کرنٹ لگنے سے دادی تین پوتوں سمیت جاں بحق

کرنٹ لگنے سے دادی تین پوتوں سمیت جاں بحق

  

تھانہ سٹی اے ڈویژن کے علاقہ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے سن اور دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ صلاح الدین روڈ کی آبادی کا رہائشی رکشہ ڈرائیور اسد علی اپنی بیوی کے بعض گھریلو وجوہات کی بناء پر ناراض ہوکر میکے چلے جانے کے باعث اپنے تین کمسن بچوں کی دیکھ بھال کیلئے اپنے بڑے بھائی کے ہاں قیام پذیر اپنی 55سالہ معمر والدہ اقبال بی بی کو اپنے ہاں لے آیا تاکہ بیوی کی ناراضگی ختم ہونے تک اسکے بچے اپنی دادی کی دیکھ ریکھ میں رہیں اور ان کی پرورش میں جہاں تک ممکن ہوسکے مدد مل سکے اور یہ کھانے پینے پہننے سونے جاگنے اور پڑھنے لکھنے میں کسی طرح کی دشواری کا شکار نہ ہوسکیں اس کا خیال تھا کہ بچوں کی وقتی پرورش کی ذمہ داری والدہ کو سونپ کر پوری طرح سے اب روزی کمانے سمیت اپنی ناراض بیوی کو منانے میں صرف کر پائے گا کیونکہ گھر میں رہ کر اپنے تینوں بچوں کی پرورش کرپا نے سمیت ان کی روزی روٹی کما پانا اس کیلئے قطعی ممکن نہیں تھا وہ خوش تھا کہ کم از کم بچوں کے حوالے سے روزمرہ کے گھریلو امور میں اسے آسودگی میسر آئے گی اور وہ روزگار پر موثر توجہ دینے سمیت خاندان کے بڑوں کے ذریعے بیوی کی ناراضگی ختم کروا کر اب جلد اسے گھر لے آئے گا لہذاٰ وہ محنت مزدوری کی خاطر رکشہ لئے روانہ ہوگیا زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اس کے دل کو عجیب بے چینی لاحق ہونا شروع ہوگئی توجہ رکشہ کے سہارے روزی روٹی کیلئے مالی اسباب حاصل کرنے پر سے ہٹتی گئی وہ ہر لمحہ خود کو کسی گہرے کنویں میں ڈوبتا محسوس کررہا ہے بظاہر اسے کوئی جسمانی بیماری بھی ہرگز لاحق نہیں ہورہی تھی کی جسے وہ اپنی اس بے چینی و بے قراری کی وجہ سمجھ کر کسی ڈاکٹر سے دس بیس روپے کی دوا لیکر کھاتااور پھر سے کام پر لگ جاتا اس کااضطراب تھا کہ تیزی سے بڑھتا جارہا تھا اور دل گھر کی طرف کھنچاجارہا تھا جس سے بے بس ہو کر بالآخر اسے گھر کی راہ لینا پڑی اور رکشہ سر پٹ دوڑاتا وہ گھر کی دہلیز پر پہنچ گیا رکشہ کھڑا کیا اور دروازے پر دستک دی کوئی جواب نہ آیا پھر دوسری تیسری دستک مگر کوئی جواب نہیں آوازیں دیں پھر بھی اندر ایسی مکمل خاموشی کہ جیسے گھرمیں کوئی موجود نہ ہو مگر جوں کی دروازے کو تھوڑا قوت سے دھکیلا تو دروازہ کھل گیا جسے اندر سے کنڈی لگا کر بند کرنے کی بجائے فقط زور سے ڈھو دیا گیا تھا دروازہ کھلا اور رکشہ ڈرائیور سعد علی گھر میں داخل ہوا تو سامنے چارپائی پر اس کے تین بیٹے 10سالہ عبدالرحمن،7سالہ عبدالمنان اور 5سالہ مطیع الرحمان سمیت سعدعلی کی والدہ 55 سالہ اقبال بی بی ایک ہی چارپائی پر یوں پڑے تھے کہ بچوں کے جسم ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے تھے اور قریب پڈسٹل فین گرا پڑا تھا جس کی سوئچ بورڈ سے تار نکال کر اسے اٹھایا اسد علی سوچ رہا تھا کہ دادی پوتے کھیلتے کھیلتے یوں گہری نیندسوگئے ہیں کہ نہ گھر کے بیرونی دروازے کنڈی لگانا انہیں یاد رہا نہ انہیں چارپائی پر پنکھا گرنے کا کوئی احساس ہوا اور نہ میری گھر آمد پر انہیں میرا دروازہ کھٹکھٹانا اوربار بار دی گئی آوازیں سنائی دیں لہذاٰ اس نے اپنے بڑے بیٹے 10سالہ عبدالرحمن کو اٹھانے کی کوشش کی جو بے سود ثابت ہوئی 7سالہ عبدالمنان کو ہلایا جلایا مگر یہ کوشش بھی رائیگاں گئی پھر 5سالہ مطیع الرحمن جس کا نچلا آدھا دھڑ ایک بھائی اور اوپری آدھا دھڑ اپنے دوسرے بڑے بھائی کے وجود پر تھا اسے اٹھانے کیلئے لپکا مگر یہ سوچ کر رک گیا کہ پہلے دوسری چارپائی کے اندرونی کمرے سے لے آئے تاکہ اسے اس انکی دادی اقبال بی بی کے ساتھ لیٹا دے لہٰذا اس نے چارپائی نکالی بچھائی اور والدہ کو آواز دی جس پر والدہ کا کوئی جواب نہ آیا نہ وہ اٹھ پائیں تو اسے شدید تشویش لاحق ہوئی والدہ کا ہاتھ اس نے جوں ہی تھاما تواس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اس کی والدہ کی روح پرواز کرچکی تھی وہ گھبراہٹ کے عالم میں بچوں کی طرف لپکا سب کو پکڑ پکڑ کر اٹھانے اور آوازیں دیکر اپنی موجودگی کا احساس کرانے کی بار بار کوشش کرتا رہا مگر تینوں بچے بھی دادی کی طرح اب اس جہان کے باسی نہ رہے تھے اور ان کے ننھے وجود اس گھر پر ایک بہت بڑی قیامت گزر جانے کا پتہ دے رہے تھے رکشہ ڈرائیور اسد علی کا بلند آواز میں بار بار کبھی والد ہ اقبال بی بی کو آوازیں دینا اور جھنجھوڑنا تو کبھی بچوں سے لپٹ لپٹ انہیں آوازیں دینا جھنجھوڑنا وآہ بقاء کرنا قریبی ہمسایوں کے بھی کان پڑگیا جو کچھ ہی لمحوں میں اسکے گھر کے باہر جمع ہونا ہوگئے ان میں شامل خواتین صورتحال کے ادراک کی خاطر پہلے اندر داخل ہوئیں گھر کے صحن میں برپا ہونے والی قیامت دیکھ کر ان کے پاؤں تلے سے بھی زمین کھسک گئی وہ بھی غیر یقینی کی سی صورتحال کا شکار ہو کر اقبال بی بی اور بچوں کو ایسے ہلانے لگیں جیسے انہیں گہری نیند سے جگانا مقصود ہے مگر وہ جلد بھانپ گئیں کہ یوں بلبلاتے رکشہ ڈرائیوراسد علی پر کیا گزری ہے پھر اس قیامت خیز خبر کا جنگل کی آگ کی طرح پھیلنا تھا کہ اہل علاقہ کا جم غفیر بدنصیب اسد علی کے ہاں امڈ آیا مقامی افراد نے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی جس کے اہلکار فوری موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے دادی او ر تینوں پوتوں کی جانچ کی اور بتایا کہ یہ خالق حقیقی سے جاملے اور انہیں واپس لانا کسی