”مولانا و دیگر اٹک بھی کراس نہیں کر سکیں گے ،قومی املاک کو نقصان پہنچا یا گیا تو چھترول ہوگی“وفاقی وزیر داخلہ نے مولانا فضل الرحمان کو خبر دار کردیا

”مولانا و دیگر اٹک بھی کراس نہیں کر سکیں گے ،قومی املاک کو نقصان پہنچا یا گیا ...
”مولانا و دیگر اٹک بھی کراس نہیں کر سکیں گے ،قومی املاک کو نقصان پہنچا یا گیا تو چھترول ہوگی“وفاقی وزیر داخلہ نے مولانا فضل الرحمان کو خبر دار کردیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے مولانا فضل الرحمان سمیت سڑکوں پر آنے والے دیگر رہنماوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں پر آنے والے اپنی موت خود مریں گے ،قومی املاک کو نقصان پہنچا یا گیا تو چھترول ہو گی ۔

نجی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“میں گفتگو کرتے ہوئےوفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ نے کہا کہموجودہ حالات میں اگر مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی تو لوگ انہیں خود ہی روک لیں گے ، اسلام آباد میں ایک حد تک پرامن مظاہرین کو کچھ نہیں کہیں گے، یہ یاد رکھیں یہ دارالحکومت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کنٹینر اور پانی فراہم کرنے والی بات صرف ان لوگوں سے متعلق ہے جو شیشے نہ توڑیں اور پراپرٹی  کو نقصان نہ پہنچائیں  بلکہ قانون کے دائر ہ میں رہ کر احتجاج کریں  اگر وہ پرامن احتجاج کریں گے تو موسٹ ویلکم اورہم کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے،اگر یہ ان حالات میں نکلے تو لوگوں نے انہیں ادھر ہی اینٹیں مارنی ہیں، میں تو کہتا ہوں یہ نکلیں تاکہ اپنی موت آپ مریں، ملک اس وقت  حالت جنگ میں ہے، یہ اس لئے جلوس نکالنا چاہتے ہیں کہ یہ حکومت میں نہیں ہیں یا ان کی سنی نہیں  جارہی، 90 کی دہائی چلی گئی ہے، اب دنیا بدل گئی ہے ،سوشل میڈیا نے لوگوں کو ایجوکیٹ کردیا ہے، مجھے یقین  ہے کہ یہ لوگ اٹک بھی نہیں  کراس کرسکیں گے  ان کو عوام روکے گی  اور کہے گی جاکر اپنے  گھر بیٹھو۔

بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہمیں اتنا بیوقوف نہیں کہ عرفان صدیقی کو اندر کراؤں بلکہ میں نے اسے چھڑایا ہے، میں اگر کسی کو پکڑاؤں گا تواس پر ایسے الزامات ہوں گے تو وہ باہر نہیں آسکے گا، حکومت کا  عرفان صدیقی کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ  دنیا میں کوئی بھی مسئلہ کبھی جنگ سے حل نہیں ہوا آخر کار مذاکراتی میز اور دوطرفہ  بات چیت سے  تنازع کا حل نکلا  ہے،مقبوضہ کشمیر میں المیہ شروع ہوچکا ہے،تشدد بڑھ گیا ہے، بھارت نے  صورتحال کو دنیا سے چھپانے کیلئے لاک ڈائون کررکھا ہے،بھارت سے  تجارت معطل کرنے  سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،وہ وقت چلا گیا جب دو ملکوں کے درمیان جنگوں میں دیگر ممالک تالیاں بجاتے تھے،اب کوئی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا،50سال کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ہے،مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی اس سے بھارت کی تنہائی بڑھے گی،ساری مسلم امہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے،ہمیں دنیا بھر میں رائے عامہ کو ہموارکرنا ہے  کیونکہ  بھارت نے اقوام متحدہ کی پروا نہیں کی، مسئلہ کشمیری ایٹمی فلیش پوائنٹ بن گیا ہے، اللہ نہ کرے کہ ہم بھارت کے ساتھ جنگ پر جائیں کیونکہ دونوں ایٹمی ملک ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کے  تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے، بھارت سے اعلان جنگ ہوا تو پوری قوم  کو جہاد کی کال دیں گے اور میں خود بھی  لڑنے جاؤں گا،پاکستان کے عوام کشمیریوں کو مایوس نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر کسی درمیانے حل پر بات نہیں ہوئی، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل چاہتے ہیں، ثابت ہورہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور بھارت دہشت گرد ریاست ہے۔

ملکی صورتحال پر انہوں نے کہاکہ  کیا کسی ملک میں  جنگ کے دوران مجرموں کو چھوڑ دیا جاتا ہے؟دوسری جنگ عظیم میں چرچل  نے عدالتوں کے کام کرنے کے بارے میں پوچھا تھا، کسی نے نہیں کہا کہ چوروں ، لٹیروں ، ڈاکوؤں کو لٹیروں کو چھوڑ دیں،یہ رہا ہوگئے تو  اُنہوں نے  جہادکے لئے نہیں جانا بلکہ ہمیں ہی لوٹنا ہے، زرداری، نوازشریف اور فریال تالپور پیسے واپس کردیں، رہا ہوجائیں گے ،پی ٹی آئی کے لوگ  تو بیچارے مال کمائے بغیر اندر جارہے ہیں ،زیادہ نقصان تو پی ٹی آئی کا ہوا ہے، آصف علی زرداری اور ان کی جماعت کے لوگ صدر ،وزیراعظم رہے، لوٹ مار تو انہوں نے  کی، ان پر مقدمات نواز شریف کے دور میں بنے۔انہوں نے کہا کہ  ایم کیو ایم کی توبہ ہوگئی ہمارے ساتھ حکومت بیٹھے ہیں۔ دونوں بڑی جماعتیں مفاہمت  سے چلتی رہیں،وزیراعظم پاکستان ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، ریاست مدینہ کی طرز پر ریاست بنانا چاہتے ہیں، احتساب چاہتے ہیں، عمران خان نے سب سے پہلے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔ 

مزید : قومی


loading...