وفاقی حکومت کراچی کے لئے 1200کیوسک پانی فوری طور پر فراہم کرے،سعید غنی نے سندھ کابینہ کے فیصلوں کا اعلان کر دیا

 وفاقی حکومت کراچی کے لئے 1200کیوسک پانی فوری طور پر فراہم کرے،سعید غنی نے ...
 وفاقی حکومت کراچی کے لئے 1200کیوسک پانی فوری طور پر فراہم کرے،سعید غنی نے سندھ کابینہ کے فیصلوں کا اعلان کر دیا

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیراطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے تمام ہسپتالوں کے لئے ادویات کی خریداری کے عمل کو آسان بنانے کے لئے صوبائی وزیرایکسائز مکیش کما ر چاولہ ، وزیرزراعت اسماعیل راہو، مشیرقانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جبکہ ہسپتالوں میں ادویات کی قلت کو ختم کرنے کے لئے محکمہ صحت کے پاس پہلے سے موجود ادویات کو فوری طور پر ہسپتالوں کو مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ کابینہ نے ایس ایم بی بی انسٹیٹیوٹ آف ٹراما کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا چارج کسی گریڈ20 کے میڈیکل افسر کو دینے کی منظو ری دے دی اور فیصلہ کیا ہے کہ وزیر صحت سندھ کی منظوری سے یہ چارج دے دی جائے گی،سندھ کابینہ نے ٹیچنگ ہاسپیٹلز مینجمنٹ بورڈ بل۔2019کی منظوری دے دی، ٹیچنگ ہسپتال کی مینجمینٹ بورڈ متعلقہ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی چیئرمین شپ میں کام کرے گاجبکہ بورڈ 11 ممبران پر مشتمل ہوگا ،بورڈ کا کام پالیسی پلان کی نگرانی ،ہسپتالوں کی سروسز کو بہتر بنانا اور یونیورسٹی سے وابستہ کالجز کے معاملات کو دیکھنا اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی ہے،سندھ کابینہ نے خیرپور میڈیکل کالج کے 83 عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی،کابینہ نے ملازمین کی تعلیم اور عمر کو مد نظر رکھ کر مستقل کرنے کی منظوری دی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعیدغنی نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ نے سیلاب کی صورتحال پر غوروفکر کیا گیا ،سیکریٹری آبپاشی سعید منگنیجو نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ سیلابی صورتحال کنٹرول میں ہے ، کوئی خطرے کی بات نہیں ،گڈو بیراج پر نچلی سطح کا سیلاب ہے،اس وقت گڈو پر اپ سٹریم  274000 اور 241000 ڈاؤن سٹریم پانی کا بہاؤ ہے،کچھ بندوں پر کٹاؤ  ہواہے جس پر کام جاری ہےجبکہ اولڈ ٹوری بند  پر سپرس تعمیر کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ سندھ کابینہ نے سندھ وومین ایگریکلچر ورکرز ایکٹ 2019 کی منظوری دے دی ، یہ ایک تاریخی قانون ہےجس کا مقصد زراعت ، جانوروں کی پالنا ، پولٹری  اور ماہیگیری سے وابستہ خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے،اس پروگرام کے تحت خواتین ہاریوں کو بینظیر وومین سپورٹ پروگرام کے تحت یونین کونسل سطح پر رجسٹرڈ کیا جائے گا،یہ بل خواتین کی سوشل پروٹیکشن کا بل ہے جوکہ ایک ہفتے کے اندر سندھ اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے مزید بتایا کہ سندھ کابینہ نے 14 رکنی سندھ ایمپلائیز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹ ( سیسی ) کی گورننگ باڈی کے قیام کی منظوری دے دی ہےجبکہ سندھ کابینہ میں 8 رکنی سندھ مینمم ویجز بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے، خصوصی افراد کو  بااختیار بنانے کے لئے 62  رکنی ایڈوائزری کونسل کے قیام کی منظوری سندھ کابینہ نے دے دی ہے،کونسل کا چیئرمین متعلقہ محکمہ کا صوبائی وزیر ہوگاجبکہ وائس چیئرمین سیکریٹری محکمہ ای پی ڈی ہوں گے۔ صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے پیشِ نظر  آئی ٹی سی  ایڈوائزری کمیٹی کا قیام عمل میں لایاگیا  ہےجس میں آٹی انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کو شامل کیا گیا ہے تاکہ صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان غذائی قلت کے مسئلے سے دوچار ہے،نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق مائکرو نیوٹرن کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور ملک کی آدھی خواتین اور بچوں کی آبادی غذائی قلت کا شکار ہے،اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے سندھ کابینہ نے سندھ فوڈ فورٹیفکیشن بل 2019 جی منظوری دی ہے،اسے جلد سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ جنگلات سے متعلق پائدار پالیسی کے لئے صوبائی وزیر جنگلات سید ناصر حسین شاھ ، وزیر معدنیات  شبیر بجارانی ، مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ، مشیر برائے سماجی بہبود سید اعجاز شاھ پر مشتمل  4 رکنی کمیٹی قائم کردی ہے،یہ کمیٹی 15 روز کے اندر پالیسی کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ کابینہ میں پیش کرے گی۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے مزید کہا کہ سندھ کابینہ نے سندھ سیف سٹیز بل 2019 کی منطوری دے دی ہے۔اتھارٹی کا ڈی جی محکمہ پولیس سے ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے قانون سازی کے لئے کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے جس میں صوبائی وزیر پارلیامانی امور مکیش کمار چاولہ اور مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے یہ کمیٹی نجی بلز کے لئے ہوگی۔صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے مزید بتایا کہ تھر کول پروجیکٹ میں پانی کے استعمال کے معاملے پر  صوبائی وزیر آبپاشی سید ناصر حسین شاھ ، صوبائی وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ اور مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جوکہ سندھ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر اطلاعات سندھ  سعید غنی نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی ہے تو سازشیں شروع ہوجائی ہیں ، کٹپتلیاں ہر جگہہ ہیں سندھ میں بھی ہیں ان کو آسرے میں رکھنے کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں، ہر  ماہ کے بعد ان کو خواب دکھائے جا تے رہے ہیں،اس دفعہ بھی لوگوں نے شیروانیاں بنائی ہیں ،ان افراد کو گھوٹکی انتخابات سے سیکھنا چاہئے،سندھ کے عوام نے ان کو پھر رد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے اراکین پارٹی کے ساتھ ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوامی مقامات اور پارکس میں کچرہ نہیں پھینکا جا سکتا، کچرہ لینڈ فل سائیٹس پر ڈمپ کیا جائے،اس سلسلے میں صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاھ نے علی زید ی کی مہم پر ان کو خط لکھ کر مکمل طور پر آگاہی دے دی ہے، صرف ہم نے نہیں ڈی ایم سی وسطی کے چیئرمین نے بھی اس سلسلے میں خط لکھا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رقم صوبے کی ہے وہ ہمیں ملنی ہے ، وفاق بیچ میں کہاں آگیا۔صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعیدغنی نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کے لئے 1200کیوسک پانی فوری طور پر فراہم کرے جبکہ ایس تھری اور کے فور منصوبوں کے 50 فیصد اخراجات کاوعدہ جو وفاقی حکومت نے کیا تھا وہ پورا کرے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...