قومی پرچم والے طیارے کب فضا میں اڑیں گے ؟؟؟

قومی پرچم والے طیارے کب فضا میں اڑیں گے ؟؟؟
قومی پرچم والے طیارے کب فضا میں اڑیں گے ؟؟؟

  

وزیر ہوا بازی غلام سرور کی طرف سے پریس کانفرنس میں پی آئی اے کے جعلی پائلٹوں کی بھاری تعداد نے دنیا بھر کو ششدر کر کے رکھ دیا جبکہ یورپی یونین کے بعدبرطانیہ نےبھی پی آئی اےپرپابندی لگا دی،3اگست کو پی آئی اے کی آخری پرواز مانچسٹر سے اسلام آباد پہنچی،ایک مختاط اندازے کے مطابق دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ایک کروڑ سے زائد تارکین وطن آباد ہیں۔عرب ممالک کی اکثریت نے کورونا کا جواز بنا کر لاکھوں پاکستانی ہنر مندوں اور مزدوروں کو بے دخل کر دیا جبکہ یورپین ممالک جن میں برطانیہ میں شامل ہے نے تارکین وطن کو بے دخل کرنے کی بجائے فرلو سکیم کے تحت انکی امداد کا سلسلہ شروع کیا جو جاری ہے ہاں البتہ پی آئی اے اور اسکے مسافروں کیلئے چوہدری غلام سرور کی پریس کانفرنس کے نتائج کس قدر بھیانک ہوں گے؟شاید انہیں بھی اس وقت علم نہ ہوگا ۔پاکستان پائلٹ جو دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا تسلیم کرا رہے ہیں کو بھی گراؤنڈ کر دیا گیا، بعد ازاں "کھودا پہاڑ نکلا چوہا"چند ایک جعلی ڈگریو ں والے پائلٹ سامنے آ ئے، ان جعلی ڈگریوں کے حامل پائلٹوں کو بتدریج اندرون خانہ فارغ کیا جا سکتا تھا مگر وزیر ہوا بازی نے کس کے کہنے پر پوری قومی ائیر لائن اور اسکے ملازمین و پائلٹوں کو دنیا بھر میں بدنام کر کے رکھ دیا؟ اسکا علم تو اسی وقت ہوگا جب موصوف اقتدار میں نہ ہوں گے۔

پی آئی اے کی تاریخ لکھنے والے چوہدری غلام سرور کا نام پی آئی اے کو تباہی سے دوچار کرنے افراد میں سرفہرست لکھیں گے جنہوں نے کروڑوں تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل میں اضافہ کیا بلکہ پی آئی اے کو یومیہ بلین ڈالر کا روزانہ کی بنیاد پر نقصان ہو رہا ہے،شاباش وزیر ہوا بازی، واقعی کوئی بھی محکمہ ایسا نہیں رہا جہاں حکومت کے ویژن کے مطابق تبدیلی نہ لائی گئی ہو، زمین پر آٹا، گندم، چینی، بیروزگاری اور طفل تسلیاں دینے والوں نے فضاؤں میں اڑنے والے طیاروں کو بھی تبدیلی لاکر رن وے پر کھڑا کردیا ،اس اہم ترین قومی مسئلہ پر باقی سیاستدان بھی چپ سادھے ہوئے ہیں، اکا دکا سیاستدان کبھی کبھار اس مسئلہ پر رسمی تنقید کر کے خاموش ہو جاتے ہیں،اس صورتحال کا تمام تر فائدہ وہ ائیر لائنزاٹھا رہی ہیں جنہیں پاکستانی انجینئرز اور پائلٹوں نے اڑنا سکھایا ،جیسے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ!

چکور خوش ہے کہ بچوں کو آ گیا اڑنا

اداس بھی ہے رت آ گئی بچھڑنے کی

عرب ممالک جو پہلے پاکستانی مسلمانو ں کو گلے لگاتے تھے اب ان سے عرب ممالک کی جیلیں بھری پڑی ہیں اور ان ممالک کی ائیر لائنز نے اپنی فضائی سروس شروع کر رکھی ہے پاکستان آنے اور جانے والے مسافروں سے لاکھوں روپے ٹکٹ کی مد میں وصول کر رہے ہیں پاکستانی ائیر پورٹ پر پی آئی اے کا عملہ پائلٹ ودیگر عملہ فضاؤں میں اڑنے والے ان عرب ممالک کے جہازوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر وزیر ہوابازی کو خوب دعائیں دیتے ہیں۔یورپ، امریکہ اور برطانیہ سے پاکستانی تارکین وطن بدترین سروس کے باوجود ہر قیمت پر پی آئی اے پر سفر کو ترجیح دیتے تھے جبکہ بیرون ملک انتقال کر جانیوالے افراد کی میت بھی فری ملک پہنچائی جاتی تھی جو چوہدری شجاعت حسین کا کارنامہ ہے۔

چند یوم قبل یورپی میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی کہ پی آئی اے نے پرتگال سے کرایہ پر جہاز حاصل کر کے فضائی سروس شروع کی ہے مگر یہ چند یوم کیلئے ہے، حکومت کو چارٹرڈ فلائٹوں کی تعداد بڑھانے کے علاوہ ان سے دستمبر تک معاہدہ کرنے کی ضرورت تھی، 14دسمبر سے برطانیہ میں چارٹرڈ فلائٹس کا سلسلہ شروع ہوا تو منظر دیدنی تھا ،ایسے محسوس ہوتا تھا کہ پورا مانچسٹر ائیر پورٹ پر امڈ آیا ہے، ان چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے جانے والوں میں اکثریت ایسے افراد کی تھی جو میت کو پاکستان لے جانے کیلئے منت سماجت کر رہے تھے مگر چارٹرڈ فلائٹس پر اسکی اجازت نہ دی گئی، مجبورا ان لوگوں کو 500 میل کا سفر کر کے لندن جانا پڑا اور میت لے جانے کیلئے 2ہزار پاؤنڈ علیحدہ ادا کیے ،یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانیہ سے پاکستان جانے والی ایک فلائٹ کا ریونیو 3لاکھ 50ہزار پاؤنڈبنتا ہے، سات یوم میں مانچسٹر سے 9لندن سے 9 اور 9فلائٹس کی برمنگھم سے روانہ ہوتی تھیں، اس طرح سات یوم میں 27فلائٹس منسوخ ہوئیں جنکا ہفتہ وار ریونیو 94لاکھ 50ہزار پاؤنڈ کا نؓقصان وزیر ہوا بازی کی وجہ سے پی آئی اے کو پہنچ رہا ہے ، جس کی ذمہ دار تبدیلی سرکار ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان اس مسئلے پر از خود نوٹس کیوں نہیں لے رہی؟

سنا ہے پاکستان نے ہوا سے زیادہ تیز رفتار طیارہ شکن میزائل تیار کر رکھے ہیں مگر بلند و بانگ دعوے کرنیوالی حکومت جنگی بنیادوں پر یورپی یونین کے تحفظات کی روشنی میں پی آئی اے کی سروس کو بہتر نہیں بنا سکی اگر پاکستانی پائلٹس کی ڈگری پر ابھی شک دور نہیں ہوا تو غیر ملکی پائلٹس کو بھرتی کیا جا سکتا ہے مگر وطن عزیز میں بھاری زر مبادلہ بجھوانے والے تارکین وطن کو اپنی غلطیوں کی سزا نہ دیں‘ پردیسیوں کی دعا اور بدعا سیدھا ساتویں آسمان تک جاتی ہے جو اب شب و روز خدا کے حضور ہاتھ بلند کر کے پی آئی اے کو اس مقام پر لا کھڑا کرنیوالوں کیلئے بدعا مانگ رہے ہیں اپنی غلطیوں کی سزا پوری قوم اور پردیسیوں کو مت دیں‘ جنگی بنیادوں پر پی آئی اے کی اصلاح احوال کر کے پاکستانی جھنڈے والے طیاروں کو فضا میں بلند کیجیے‘ عرب ممالک کی ائیر ویز نے پاکستانی مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، یہ وہی تارکین وطن ہیں جو کبھی اپنوں کے ہاتھوں کبھی غیروں کے ہاتھوں لٹے جاتے ہیں۔ ارباب اختیار‘ اپوزیشن اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے برطانیہ میں آباد 20لاکھ تارکین وطن نے انسانی ہمدردی کی بنا پر درد مندانہ اپیل کی ہے کہ اسکا فوری نوٹس لیا جائے‘ اگر ایسا ممکن نہیں تو چارٹرڈ فلائٹس کو اس طرح چلایا جائے جس طرح ہفتہ وار پی آئی اے پروازیں روٹس پر چلتی تھیں تاکہ عرب ممالک جنہوں نے پاکستانیوں کو اپنا آسان ترین شکار سمجھ رکھا ہے کی اجارہ داری ختم کی جا سکے، ویسے بھی ان عربوں سے پاکستانی قوم کو کوئی توقعات نہیں کیونکہ اب تو امارات نے اسرائیل کو اپنے سینے سے لگا لیا ہے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -