صدر ٹرمپ کو شکست، امریکی کانگریس سے محکمہ ڈاک کیلئے 25ارب ڈالر کا بل منظور 

  صدر ٹرمپ کو شکست، امریکی کانگریس سے محکمہ ڈاک کیلئے 25ارب ڈالر کا بل منظور 

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی کانگریس نے محکمہ ڈاک کی موجودہ سہولتوں میں اضافے کیلئے 25ارب ڈالر کا بل منظور کر لیا۔ ڈیمو کریٹک پارٹی نے اپنی اکثریت کے بل پر ضروری توثیق حاصل کر لی۔ بل کے حق میں 257اور مخالفت میں 150ووٹ پڑے۔ اقلیتی ری پبلکن پارٹی کے 24ارکان نے بھی اس بل کے حق میں ووٹ دیا۔ صدر ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی کی قیادت محکمہ ڈاک کو اضافی سہولتیں فراہم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔اس وقت دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان 3نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے حوالے سے ڈاک کے ذریعے ووٹ بھیجنے کے سوال پر تنازعہ جاری ہے۔ ڈیمو کریٹک ارکان کا موقف ہے کہ کرونا وائرس کے باعث پولنگ سٹیشنوں پر جا کر ووٹ ڈالنا خطرے سے خالی نہیں، اس لئے تمام ووٹرز کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنا چاہئے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر محکمہ ڈاک کے پاس ضروری سہولتیں پوری طرح حاصل نہیں ہیں۔اس لئے ڈیمو کریٹک پارٹی محکمہ ڈاک کو مزید وسائل فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ اسے ڈاک کے ذریعے ووٹ وصول کر کے آگے ترسیل کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔اس وقت 3سو ارکان کے سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کو معمولی سی برتری حاصل ہے اور جیسا کہ ایوان نمائندگان میں دیکھنے میں آیا ہے اگر ری پبلکن پارٹی کے کچھ ارکان نے ڈیمو کریٹس کا ساتھ دیا تو ایوان کا بل سینیٹ میں بھی منظور ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر دونوں ایوانوں نے بل منظور کر لیا تو وہ اسے ویٹو کر دینگے۔ صدر ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹوں سے جعلی ووٹ ڈالے جا سکتے ہیں۔

بل منظور

مزید :

صفحہ اول -