چارسدہ‘ نکاح کے باوجود لڑکی کے والد کا رخصتی سے انکار

چارسدہ‘ نکاح کے باوجود لڑکی کے والد کا رخصتی سے انکار

  

چارسدہ(بیورورپورٹ) منگنی اورنکاح کے باوجود لڑکی کے والد نے رخصتی سے انکار کر دیا۔متعدد قبائلی جرگوں کے باوجود مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے لڑکے کے والدین نے حکومت سے مد د طلب کر دیا۔اس سے پہلے کہ خون خرابہ ہو جائے حکومت اور ادارے راست اقدام اٹھائیں۔ قبائلی شہریوں کی پریس کانفرنس۔  باجوڑ سے تعلق رکھنے والے نجیب اللہ نے اپنے چچا ملک عالم خان کے ساتھ چارسدہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے8سال قبل اپنے بھائی احسان اللہ کا رشتہ اپنے رشتہ دار کمین کی بیٹی سے طے کیا اور منگنی کے ساتھ ساتھ نکاح بھی موقع پرہوا۔ لیکن تاحال لڑکی کا باپ رخصتی میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ لڑکی کے باپ نے رخصتی کے عوض 20لاکھ روپے کا مطالبہ کردیاہے، رقم سے انکار پر لڑکی کے باپ نے رشتہ توڑنے کی کوششیں شروع کر دیئے ہیں ہم قبائل ہیں اور قبائلی روایات کے مطابق ہر صورت لڑکی گھر لائینگے بصورت دیگر خون خرابے اور شر و فساد کا اندیشہ ہے اسلئے حکومت سے اپیل ہے کہ معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر لڑکی کے باپ کو بیٹی کی رخصتی پر آمادہ کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماں باپ لڑکی کو ورغلا رہے ہیں کہ رشتے سے انکار کریں لیکن منگنی اور نکاح لڑکی اور انکے والدین کی رضامندی اور خوشی سے ہوئی ہے اسلئے رقم بٹورنے کی خاطر رخصتی میں مشکلات پیدا کرنا یا رشتے کو توڑنا دونوں خاندانوں کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ لڑکی کے دادا ملک عالم خان نے کہا کہ لڑکی کا باپ کمین انکا بیٹا ہے اورانہوں نے میری موجودگی میں اپنی رضا مندی سے اس رشتے کیلئے ہاں کر دی ہے۔ منگنی اور نکاح کے پروگرام اور دیگر رسم و رواج پر لڑکے احسان اللہ کی طرف سے تقریبا 6لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں، میں نے خود اپنے بیٹے کو سمجھا کر لڑکی کی رخصتی دینے کیلئے کافی اصرار کیا لیکن بیٹا ماننے کو تیار نہیں۔ ملک عالم خان نے مزید کہا کہ لڑکے احسان اللہ کی طرف سے لڑکی کے باپ کمین پر قبائلی زغماء نے درجنوں جرگے کیئے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا لہٰذہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انتظامیہ اس اہم مسئلے کو حل کرانے میں ہماری مدد کرے اور دونوں خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے سے بچایا جائے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -