حکومتی پابندی کے باوجود شہر اور گردونواح میں کمسن بچوں سے مشقت لینے کا سلسلہ جاری

حکومتی پابندی کے باوجود شہر اور گردونواح میں کمسن بچوں سے مشقت لینے کا سلسلہ ...

  

پشاور (سٹی رپورٹر)حکومتی پابندی کے باوجود شہر اور گردونواح کی مختلف دکانوں، منی کارخانوں، ورکشاپوں اور ہوٹلوں پر نوعمر کمسن بچوں سے مشقت لینے کا سلسلہ جاری، نو عمر کمسن بچے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کرنے پر مجبور  ہے محکمہ لیبر کے افسران کی پراسرار خاموشی سوالیہ نشان بن گیا شہر اور مضافاتی علاقوں میں محکمہ لیبر کے متعلقہ افسران کی مبینہ غفلت و عدم توجہی کے باعث مختلف دکانوں،منی کارخانو ں، ورکشاپوں اور ہوٹلوں پر مبینہ طور پر کم عمر و کمسن بچوں سے معمولی اجرت پر محنت مزدوری کروائی جارہی ہے، نو عمر کمسن بچے اپنے والدین کی مجبوری اورکمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے سکولوں، کالجوں میں جانے کی بجائے محنت مشقت کرنے پر مجبورہیں، سابقہ حکومت نے غریب، سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے اور بچوں کے والدین کو ماہانہ وظیفہ دینے کے بلند و بانگ دعوے کئے لیکن بدقسمتی سے عملدرآمد نہ ہو سکا جبکہ محکمہ لیبر کا متعلقہ عملہ مبینہ طور پر ہوٹل مالکان، منی فیکٹریوں، ورکشاپوں کے مالکان کے خلاف چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی بلکہ ارباب اختیار کو سب اچھا کی رپورٹس بھجوائی جارہی ہیں۔مبینہ طور پر محکمہ لیبر کے افسران و اہلکاروں کی چشم پوشی کی وجہ سے شہریوں کے زہنوں میں سوالات پیدا ہورہے، شہرکی عوامی، سماجی، مذہبی، فلاحی حلقوں کے عمائدین نے کم عمر بچوں سے مشقت لینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مطالبہ کیاہے اور بچوں کے روشن مستقبل کے لئے انہیں سکولوں میں داخل کروانے کا مطالبہ کیاہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -