شقی القلب شوہر کے ہاتھوں بیوی بے دردی سے قتل!

شقی القلب شوہر کے ہاتھوں بیوی بے دردی سے قتل!

  

پنجاب میں گزشتہ گیارہ سالوں میں 4504 عورتوں کو عورت ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا جبکہ عورتوں پر تشدد کے واقعات میں اس سال 20فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ عورتوں اور بچیوں پر تشدد کے سات ہزار دوسوں واقعات رپورٹ ہوئے تاہم ان میں ان کیسوں کی تعداد شامل نہیں جن کوکسی وجہ سے رپورٹ نا کیا جا سکا۔ایک رپورٹ میں مختلف پہلووں کی روشنی میں پنجاب میں عورتوں کو تشدد کر کے قتل کرنا پہلی،خودکشی دوسری جبکہ غیرت کے نام پر قتل کرنا تیسری بڑی وجہ ہے جبکہ اکثرعورتوں کے قاتلوں کو ضمانت مل جاتی ہے جو انصاف پر ایک سوالیہ نشان ہے اس سے قاتلوں کی حوصلہ افزئی ہوتی ہے، گھریلو تشدد بل اسمبلی سے پاس کرنے،کم عمری شادی کے حوالے سے جامعہ قانون سازی او ر پنجاب میں خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعا ت کے روک تھام کے حوالے سے اقدامات کیے جانے چاہیں۔خواتین کے حقوق کی حفاظت تو نہ ہوسکی، خواتین کے خلاف جرائم بڑھ گئے، اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب میں گزشتہ پانچ سال کے دوران خواتین کے ساتھ جنسی بد اخلاقی، تیزاب گردی اور قتل کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے، پولیس رپورٹ میں ہولناک انکشافات بیان کیے گئے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں خواتین سے بد اخلاقی اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔گھریلو ناچاکی، بے راہ روی اور ازدواجی زندگی میں غلط فہمیوں کے سبب شوہر کے ہاتھوں بیوی کے قتل کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، یہ ہر گھر میں تو نہیں لیکن موجودہ دور میں ایسا ہونا عام ہوتا چلا جارہا ہے۔لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں بھی اس طرح کا ایک افسوسناک واقعہ 7اگست کو پیش آیا، جہاں اسد خالق کا اپنی بیوی زنیرہ سے اکثر جھگڑا رہتا تھا اور وقوعہ کے روز بھی دونوں میاں بیوی میں جھگڑا ہوا اور زنیرہ کے بھائیوں نے اسدخالق کو روکنے کی کوشش کی تو ملزم اسد خالق بیوی زنیرہ پر فائرنگ کرکے موقع سے فرار ہو گیا جو موقع پر ہی دم توڑ گئی۔مقتولہ زنیرہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک محنت کش باپ کی بیٹی اور دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی شاد باغ میں اس کے والدین رہائش پذیر ہیں اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے والدین اور بھائیوں نے زنیرہ کو گریجوایشن تک تعلیم بھی دلوار کھی تھی خاندان میں معقول رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے والدین نے غیروں میں پی سی ایس آئی آر ٹاؤن شپ کے رہائشی اسد خالق نامی لڑکے سے چار سال قبل زنیرہ کی شادی کر دی،زنیرہ کے ہاں دو خوبصورت بچے بیٹی اور بیٹا پیدا ہوئے بیٹی کی عمر ساڑھے تین سال جبکہ بیٹے کی عمراڑھائی سال ہے مقتولہ کے والد اور والدہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو بڑے لاڈ پیار سے پال پوس کر اس کی شادی کی تھی جبکہ اس کے بھائی بھی اکلوتی بہن ہونے کی وجہ سے اس سے بڑی محبت اور پیار سے پیش آتے تھے بدقسمتی سے بیٹی کی شادی ان کے لیے خوشیوں کا باعث نہ بن سکی بیٹی کی شادی کے بعد زنیرہ بھی انھیں پریشان نظر آئی اس کا خاوند غلط سوسائٹی کا شکار ہونے کی وجہ سے زنیرہ کو اکثر تشدد کا نشانہ بناتا تھا جس کا انھیں بھی بڑا رنج تھا شادی کے بعد شوہر کا مسلسل عذاب بنے رہنا خواتین کے لیے بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے،زنیرہ کو والدین اور بھائیوں سے ملنے سے منع کرنا اسے بھوکے پیاسا رکھنا اس کی عادات میں شامل تھا مگر ان کی بیٹی نیک اور شریف خاندان سے وابستگی کی وجہ سے اپنے اوپر ظلم سہتی رہی،ہماری بیٹی اگر کبھی کبھار ہمارے ہاں آجاتی تو اس کا خاوند فورا پیچھے بھاگ آتا اور گھر لے جاکر اسے تشدد کا نشانہ بناتا جس کا انہیں بہت دکھ ہوتا، وقوعہ سے دو روز قبل ان کی بیٹی ا نہیں ملنے آئی تو ان کا دامادبھی اسے لینے آگیا بیٹی اس کے ساتھ کاموشی سے چلی گئی انہیں شبہ تھا کہ وہ گھر لے جا کر اسے تشدد کا نشانہ بنائے گا جس پر زنیرہ کی ماں اور دونوں بھائی بھی اسے ملنے اس کے ہاں اگلے روز پہنچ گئے وقوعہ کے روز صبح اذان کے وقت زنیرہ کے کمرے سے اس کی چیخ و پکار کی آواز سن کر اس کے بھائی اور والدہ جو ساتھ والے کمرے میں سو رہے تھے جب زنیرہ کے کمرے میں پہنچے تو ملزم اسد خالق نے ہاتھ میں پسٹل پکڑرکھا تھا جس نے انہیں دیکھتے ہی اس پر فائر کرکے اسے موت کے گھاٹ اْتار دیا اور خود موقع سے فرار ہوگیا، ان کی بیٹی کو قتل کئے