بھارتی دعوؤں سے کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی، طالبان کیخلاف نئی پابندیاں عائد نہیں کیں: ترجمان دفتر خارجہ

  بھارتی دعوؤں سے کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی، طالبان کیخلاف نئی ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، آن لائن) پاکستان  نے  پاک چین وزرائے خارجہ ڈائیلاگ کے مشترکہ اعلامیے پر بھارت کا بیان سختی سے مسترد کرتے ہو ئے کہا کہ بھارتی بیا ن سلامتی کو نسل کی قراردادوں اورحقائق کے بر خلاف ہے اس کے دعوؤں کی کو ئی بنیاد نہیں  ہم سی پیک خلاف بھارتی غلیظ پروپیگنڈا مسترد کر تے ہے۔ ترجمان    دفتر خارجہ نے  جاری ایک بیان میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہیں بھارتی وزارت خارجہ کا جموں و کشمیر کو خود ساختہ اٹوٹ انگ قرار دینا مضحکہ خیز ہے، بھارتی بیان سلامتی کونسل کی قراردادوں اور حقائق کے بر خلاف ہے، بھارتی دعوؤں کی کوئی بنیاد نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہم سی پیک کے خلاف بھارتی غلیظ پروپیگنڈا مسترد کرتے ہیں، بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے مایوس کن حد تک کوششیں کر رہا ہے، بھارت کا اس ایشو پر کوئی تاریخی، قانونی یا اخلاقی جواز نہیں، بھارت کے جھوٹے دعوے حقائق نہیں جھٹلا سکتے۔انھوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، بھارت کشمیری عوام کے بنیادی حقوق غصب کیے ہوئے ہے۔انہو ں نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے، کشمیر کے عوام کو عالمی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دے، کشمیریوں سے آزادانہ و غیر جانب دارانہ استصواب رائے کا وعدہ کیا گیا تھا۔  بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جموں و کشمیر کو خودساختہ اٹوٹ انگ قرار دینا مضحکہ خیز ہے، بھارتی بیان سلامتی کونسل کی قراردادوں اور تاریخی و قانونی حقائق کے برخلاف ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارتی دعوں کی کوئی بنیاد نہیں، سی پیک کے خلاف بھارتی پراپیگنڈا کو بھی مسترد کرتے ہیں، بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لئے مایوس کن حد تک کوششیں کر رہا ہے،۔ بھارت کا اس معاملے پر کوئی تاریخی، قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ بھارت کے جھوٹے دعوے حقائق نہیں جھٹلا سکتے۔زاہد حفیظ چودھری کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینا ہوگا۔ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا کشمیریوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے القاعدہ، طالبان اور دیگر کالعدم یا دہشت گرد تنظیموں یا ان سے وابستہ عناصر پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کی بھی تردید کردی۔۔اس ضمن میں ڈ بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ زہد چوہدری نے کہا تھا کہ ’18 اگست کو جاری کردہ ایس آر او صرف عملی اقدام کے طور پر پہلے سے اعلان کردہ ایس آر اوز کو مستحکم اور دستاویزی بناتے ہیں اور پابندیوں کی فہرست یا پابندیوں کے اقدامات میں کسی قسم کی تبدیلی ظاہر نہیں کرتے‘۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طالبان پابندی کمیٹی، طالبان اور ان سے منسلک اداروں یا افراد پر پابندی کے معاملات طے کرتے ہیں۔تاہم اب مزید وضاحت کے لیے ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ وزارت خارجہ سے جاری ایس آر اوز میں ان افراد اور اداروں کے نام شامل ہیں جن پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرادادوں کے تحت 2 منظور شدہ رجیم میں پابندیاں لگائی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -