وفاق اور سند ھ کی رابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس خوش آئند 

وفاق اور سند ھ کی رابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس خوش آئند 

  

وفاق اور سندھ کی رابطہ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کراچی میں وفاقی منصوبوں پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، ٹرانسپورٹ، واٹر، سیوریج، سالڈ ویسٹ، سٹرام ڈرین اور سڑکوں کی تعمیر پر ترجیحی بنیادوں پر کام مکمل کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیاکہ کراچی میں فوری طور پر نالوں کی صفائی اور تجاوزات ہٹانے کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ تجاوزات پر رہائش پذیر افراد کو متبادل جگہ بھی فراہم کی جائے گی۔ وفاق اور صوبائی حکومت کے مابین کے بی فیڈر کی لائننگ کے کام کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اس  اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر تعلیم سعید غنی، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اوروفاق کی جانب سے وفاقی وزراء اسد عمر، علی زیدی، امین الحق اجلاس میں شریک ہوئے۔

 کراچی کی موجود صورتحال خاصی خراب معلوم ہوتی ہے ایسے میں وفاق اور سندھ حکومت کا ایک میزپر بیٹھنا خوش آئند ہے۔ورنہ اب تک تو دونوں کے درمیان کھینچا تانی کی سی کیفیت تھی، دونوں ہی ایک دوسرے سے نالاں معلوم ہو تے تھے۔ کراچی کو ہمیشہ سے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا،ا پنی خوبصورتی، وسعت اور معاشی مرکزہو نے کے باعث اس کی اپنی اہمیت ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ  آج اسے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ساٹھ فیصد سے زائدریونیو دینے والا شہر لا وارث نظر آتا ہے،جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں۔ٹرانسپورٹ کے مسائل، صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ، سڑکوں پر بہتا سیوریج کا گندا پانی، نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے گندگی اور تعفن،ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، بے ہنگم ٹریفک جیسے مسائل نے کراچی کو گھیر رکھا ہے۔ اہل ِ کراچی آج ایک مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔اہل ِ کراچی بارش کی تباہ کاری کی زد میں ہیں،، نشیبی علاقے ڈوبے ہوئے ہیں، کئی علاقوں میں بجلی غائب ہے،، خدشہ ہے کہ گندگی اور تعفن کے سبب بیماریاں نہ پھیل جائیں۔حالیہ بارشوں کے بعد کراچی کی  دگر گوں  حالت کے باعث این ڈی ایم  کی خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ماضی میں تو کراچی کو، ناجائز قبضے، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل کا بھی سامنا تھا جن پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں مسلسل تیسری بار برسر اقتدار ہے لیکن وہاں کے مسائل کا حل تلاش نہیں کر پائی۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ کراچی کے حوالے سے دعوے اور وعدے بس نام کے ہی رہے ہیں،  عملی اقدامات اور پلاننگ کا فقدان ہے۔

 ان حالات میں سندھ کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے وفاق اور صوبائی حکومت کا ایک پیج پر ہونا از حد ضروری ہے،، ملک کی ترقی، صوبوں کی خوشحالی میں پنہاں ہے اور صوبوں کی حالت میں سدھار تب ہی آ سکتا ہے جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کریں، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے یا الزام تراشی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ الٹا نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے۔  یہ بات خوش آئند ہے کہ  دونوں حکومتوں نے  سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مل کر بہتری کے لئے   مل کرکام کرنے کی ٹھانی ہے، اس  میں اگر ایم کیوایم بھی اپنا حصہ ڈال دے تو قطعاْ کوئی حرج نہیں ہے۔  امید ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے بشرطیکہ یہ سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے۔  

مزید :

رائے -اداریہ -