کئی روز گزر گئے ہیں مگر پولیس ملزم کو تاحال گرفتار نہیں کر سکی ان کی ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ ملزم کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے مقتولہ کے والد اور بھائیوں نے کہا ہے کہ مقدمے کی تفتیش کا عمل انتہائی سست ہے اسے تیز کیا جائے جبکہ مقتولہ کے کمسن بچوں نے بھی اپنی والدہ کے قاتل کو فوری گرفتار کرکے کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔قوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز شریکِ حیات یا خاندان کے ارکان کی طرف سے اوسطاً 137 خواتین کو قتل کر دیا جاتا ہے،کہتے ہیں کہ عورت کے لیے قتل ہونے کی سب سے ممکنہ جگہ اس کا گھر ہے۔ پنجاب پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے باوجود صوبے میں خواتین کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔پنجاب پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ان 5 برسوں میں خواتین پر تشدد، عصمت دری، قتل اور تیزاب پھینکنے کے 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق 2014 میں خواتین سے بد اخلاقی کے 2 ہزار 281، 2015 میں 2 ہزار 618 اور 2016 میں 2 ہزار 746 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔اسی طرح 2017 میں 2 ہزار 998 جب کہ سال 2018 میں 2 ہزار 937 خواتین سے بداخلاقی اور قتل کے مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہوئے۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات لمحہ فکریہ ہیں، ان واقعات کو روکنے کے لئے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں خواتین پر تشدد اور قتل کے واقعات میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے سول سوسائٹی کی جانب سے قانون سازی کی ضرورت پر زور بھی دیا جارہا ہے۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے عورت فاؤنڈیشن کے جاری کردہ عداد شمار کے مطابق 2017ء میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب بھر میں سب سے زیادہ خواتین پر تشدد کے 8 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔مذکورہ سال میں خواتین کو اغوا کرنے کے ایک ہزار 9سو 7 کیسز جبکہ ریپ اور گینگ ریب کے ایک ہزار 4 سو 8 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔این جی او کی جانب سے پیش کیے جانے والے عدادوشمار کے مطابق پنجاب میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب بھر میں عزت کے نام پر قتل کے سب سے زیادہ 398 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ غیر سرکاری ادارے کے مطابق پاکستان میں ہر روز چھ خواتین کو اغوا اور چھ کو قتل، چار خواتین کے ساتھ ریپ اور تین خواتین کی خودکشی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر تشدد میں 12.4 فی صد جب کہ جنسی تشدد کے واقعات میں 17 فی صد اضافہ ہوا۔آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ مقتولہ کے والد اور مقدمہ کے مدعی کا کہنا ہے کہ چند روز قبل میرے ملزم داماد نے میری بیٹی سے تقاضا کیا کہ گھر سے زیور لے کر آؤ، وہ قتل سے چار روز قبل ہمارے گھر شادباغ آئی اور ہماری طرف سے جہیز میں دیا گیا بھاری مالیت کا طلائی زیور بھی ساتھ لے گئی۔ جبکہ آج تک ہمیں یہ نہیں پتہ چلا کہ وہ زیور کہاں ہے، کیونکہ پولیس ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اور ملزم کو بھی وی آئی پی پروٹوکول دیا جارہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم کی بہن نے یہ سارا واقعہ پلان کیا اور میری بیٹی کو قتل کرنے کے چار گھنٹے بعد ہمیں جھوٹی اطلاع دی گئی کہ تمہاری بیٹی نے خودکشی کرلی ہے۔ ملزم نے اس دوران لاش گھسیٹ کر صوفے پر ڈالی اور اس نے جس پستول سے قتل کیا وہ بھی اپنے دوست سے لے کر آیا تھا۔ پھر منصوبے کے تحت دو تین نوجوانوں کو بلا کر جھوٹی ٹک ٹاک بھی تیار کروا دی کہ میری بیٹی جناح ہسپتال کی چھت پر ایک شوٹ تیار کر رہی تھی کہ گولی کنپٹی پر لگ گئی۔ حالانکہ زونیرہ کو سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ جس کی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی کردی گئی۔ ملزم چونکہ بااثر اور دولت مند ہے، اس لئے پولیس اس کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے اور ہماری ایک بھی نہیں سنی جارہی۔ مقتولہ کے غمزدہ والد نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف دلایا جائے اور جواں سال بیٹی کو وحشیانہ انداز میں قتل کرنے والے ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر سرعام پھانسی دی جائے۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے۔ 

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -