فواد چودھری کا ”آئیڈیا!“

فواد چودھری کا ”آئیڈیا!“
فواد چودھری کا ”آئیڈیا!“

  


سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر نوجوان، مرنجاں مرنج اور متحرک شخصیت ہیں۔ مَیں عموماً شخصیات پر لکھنے اور حکایات کے ساتھ بات آگے بڑھانے کا قائل نہیں، تاہم ان کے ایک بیان نے لکھنے پر مائل کیا، جو حال ہی میں سامنے آیا ہے کہ اگر ان کے شعبہ وزارت سے متعلق کسی کے پاس کوئی آئیڈیا (منصوبہ) ہے تو وہ ہم سے شیئر (تبادلہ) کرے!فواد چودھری صاحب کے اس بیان سے صحیح یا غلط، قیاس کیا جا سکتا ہے، کہ وہ اپنے آپ کو ”عقل ِ کُل“ خیال نہیں کرتے۔ سیاست میں آنا، یا آگے بڑھ جانا (بلکہ کسی بھی شعبہ حیات میں کامیابی) محنت و قابلیت سے کہیں زیادہ اتفاق، قسمت، ماحول موقع یا کسی دیگر سبب کا مرہون منت ہو سکتا ہے۔ نہیں، بلکہ ہوا کرتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں تو عموماً ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔

واقعہ یہی ہے کہ اعلیٰ مناصب پر فائز ہونا، فقط قابلیت یا محنت کی دلیل نہیں۔ واقعی دیانت و حقیقی ذہانت فی الواقع شخصی ترقی کے سفر میں سدراہ ہیں۔ملک میں فواد چودھری کے معترضین و ناقدین کی کمی نہیں۔ ان کے خاندانی پس منظر وپیش منظر یا روایات و اقدار کے بارے میں گفتگو محض اضافی متصور ہو گی۔ مجھے فواد چودھری کی خوبیوں اور خامیوں کی نسبت کے حوالے سے بھی بالکل نہیں لکھنا اور نہ اس امر وعمل کا کوئی موقع ہے۔ لگتا یہ ہے کہ موصوف شاید ملک وقوم کے لئے کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں۔ ان کا اپنے شعبہ وزارت میں بہتری کے سفر کا اعلان کافی سے زیادہ خوش آئند ہے، منفرد اعزاز اور عظمت تصور میں! فواد چودھری کے حسب ِ آرزو بہت کچھ کہا جاسکتا ہے، اور کہنا بھی چاہئے! اس جگہ مختصراً دو ایک نکات قلمبند کئے جاتے ہیں۔سنجیدگی کا تاثر ملا تو موضوع کو مزید آگے بڑھایا اور بالواسطہ یا بلاواسطہ زیر بحث لایا جائے گا۔

اگر آپ نے اس بدقسمت ملک وقوم کے لئے واقعی کچھ کرنے کا عزم باندھ لیا ہے تو تعلیمی اداروں میں سائنس اینڈٹیکنالوجی کا فطری ماحول متعارف کروا دیں، تاکہ لیبارٹریز میں نقالی کے بجائے دریافت و ایجاد کا اصل سفر شروع ہو! جو ابھی تک مکھی پر مکھی مارنے تک محدود ہے! وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام جدید طرز کے ایک معیاری ماہانہ میگزین کی باقاعدہ طباعت و اشاعت کو ممکن بنائیں، اور اس میں عالمی سطح کے تحقیقی مضامین کو جگہ دی جایا کرے۔یہ رسالہ خالص تحقیقی سائنسی موضوعات کی خاطر وقف ہونا چاہے، جس میں ریسرچ ورک کرنے والوں کو خاطر خواہ معاوضہ بھی ملے، نیز پوری دُنیا، بالخصوص ترقی یافتہ ممالک کی ماہ بہ ماہ کارکردگی و کار گزاری بھی اس کا مستقل حصہ ہونا چاہے۔

پھر ایک سالنامہ، جس میں گزشتہ مدت کے نتائج کا ناقدانہ جائزہ لیا اور موضوعات کو آگے بڑھایا جائے، اس میگزین کی خریداری نجی و سرکاری تمام تعلیمی اداروں پر لازم ہو۔

سائنسی دُنیا کے کسی بھی شعبے، مثلاً میڈیکل سائنس، فلکیات اور اراضیات وغیرہ میں نمایاں کا رنامہ سرانجام دینے والوں کو سرکاری سطح پر گولڈ میڈل دینے، حکومتی سرپرستی میں لینے، معاشرے میں معتبر ٹھہرانے اور بصورت رائلٹی معاشی آہوں اور اقتصادی کراہوں سے موجد و سکالر اور ان کے اہل وعیال کو محفوظ کر دینے کا انتظام وبندوبست کر دیں! روشنی دینے والے کو بھی اپنے گھر کے لئے ایک دیا درکار ہوتا ہے! پرنٹ میڈیا کو بھی پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر چوتھائی یا آدھ صفحہ اس امر کے لئے مختص کر دیں۔ اس طرح الیکٹرونک میڈیا پر کم ازکم آدھ یا ایک گھنٹہ اس موضوع پر پروگرام کرنا ناگزیر قرار دے دیا جائے! اگر نجی چینل پر بھانڈو میراثی اور جگت بازی وفحش گوئی رواج پا سکتی ہے تو یہ کیوں نہیں؟

ایسے ماحول کا رواج پانا ضروری ہے کہ لوگ سائنسی زاویوں سے دیکھنے اور سوچنے لگ جائیں۔ اس مقصد کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک ترکیب بروئے کار لائی جا سکتی ہے اور لائی جانی چاہئے! یکبارگی اعلان کر دیجئے کہ اگر کوئی خواندہ یا ناخواندہ پاکستانی کسی بھی شعبے میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کوئی دریافت یا ایجاد کی اہلیت رکھتا ہے تو وہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے رابطے(جو بہت ہی آسان تجویز ہو سکتا ہے) میں آئے، اسے جملہ سہولیات بہم پہنچائی جائیں گی!ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے عزت و احترام کو فی الفور بحال کیا جائے۔عوام کے نزدیک ذوالفقار علی بھٹو کے بعد،ان کے ساتھ عموماً سوتیلے پن کا سلوک روا رکھا جاتا رہا ہے۔اسلام آباد یا لاہور میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی جائے،جس کا مکمل کنٹرول ڈاکٹر عبدالقدیر کے سپرد ہو،فی الفور کسی کالج کو بھی یونیورسٹی کا درجہ دیا جا سکتا ہے! مندرجہ بالا آئیڈیاز کو نوک پلک سنوار کر بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔تمام جزئیات و تفصیلات کو قابل ِ عمل صورت میں سامنے لانا کون سا مشکل مرحلہ ہے؟آئیڈیاز کی کمی نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عقل و شعور کی کس سے بات کریں۔ کیا ان سے جو بات سمجھتے ہی نہیں، جن کا دعویٰ عقل ِ کل ہونے کا ہے! اس قرینے سے فواد چودھری بارش کا پہلا قطرہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔اوّلاً، ایک قدم وہ اٹھائیں، ثانیاً، دس قدم امنگ و ترنگ رکھنے والے شہری اٹھائیں گے!

مزید : رائے /کالم


loading...