ لی ہے۔پوری وادی کرفیو میں جکڑ کر دُنیا سے اس کا ہر قسم کا مواصلاتی رابطہ بھی منقطع کر رکھا ہے، مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ اسی پر بس نہیں کی گئی، عرصہ دراز سے وادی پر قابض آٹھ لاکھ بھارتی فوجیوں کے علاوہ فورسز کی وردیوں میں ملبوس حکمران پارٹی ”بی جے پی“ کے مزید تیس ہزار مسلح غنڈے قتل وغارت کی غرض سے وادی میں داخل کر دیئے گئے ہیں۔ اس یک طرفہ غاصبانہ و ظالمانہ بھارتی اقدام کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر کے متعدد ممالک میں بسنے والے کشمیری بھائیوں اور تارکین وطن پاکستانیوں نے اس سال 15 اگست یعنی بھارت کے ”یوم آزادی“ کو ”یوم سیاہ“ (Black Day) قرار دے کردنیا کے کئی بڑے شہروں میں زبردست احتجاجی مظاہرے اور مذمتی ریلیاں منعقد کیں جن میں بھارت کے غاصبانہ و جارحانہ اقدامات پر شدید غم و غصے کے اظہار کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کے دیرینہ مطالبے اور وادی کے پاکستان میں انضمام کے عزم کا بھرپور اعادہ بھی کیا گیا۔ ونیز قابض بھارتی فورسز اور مسلح غنڈوں کے ہاتھوں نہتے کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم، لاک ڈاؤن، وہاں کے مسلمانوں کی سوچی سمجھی نسل کشی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں اور 80لاکھ مسلمانوں کی گھروں میں نظر بندی پر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا گیا۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں اس سلسلے میں دو بڑے احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے۔ پہلا مظاہرہ بھارتی ہائی کمیشن کی عمارت کے سامنے، جبکہ دوسرا لندن کے شہرۂ آفاق ”ٹرا فالگر سکوائر“ پر منعقد ہوا۔ ان میں اول الذکر مظاہرہ بالخصوص قابل ذکر اور عدیم المثال تھا جس میں برطانیہ بھر سے کشمیری برادری، پاکستانی تارکین وطن اور سکھ برادری کے علاوہ دیگر کئی قومیتوں اور مذاہب سے وابستہ ہر طبقہ فکر کے افراد نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی جن میں نوجوان مرد و زن اور بچے بوڑھے بھی شامل تھے۔ خون گرما دینے والے اس روح پرور مظاہرے کو دنیا بھر کے معتبر ترین میڈیا نے براہ راست کور (Cover) کیا۔ غیر جانبدار میڈیا ہاؤسز کے مطابق یہاں مظاہرین کی تعداد بارہ سے پندرہ ہزار تھی۔ میڈیا اور مظاہرے کے شرکاء کی متفقہ رائے یہ بھی تھی کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں عرصہ دراز سے جاری بھارتی جارحیت اور چیرہ دستیوں کے خلاف چشم لندن نے اس سے بڑا مظاہرہ کبھی نہیں دیکھا۔ اگرچہ پولیس کے چاق و چوبند اہلِ کار کسی غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لئے موقع پر موجود تھے، مگر اس کے باوجود یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کی عمارت کے باہر مین روڈ کے دائیں بائیں دونوں اطراف کے علاوہ ملحقہ ذیلی سڑکوں پر تاحدِ نگاہ پُرجوش مظاہرین کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر اور دل دہلا دینے والے نعروں کی گھن گرج نے ہائی کمیشن کے اندر موجود اچھے اچھوں کے ہوش اڑا اور اوسان خطا کر دیئے ہوں گے۔ شاید اس حوالے سے یہ قابل ذکر بات بھی مشاہدے میں آئی کہ ہائی کمیشن کی عمارت میں ”یوم آزادی“ نام کی کسی تقریب یا سرگرمی کے آثار کم از کم باہر سے تو دکھائی نہ دیتے تھے،ہاں اگر باہر جاری مظاہرے سے گھبرا کر اندر بند کمروں میں کوئی ناچ گانا وغیرہ چھپ چھپا کر رچا لیا گیا ہو تو یہ الگ بات ہے!

آمدم برسرمطلب! راقم کئی برسوں سے لندن کا رہائشی ہے۔ خوش قسمتی سے اس سال ”یوم سیاہ“ پر مندرجہ بالا مظاہرے کا بہ نفسِ نفیس نظارہ کرنے کا موقع میسر آیا۔ اس مقصد سے اس روز صبح گھر سے نکلتے وقت راقم نے بھارتی ہائی کمیشن،لندن کا ایڈریس و محل وقوع وغیرہ معلوم کرنے کے لئے ان کی ویب سائٹ (Website)کھولی تو ”ہوم پیج“ نے چونکا دیا، وہ اس لئے کہ عمومی معلومات پر ہدایات کے علاوہ ہائی کمیشن میں اس روز منعقد کئے جانے والے Events یعنی تقریبات کے ضمن میں ”یوم آزادی“ کی کسی تقریب کی بجائے حیران کن طورپر وہاں انگریزی زبان میں "Black Day Protest" یعنی ”احتجاج بہ سلسلہ یوم سیاہ“ کے الفاظ درج تھے۔ بہت اچنبھا ہوا کہ بھارتی ہائی کمیشن کے ہاتھوں سفارتی و سرکاری سطح پر یہ سنگین غلطی آخر سرزد کیسے ہو گئی ہے، تاہم،راقم اس وقت عجلت میں تھا، اس لئے اس بابت مزید غور نہ کیا، سوچا کہ غلطی کا ادراک ہوتے ہی وہ لوگ فوری درستی کر لیں گے…… بہرکیف، راقم مقام مقصود جاپہنچا۔ مظاہرے کی روداد اوپر پیش خدمت کی جا چکی ہے…… مظاہرے کے اختتام پر شام ڈھلے گھر لوٹا تو یکایک تجسس نے سر اٹھایا۔

بھارتی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ دوبارہ چیک کی تو تعجب و حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ ہائی کمیشن میں اس روز کے Events کے ضمن میں "Black Day Portest" کے الفاظ جوں کے توں درج تھے، جبکہ یوم آزادی کا کوئی ذکر اذکار تک نہ تھا۔ ایک عجیب طرح کی طمانیت کی لہر جسم میں دوڑ گئی،موقع غنیمت جانا اور ویب سائٹ ہذا کے متعلقہ صفحے(ہوم پیج) کی چند ایک تصاویر جھٹ پٹ اتار لیں، تاکہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں۔چنانچہ یہ تصاویر زیر نظر تحریر کے ساتھ لف ہیں،ایک تصویر کے نچلے دائیں کونے میں کمپیوٹر سکرین پر 15اگست کی تاریخ اور وقت نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ تصاویر ملاحظہ فرمایئے اور سر دھنیئے کہ کس طرح بھارتی ہائی کمشن لندن کی ویب سائٹ اپنے یوم آزادی کی بجائے یوم سیاہ کا پرچار کرکے دن بھر بھارتی سرکار کا منہ چڑاتی رہی۔ گویا: ”وہ خود کو کہہ رہا ہے کہ بے ننگ و نام ہے!“…… اب ذرا غور فرمایئے کہ اس روز اس ویب سائٹ کو وزت کرنے والے سینکڑوں ہزاروں بھارتی اور غیر بھارتی کرم فرماؤں کی نظر میں کیا مذاق نہ بنا ہو گا بھارت سرکار کا!!

اب اس سے غرض نہیں کہ بھارت سرکار اپنے ہائی کمیشن کی اس ”سیاہ کاری‘ پر کیا ایکشن لیتی ہے۔ البتہ وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھارت کے ازلی مخاصمانہ اور مبنی پر دشمنی رویے کے باوجود راقم پورے خلوص سے سمجھتا ہے کہ ہائی کمیشن کی یہ غلطی ہرگز دانستہ نہیں تھی۔ وہ تو یوں ہے کہ اس روز ہائی کمیشن کی ناک کے عین نیچے مقبوضہ وادی ء کشمیر کی شمع کے ہزاروں پروانوں کے دل دہلا دینے والے فلک شگاف نعرے ویب سائٹ کے ذمہ داران کے اوسان خطا اور دماغ غیر حاضر کر دینے کی پوری پوری صلاحیت یقینا رکھتے تھے،لہٰذا ہیجانی کیفیت میں اگر ”یوم آزادی“ کی جگہ ”یوم سیاہ“ لکھ دیا گیا تو اچنبھا کیسا؟…… کشمیر بنے گا پاکستان! پاکستان زندہ باد!

مزید : رائے /کالم


loading...