اسرائیل اور سعودی عرب 

 اسرائیل اور سعودی عرب 
 اسرائیل اور سعودی عرب 

  

خلافت ِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد  دُنیا میں اگر کسی ملک نے صحیح معنوں میں مسلم دنیا کی رہنمائی کی ہے، تو وہ خلافت ِ عثمانیہ کے ہی بطن سے جنم لینی والی سعودی ریاست ہے، جس کے پہلے فرمانروا شاہ عبدالعزیز تھے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور اب وہ حالات نہیں ہیں کہ کوئی ملک کسی دوسرے پر اپنی مرضی تھوپ سکے یا اس پر قبضہ کر کے اسے اپنا ملک قرار دے سکے۔ اس کی واضح مثال برطانیہ کی نوآباد کالونیاں ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوئیں اور اب برطانیہ سکڑ کر خود ایک چھوٹے سے ملک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ امریکہ نے عراق اور افغانستان میں جنگ چھیڑی اوروہاں اپنی فوجیں بھی اتاریں، لیکن انہیں امریکہ کا ہی حصہ نہیں قرار دے سکا یعنی  اب طاقت برقرار رکھنے کے پیمانے بدل چکے ہیں اب سفارتی اور معاشی طاقت کا زمانہ ہے، جس کے ذریعے ایک ملک دوسرے سے اپنی بات منواتا ہے جیسے امریکہ اس وقت پوری دنیا میں معاشی اور فوجی طاقت ہے تو وہ اپنی بات منوانے کی حیثیت بھی رکھتا ہے یا جس طرح اب چین دوسری بڑی معیشت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے تو وہ بھی جہاں جہاں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو ان ممالک سے پیسے کے بل پر اپنی بات منوانے کی طاقت رکھتا ہے۔ یو اے ای نے اسرائیل کو خود اپنی مرضی سے قبول کیا یا امریکہ کے کہنے پر قبول کیا یہ ایک الگ بحث ہے، لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ یو اے ای پہلا مسلم ملک نہیں، جس نے اسرائیل کو قبول کیا اس کے علاوہ مصر، اردن اور ترکی جیسے ممالک بھی اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر چکے ہیں،لیکن یو اے ای واحد خلیجی ریاست ہے، جس نے اسرائیل کو قبول کرنے جیسا بولڈ قدم اٹھایا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اب سعودی عرب بھی اسرائیل کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائے گا کیونکہ امریکہ جو کہ سعودی عرب کا اہم اتحادی ہے اس نے بھی زور دیا ہے کہ اب سعودیہ کو بھی ٹرمپ کی سنچری ڈیل کو قبول کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہئے۔دوسرا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اہم اتحادی بھی ہیں دونوں ملک قطر کا مسئلہ ہو یا یمن کی جنگ ایک ہی موقف رکھتے ہیں اور سعودی عرب کی وجہ سے یو اے ای نے ہمیشہ عالمی سطح پر بھی وہی موقف اپنایا ہے،جو سعودی عرب نے اپنایا، لیکن سعودی عرب نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتے جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ امن معاہدے پر دستخط نہیں کر دیتا۔یہ الفاظ کسی عام شخص یا کسی معمولی اہلکار کے نہیں تھے،بلکہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود  نے ادا کئے ہیں۔اسے ہم یو اے ای اور اسرائیل کے مابین تعلقات کے بعد سعودی عرب کی جانب سے پہلا باضابطہ ردعمل بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس معاہدے کے بعد یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ ایسے ہی معاہدے کریں گے، جس طرح یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پروان چڑھ رہے ہیں۔تاہم سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مسئلہ فلسطین کے حل تک ایسے کسی بھی معاہدے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ غرب اردن کے علاقوں کے اسرائیل میں انضمام اور وہاں آبادکاری کی یکطرفہ پالیسیاں دو ریاستی حل کے لئے نقصان دہ اور ناجائزہیں۔انہوں نے سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین تعلقات پر کہا کہ تعلقات قائم کرنے کی شرط یہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کیا جائے اور ایک مرتبہ ایسا ہوجائے تو پھر دیگر تمام چیزیں ممکن ہیں،جس طرح پاکستان اور انڈیا کے درمیان روزاول سے تنازع کشمیر کی صورت میں موجود ہے اور جب تک مسئلہ کشمیر حل نہ ہو پاکستان اور بھارت کے درمیان امن قائم نہیں ہو سکتا اسی طرح عرب خطے میں اسرائیل اور فلسطین کا تنازع بھی تقریباً ستر سال سے موجود ہے جب تک وہ حل نہیں ہو گا تب تک عرب خطے میں بھی امن کا حصول ممکن نہیں ہے 

(واضح رہے کہ اس مقصد کے لئے عرب اور اسرائیل کے درمیان بھی دو جنگیں ہو چکی ہیں)۔ سعودی عرب کی بات درست ہے کہ جب تک اسرائیل عالمی امن معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتا تب تک اس کو قبولیت کی سند دینا ممکن نہیں ہے، کیونکہ ایک جانب اسرائیل اور یو اے ای نے معاہدہ کیا ہے تو دوسری جانب اسرائیل غزہ پر بمباری بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے علاوہ غرب اردن میں یہودی بستیوں پر بستیاں بنا رہا ہے، جس کی وجہ سے فلسطین میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے، کیونکہ سعودی عرب مسلم دُنیا میں ایک قائدانہ حیثیت رکھتا ہے تو اس لئے اس کا یہ موقف باقی مسلم دُنیا کے لئے بھی قابل تقلید ہے کہ جب تک امن نہیں ہو گا تب تک سفارتی تعلقات بھی نہیں ہوں گے۔

اسرائیل کی شروع دن سے بڑی خواہش رہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کو قائم کرے تا کہ اسے ایک جائز حیثیت حاصل ہو جائے(اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا بغل بچہ ہے اور یہ برطانیہ ہی تھا، جس نے پوری دنیا سے یہودیوں کو لا کر عرب کے قلب میں ایک پھوڑے کی صورت میں بٹھایا اور وہ دن آج کا دن عرب خطے میں امن قائم نہیں ہو سکا)۔ ماضی میں بھی امریکہ کے ذریعے اسرائیل نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بنانے کی کوششیں کی،لیکن جو بارآور ثابت نہ ہو سکیں اور سعودی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

مزید :

رائے -کالم -