کے بس کی بات نہیں جبکہ اس عمومی تحقیق میں چاروں کی موت کی وجہ وہ پنکھا قرار دیا گیا جو چارپائی پر گرا تھا اور اسد علی نے اسے اٹھانے سے قبل سوئچ آف کرکے اسکی تار بورڈ سے نکال دی تھی وگرنہ اس ضروری احتیاط کے بغیر پنکھے کو چھونے سے شاید اسد علی بھی سفر آخرت اختیار کرچکا ہوتا اب اندازے لگائے جانے لگے کہ پنکھا کیوں گر ا کیسے گرا یا کس وقت گرا ہوگا کہ اس سے لگنے والے کرنٹ کی شدت اتنی تھی کہ اس کے چھو جانے سے دادی پوتے چاروں جان کی بازی ہار گئے تاہم یہ ساری اندازے بے محل رہے اور کوئی ٹھوس بات سامنے نہ آسکی کہ قیامت کیوں کر گھٹی، اسد علی کے ہاں جو قیامت صغریٰ برپا ہوئی اس پر ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل رنجیدہ و ملول تھا جبکہ قریبی ہمسایہ خواتین کی طرف سے یہ انکشاف ضرور کیا گیا کہ بچوں کی ماں اپنے خاوند سے ناراض ہو کر میکے چلی گئی ہے جو جاتے وقت تو بچوں کو ساتھ لیکر گئی تھی مگر گزشتہ روز وہ خود تو گھر نہیں لوٹی مگر بچو ں کو اپنے میکے سے کسی عزیز کے ہاتھ واپس اسد علی کے ہاں بھجوادیاجس کے بعد اسدعلی نے اپنے بھائی انصر مشتاق کے ہاں قیام پذیر اپنی والدہ اقبال بی بی کو بچوں کی دیکھ بھال کیلئے اپنے گھر لے آنے کا فیصلہ کیا اور آج وہ اپنی والدہ کو بچوں کے پاس چھوڑ کر روزی روٹی کی تلا ش کی خاطر رکشہ پر مزدوری کرنے نکل گیا مگر وہ جب معمول سے ہٹ کر اپنے گھر آیا تو چارپائی پر اسکی والدہ اقبال بی بی اور تینوں بیٹے ایک دوسرے پربے جان پڑے تھے اور ان کے اوپر پڈسٹل فین گرا ہوا تھا جسے دیکھتے ہی اس نے چیخنا چلانا شروع کردیا اور پھر اپنے ہاتھوں سے بچوں کو والدہ کی چارپائی سے اٹھا اٹھا کر دوسری چارپائی پر لٹایا جو کہ ابدی نیند سو چکے تھے، دوسری طرف اس المناک واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اس کی ناراض بیوی بھی سسرال پہنچ گئی مگر اس نے آنے میں بڑی دیر کردی کہ وہ اپنے بیٹوں کو زندہ سلامت کھیلتے ہوئے دیکھنے کی بجائے انہیں موت کی آغوش میں دیکھ کر بے حال ہوگئی اور اس پر بار بار غشی کے دورے پڑنے لگے، یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگلے روز چاروں فوت شدگان کی تدفیق مقامی قبرستان میں کردی گئی مگر نہ تو نماز جنازہ میں مقامی افراد کی بڑی تعداد کے علاوہ کسی بڑی سیاسی شخصیت نے شرکت کی نہ اتنے بڑے سانحہ پر ابھی تک کسی حکومتی شخصیت یاکسی سرکاری آفیسر نے محنت کش رکشہ ڈرائیور اسد علی کے گھر جا کر اظہار تعزیت کیا ہے جبکہ اسد علی اور اسکی بیوی ہفتہ بھر بعد بھی مکمل طو ر پر اپنے ہوش و ہواس کو بحال نہیں کرسکے اور شاید اس صدمے سے کبھی باہر نکل بھی نہیں سکیں گے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -