نذیر بھٹی مرحوم ہماری دھرتی کے عظیم سپوت تھے، محمد ضیاء الدین

نذیر بھٹی مرحوم ہماری دھرتی کے عظیم سپوت تھے، محمد ضیاء الدین

  

پشاور(سٹی رپورٹر)گندھار ہندکو بورڈپشاور کے زیر اہتمام ہندکو،اردو اورپشتو کے مایہ ناز محقق، مصنف،ادیب اور ڈرامہ نگار نذیر بھٹی(مرحوم)کی یاد میں تعزیتی ریفرنس گندھارا ہندکو اکیڈمی میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت عالمی شہرت یافتہ گیت نگار سید سعید گیلانی نے کی جبکہ مہمان اعزاز صوفی، دانشور اورسابقہ ڈی جی وزارت اطلاعات اقبال سکندر تھے۔تقریب کی نظامت کے فرائض گندھارا ہندکو بورڈکے جوائنٹ سیکرٹری احمد ندیم اعوان نے سرانجام دئیے۔اس موقع پرگندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین،ایگزیکٹیو ممبران سکندر حیا ت سکندر،وسیم شاہد،گندھارا ہندکو اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد عادل، سینئر اداکار نجیب اللہ انجم، شاعر،ادیب عزیز اعجاز، ہندکو اردو شاعرہ بشریٰ فرخ کے علاوہ نذیر بھٹی کے بیرون ملک سے تشریف لائے فرزاندان شاہد فاروق بھٹی، ذوالفقار بھٹی،زاہد اقبال بھٹی سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر محمد ضیاء الدین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نذیر بھٹی مرحوم ہماری دھرتی کے عظیم سپوت تھے،وہ ادب کے آسمان کا وہ درخشندہ ستارہ تھے جن کی خدمات کا اعتراف نہ صرف علاقائی بلکہ صوبائی اور قومی سطح پر بھی کیاگیا، مرحوم نے علمی و ادبی میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیں، گندھارا ہندکو بورڈ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ نذیر بھٹی مرحوم کی 15 سے زائد کتابیں گندھارا ہندکو اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے شائع ہوئیں،جن میں 1930 کے قصہ خوانی فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے ہندکو ناول”شام الم“بھی شامل ہے جسے حال ہی میں قومی ادبی ایوارڈاور گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔گندھارا ہندکو اکیڈمی نے اُن کی خدمات کے اعتراف میں ”ہندکووان سرخیل“ کے نام سے مجلے کا بھی اجراء کیا۔اس موقع پرصدارتی ایوارڈ یافتہ سینئر اداکار نجیب اللہ انجم،اقبال سکندر، سکندر حیات سکندر، تصور حسین بخاری،ذوالفقار بھٹی، بشریٰ فرخ اورعلی اویس خیال سمیت دیگر نے نذیر بھٹی مرحوم کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نذیر بھٹی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے زندگی کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں اور فن کا لوہا منوایا،اُنہوں نے نہ صرف ہندکو بلکہ اردو اور پشتو میں بھی بے شمار فلمیں اور ڈرامے لکھے۔مرحوم نذیر بھٹی بے نظیر علمی و ادبی شخصیت تھے اور فنون لطیفہ میں ایک روشن ستارے کی مانند نظر آتے تھے،ن کی شخصیت میں بہت سی خوبیاں پنہاں تھیں۔شرکاء کا کہنا تھا کہ نذیر بھٹی جیسی شخصیا ت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، اُن کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔ تقریب کے آخر میں گندھارا ہندکو اکیڈمی کے زیر اہتمام نذیر بھٹی مرحوم کے حوالے سے تیارہ کردہ خصوصی ڈاکومینٹری بھی پیش کی گئی جس میں مرحوم کی زندگی کی خوشگوار یادوں کو سمویا گیا تھا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -