ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کا معاملہ

ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کا معاملہ
ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کا معاملہ

  


وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کے بارے میں جملہ معاملات پر غور کرے گی اورپھر حکومت کواپنی حتمی سفارشات پیش کرے گی۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی ممبران میں سیکریٹری فنانس، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکریٹری وزارت دفاع،سیکریٹری قانون و انصاف ڈویژن، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے علاوہ فنانس ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری بھی شامل ہیں جو کمیٹی کے سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیں گے۔کمیٹی کے دائرہ کار میں / ٹرمز آف ریفرنسز میں ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کے قانونی، مالی، انتظامی، ادارہ جاتی کارکردگی اور معاشی پہلوؤں پر غور کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پر اثرات کا جائزہ لینا شامل ہیں۔ ٹرمز آف ریفرنسز میں یہ بھی شامل ہے کہ کمیٹی تحقیق کے بعد سفارشات پیش کرے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کی تجویز قابل عمل بھی ہے کہ نہیں اگر قابل عمل ہے تو پھر اس پر عمل درآمد کرنے کا لائحہ عمل بھی بتائے یہ بھی بتائے کہ کیا اس تجویز کو بلا تفریق و تخصیص تمام سرکاری ملازمین پر لاگو کیا جائے یا اس میں تفریق ہونی چاہئے اس کام کے لئے کمیٹی کو تین ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔

سول سروسز آف پاکستان جسمیں صوبائی سروسز کو بھی شامل کرکے اگر دیکھا جائے تو ان کی کارکردگی کے حوالے سے بہت سے اور بڑے بڑے سوالیہ نشان سامنے آتے ہیں ہماری سرکاری محکمہ جاتی کارکردگی کسی بھی اعتبار سے قابل ستائش نہیں عامۃ الناس کو سہولیات کی فراہمی کے ذمہ دارسرکاری محکمے ایک عرصے سے شدید نکتہ چینی کی زد میں ہیں۔ کارِ سرکار ایک انتہائی سنجیدہ کام ہے جسے کمزور اور غیر فہمیدہ ہاتھوں میں نہیں دیا جا سکتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سرکار اور حکومت کی کارکردگی کے بارے میں عمومی رائے عامہ مثبت نہیں ہے سرکار اور حکومت سے مراد کسی سیاسی یا غیر سیاسی جماعت کی سرکار یا حکومت نہیں بلکہ سرکاری اداے اور سرکاری اہلکار ہیں حکومتیں آنی جانی ہوتی ہیں، لیکن سرکار، سرکاری ادارے اور انکو چلانے والی سرکار مستقبل اور متواتر و مسلسل ہوتی ہے۔ اس لئے اگر اس کی کارکردگی مثالی نہ ہو اور رائے عامہ بھی اس کے موافق نہ ہو تو پھر سنجیدگی سے سوچ وبچار کیجانی چاہئے۔

ہمیں تقسیم کے بعد جو نظم سرکار اور اس کو چلانے والے ملے تھے وہ اپنی سوچ اور کارکردگی کے اعتبار سے منظم اور محترم تھے انہوں نے نئی مملکت کو بہتر اور مضبوط بنیادوں پر اٹھایا یہ انہی بنیادوں کا کمال ہے کہ ریاست پاکستان آج ایک موثر پوزیشن پر کھڑی ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے محکمے عوام کو سروسز کی فراہمی کے حوالے سے توقعات پر پورے نہیں اتر رہے ہیں عامۃ الناس میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ سرکار پاکستان پر ایک عام آدمی کا اعتماد اٹھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان وسائل کا بہتر اور موثر استعمال نہ ہونا ہے گویا دستیاب وسائل کو استعمال میں لانے کے حوالے سے ہماری سرکاری / حکومتی مشینری فعال اور موثر نہیں ہے۔ یہ بات طے ہو چکی ہے کہ سرکار کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے سرکاری مشینری کی اوورہالنگ کی ضرورت ہے اس حوالے سے ڈاکٹر عشرت حسین نواز شریف کے دور حکمرانی میں خاصا کام کر چکے ہیں انہوں نے سول سروسزریفارمز کے حوالے سے اپنی سفارشات کو حتمی شکل بھی دے دی تھی احسن اقبال نے اس حوالے سے قوم کو خوشخبری بھی سنائی تھی کہ سرکاری مشینری کو ریفارم کیا جا رہا ہے، لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہو سکا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عشرت حسین کی کاوشوں کا اعتراف تحریک انصاف حکومت نے بھی کیا ہے اور انہیں وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات جیسے اہم عہدے پر فائز کیا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطاق ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال کی بجائے 63 سال کر دی جائے گی۔ ویسے اس معاملے کا ریفارمز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے بات یہ ہے کہ حکومت نقدیت (LIQUIDITY)کے بحران کا شکار ہے زر نقد کی قلت ہے وصولیوں کے اہداف پورے نہیں ہو رہے ہیں جبکہ سرکاری اخراجات ہیں کہ قابو میں نہیں آرہے ہیں آئی ایم ایف کے ماہرین نے سرکاری اخراجات میں کمی کی تجاویز میں پنشن ادائیگیوں میں کمی کی تجویز بھی شامل کی تھی اگر ان ادائیگیوں کے حجم میں اضافے پر قابو پا لیا جائے تو تھوڑی بہت خیر کی صورت پیدا ہو گی۔ اس لئے حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 63 کر دی جائے تو 4 سال تک پنشن کی ادائیگیوں کا حجم بڑھنے نہیں پائے گا۔ اور پہلے سے جاری ادائیگیاں ہی کرنا ہونگی یعنی 2019ء میں ریٹائر ہونے والے 2022ء میں ریٹائر ہوں گے گویا 3 سال تک پنشن ادائیگیاں موخر ہو جائیں گی اور اس طرح 4 سال تک پنشن اخراجات میں اضافہ نہیں ہو گا۔ یہ ایک صائب تجویز ہے۔

خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس حوالے سے حتمی فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ تجویزکی کابینہ میں منظوری بھی ہو چکی ہے حکومت پنجاب نے بھی اس تجویز پر اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ تجویز مختلف مقامات سے ہوتی ہوئی سفارش کی شکل میں تیار ہو چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے وزیراعلیٰ کی منظوری کے لئے سمری کی تیاری کی جا رہی ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ ایک مناسب تجویز ہے اس پر عمل درآمد کے ذریعے نہ صرف حکومت کو نقدیت کے بحران اور اخراجات پر قابو پانے میں مدد ملے گی، بلکہ کارسرکار کو چلانے کے لئے منجھے ہوے، تجربہ کار اور فعال افراد کی ایک کھیپ بھی مل جائے گی، جس سے کارسرکار میں بہتری اور فعالیت پیدا ہو گی۔ ہمارے ہاں ریٹائرمنٹ سے کم از کم دوسال قبل ہی ریٹائرمنٹ کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔

ریٹائر ہونے والا فرد اپنے آپ کو سرکاری ذمہ داریوں سے فارغ ہی سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھی اور افسران بھی اسے فارغ ہی سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اسطرح ایک فرد اپنی پیشہ وارانہ زندگی کے عروج پر جب وہ بہت کچھ کرنے یعنی ڈیلیور کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے، اپنے آ پ کو فارغ سمجھنا شروع کر دیتا ہے 60 سال کا ہندسہ، ایک پیغام دیتا ہے کہ بس اب فعالیت ختم، کچھ کرنے، کہنے، سننے کی صلاحیت ختم، زندگی پوری ہوگئی ہے جس کے باعث سرکاری ملازمین کی ایک معقول تعداد، غیر فعالیت کا شکار ہو جاتی ہے، حالانکہ وہ اپنی صلاحیت اور تجربے کی بنیاد پر بہترین نتائج ظاہر کرنے کے لائق ہوتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کے بعد یہ لوگ، نفسیاتی طور پر بھی 60 سال کی عمر کے بعد بھی کارکردگی دکھانے کے لئے تیار ہوں گے انہیں غیر فعال بنانے والے عوامل کی غیر موجودگی میں ان کی کارکردگی کارسرکار کی بہتری کے لئے دستیاب ہو گی۔

اب ہم آتے ہیں ایک انتہائی سنجیدہ اعتراض کی طرف کہا جاتا رہا ہے کہ اس تجویز پر عمل درآمد کے نتیجے میں نوجوانوں کے لئے سرکاری ملازمت کے دروازے بند ہو جائیں گے،کیونکہ ریٹائرمنٹ کے باعث سیٹیں خالی ہوتی ہیں اور نئی آسامیاں نکلتی ہیں جس کے باعث نوجوانوں کوسرکاری ملازمت کے مواقع میسر آتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ بات ٹھیک لگتی ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کے باعث ایسا ہو سکتا ہے اور کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے کہ جب پرانے لوگ سیٹیں خالی ہی نہیں کریں گے تو نوجوانوں کے لئے سرکاری روزگار کے مواقع کہاں پیدا ہوں گے۔ یہاں ایک اور بات بڑی اہم ہے کہ سرکاری محکموں، کارپوریشنوں اور اتھاریٹر میں سینکڑوں نہیں ہزاروں منظور شدہ آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ان کے لئے بجٹ بھی منظور ہوا پڑا ہے،

لیکن محکمے ان پر تقرریاں کرنے کا عمل شروع نہیں کر رہے یہ آسامیاں گزشتہ کئی سال سے ایسے ہی پڑی ہیں اگر مرکزی طور پر چاروں صوبائی محکموں اور فیڈرل اداروں میں پڑی خالی آسامیوں کا حساب کتاب کیا جائے تو شائد یہ تعداد ہزاروں نہیں لاکھوں میں چلی جائے گی۔ یہ آسامیاں ایسی ہیں کہ جن پر تعیناتی کرنے کے لئے صرف اشتہار دینا ہے اور پھر معاملات آگے بڑھنا شروع ہو جائیں گے۔ ان آسامیوں پر تعیناتیوں کے لئے طریق کار وغیرہ سب کچھ طے شدہ ہے بجٹ کی منظوری بھی ہو چکی ہے۔اس لئے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کے باعث نوجوانوں کے لئے سرکاری ملازمت کے دروازے نہ تو تنگ ہوں گے اور نہ ہی بند ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...