ون ویلنگ اور تیزرفتاری نے سینکڑو ں گھرانے اجاڑ دیے!

 ون ویلنگ اور تیزرفتاری نے سینکڑو ں گھرانے اجاڑ دیے!

  

تیز رفتاری اور ون ویلنگ کے شوق نے پاکستان میں سینکڑوں گھرانے اجاڑ دیے‘ بچے یتیم‘ خواتین بیوہ‘ مائیں اپنی لخت جگر سے محروم ہو چکیں مگر یہ خونی کھیل تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ترقی یافتہ ممالک میں ایک جرم تصور کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں اسکا تصور کچھ اور ہے ہر سال سینکڑوں افراد ٹریفک حادثات میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور پولیس اس صورتحال کے سامنے بے بس نظر آتی ہے بیشتر حادثات تیز رفتار ی‘ ریس لگانے یا پھر ون ویلنگ کا شوق پورا کرتے ہوئے جنم لیتے ہیں نوجوان نسل بیشتر حادثات کا موجب بنتی ہے جن میں اکثریت کے پاس نہ تو ڈرائیونگ لائسنس ہوتا ہے نہ ہی موٹر سائیکل چلانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں والدین کی غفلت کے باعث سڑکوں پر تیز رفتاری اور ون ویلنگ کا مظاہرہ کرنیوالے اکثر نوجوان اپنے پیچھے روتے ہوئے اہل خانہ کو چھوڑ کر دنیا فانی سے رخصت ہو جاتے ہیں تین یو م کے دوران گجرات میں 8افراد حادثات میں زندگی کی بازی ہار گئے‘دو یوم قبل ٹانڈہ کے علاقہ میں ایک ایسا ہی دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں تین معصوم بچے جن کی عمریں 10سے 13سا ل کے درمیان بیان کی جاتی ہیں جاں بحق ہو گئے‘ سگھر گاؤں کے رہائشی سمیع اللہ بیگ ولد غضنفر بیگ‘ علی بیگ ولد محمد یونس اور چک بگا گاؤں کا احمد علی جو آپس میں گہرے دوست تھے موٹر سائیکل پر تیز رفتاری سے سفر کے دوران ٹریکٹر ٹرالی سے جا ٹکرائے حادثہ اس قدر شدید تھا کہ دو بچے موقع پر دم توڑ گئے جبکہ تیسرے کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا وہ بھی زخمو ں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا گزشتہ روز تھانہ رحمانیہ کے علاقے میں ایک نجی مدرسے کے طالبعلم جو مقامی ہسپتال قران خوانی کیلئے جا رہے تھے کی گاڑی بھی تیز رفتاری کے باعث سڑک پر الٹ گئی حادثہ اس قدر شدید تھا کہ گاڑی کا آدھا حصہ ٹوٹ کر پل سے نیچے جا گرا حادثے میں دو طالبعلم جاں بحق درجن کے قریب شدید زخمی ہو گئے سرائے عالمگیر میں بھی تیز رفتاری نے نوجوان کی جان لے لی پبی کے قریب مرکزی شاہراہ پر تیز رفتار ٹرک نے بے قابو ہو کر موٹر سائیکل سواروں کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں محمد آصف ولد محمد رشید سکنہ کھرکا‘ محمد محفوظ ولد اللہ دتہ سکنہ چک سکندر موقع پر جاں بحق مسعود احمد ولد علی حیدر شدید زخمی ہو گیا گاؤں ملک پور چاڑہ کا رہائشی سید کلیم اللہ لالہ موسی میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گیا مہذب معاشروں میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد قوموں کی پہچان تصور کیا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد تو دور قانون کو توڑنا فخرسمجھا جاتا ہے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سنگین حادثات کا سبب بنتی ہے ٹریفک پولیس کے اہلکارہر قسم کے موسم میں صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود احسن طریقے سے فرائض سر انجام دے رہے ہیں نفری کی کمی اور آبادی میں مسلسل اضافہ ٹریفک کے دباؤ کی ایک بڑی وجہ ہے قوانین کی خلاف ورزی نہ صرف ٹریفک مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ سنگین حادثات کی صورت میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں ٹریفک قوانین عوام کی سہولت اور ان کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں معاشرے میں سنگین مسائل کا جنم دیتی ہیں سب سے زیادہ غیر محفوظ سواری موٹر سائیکل کی تصور کی جاتی ہے جس کی ڈرائیونگ کیلئے تربیت‘ لائسنس‘ اور ہیلمٹ بنیادی جزو ہیں مگر ہزاروں شہری بغیر لائسنس اور تربیت کے موٹر سائیکل لیکر سڑکوں پر قانون کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں ڈی ایس پی ٹریفک سعید احمد وڑائچ کم وسائل کے باوجود ٹریفک نظام کو بہترسے بہتر بنانے کیلئے دن رات کوشاں نظر آتے ہیں تودوسری طرف وہ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے لیے سایہ دار شجر کی مانند بھی ہیں جو ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہوئے حل کیلئے اعلی حکام سے رجوع کرتے ہیں شدید گرمی کے موسم میں ڈ رائیونگ لائسنس حاصل کرنیوالوں کے مختلف مراحل کی نگرانی انتہائی احسن طریقے سے کرتے ہیں ان کے لیے محمود وایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں ان کے ہمراہ سعید احمد وڑائچ بھی سارا سارا دن اس عمل کی نگرانی کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں یہ ٹریفک پولیس کے اہلکار ہی ہیں جو ہر وقت ہر قسم کے موسم میں صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر قانون توڑنے والے شہریوں کیخلاف فوری کاروائی اور پولیس کو اضافی اختیارات دینے کی ضرورت ہے تاکہ ون ویلنگ‘ تیز رفتاری جیسے جرائم کے خاتمے کیلئے سد باب کیا جا سکے ڈی ایس پی ٹریفک سعید احمد وڑائچ نے ایک قلیل عرصہ میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی عوام کو ٹریفک قوانین سے آگاہی کیلئے واک کا اہتمام اور سیمینارز کرائے گئے لوگوں کو اس امر کی یادہانی کرائی کہ ٹریفک قوانین کی پابندی سے ہی ان کی زندگیاں محفوظ ہیں جبکہ بغیر ہیلمٹ‘ کم عمر ڈرائیور‘دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں‘ بغیر لائسنس کے کمسن ڈرائیور‘ اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر رکھنے والے نہ صرف اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ دوسروں کیلئے بھی بڑا خطرہ بن جاتے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -