کارنٹین، کارنٹائین اور قرنطینہ۔.. تین تلفظ،تین طبقات

کارنٹین، کارنٹائین اور قرنطینہ۔.. تین تلفظ،تین طبقات
کارنٹین، کارنٹائین اور قرنطینہ۔.. تین تلفظ،تین طبقات

  

تحریر:  جویریہ اسد

کرونا کے لٹکے اور جھٹکے اپنی پوری آب و تاب سے جاری ہیں اور پوری دنیا کو نچا رہے ہیں۔ ہر طبقہ اپنے اپنے مسائل کے ساتھ متاثّر ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی زوروشور سےاس وباسے بچاؤ کے طریقے بتاۓ جارہے ہیں۔  چونکہ میں ایک مقرر بننے کی کوشش کر رہی ہوں تو میں لوگوں کے تلفظ اور ان کے ذخیرہ الفاظ  کا  بہت باریک  بینی  سے مشاہدہ کرتی ہوں۔ اسی دوران میں نے میڈیا پر  مختلف لوگوں سےتین انواع کے تلفظ سنے جو اپنے مسائل اور کرونا سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے بارے میں بتا رہے تھے۔

ایک طبقہ جو کارنٹین کہنے والا نظر آیا، یہ وہ اعلی طبقہ ہے جن کے بڑے بڑےگھر اور در دونوں خوراک اور زندگی کی تمام سہولتوں سے منہ تک بھرے ہیں اور ان کے دل اتنے چھوٹے ہیں کہ اگر ان کا ملازم کرونا میں مبتلا ہو جاۓ تو یہ اس کو بس میں بٹھا کر اس کے گاؤں  بیھج دیتے ہیں۔ اور جب پولیس ان کو ان کے اس مجرمانہ عمل کے لئے پکڑتی ہےتو یہ مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر عمران خان سے مدد مانگنےکی ویڈیوز  سوشل میڈیا  پر چلاتے ہیں۔ نام تو سب نے سنا ہی ہوگا۔۔۔۔بی بی کافی مشہور ہیں۔

یہ طبقہ اس کورونا وائرس کی وجہ سے اس لئے بھی پریشان ہے کہ ان کی کوکٹیل پارٹیاں کارنٹین میں چلی گئیں ہیں اور یہ بیچارے  گھر میں بیٹھ کر انسٹاگرام پر ویڈیوز بنا رہے رہیں۔

اب آتے ہیں دوسرے تلفظ یعنی کارنٹائین پر جسے متوسط طبقہ اپنی بول چال میں استعمال کرتا ہے۔ یہ طبقہ میرے حساب سے سب سےزیادہ مظلوم طبقہ ہے جن کی تنخواہیں بھی کٹ کر مل رہی ہں، جونہ ہی کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ کسی لنگر کا حصہ بن سکتےہیں۔ یہ طبقہ ہمیشہ سے اسی طرح پستا رہا ہے۔ تعلیم حاصل کرکے اور اچھی نوکری ڈھونڈ کر یہ طبقہ الیٹ کلاس میں شامل ہونا چاہتا ہے مگر زمانےکی ستم ظريفی اس کو نہ الیٹ طبقہ میں جگہ دیتی ہے اور نہ ہی یہ لوگ غریب اور دیہاڑی دار طبقہ میں شامل ہوسکتےہیں۔ صدیوں سے یہ طبقہ زمین اور آسمان میں معلق اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اب نہ جانے کتنے گھر اس کرونا کی وبا سے اثّر انداز ہورہے ہوں گے۔ مگر قارئین اپنےارد گرد ایسے لوگوں کو ضرور نظر میں رکھیں جو تکليف کے باوجود منہ سے کچھ نہیں مانگتےمگر آہستہ آہستہ سفید پوشی کا کفن لپیٹے خاموشی سے اپنی قبر میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی مدد کریں اور انھیں اس وبا سے نمٹنے کےلۓہمت دیں۔

قرنطینہ کہنے والا نچلا دیہاڑی داڑ طبقہ جسےصبح اگر کام نہ ملے تو شام کو ان کے بچے بھوکے سوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے شہر کا رواں دواں رہنا بہت ضروری ہے ورنہ ان کے گھرکا پہیہ بند ہو جاۓ گا۔  ان کو حکومت سے ملنے والےبارہ ہزار بھی کب تک چلےگے۔ وہ تو شاید گھر کے کراۓ میں ہی ختم ہو جائیں گے۔ ایسے لوگوں کو اپنی زکوة  اور صدقات دیں تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

یہ طبقاتی فرق جب تک ہمارے معاشرے میں رہے گا ہمارا ملک کبھی بھی معاشی خوش حالی حاصل نہیں کر سکتا۔ میں ان تمام لوگوں کی تہہ دل سے مشکور ہوں جو اس مشکل  وقت میں اپنے اپنے وسائل  کے حساب سے لوگوں کی مدد کرہےہیں مگر یہ مدد بڑے گھروں میں رہنے والوں کی طرف سے بھی آنی چاہیے جو صرف ویڈیوز  بنا بنا کو لوگوں کو ہاتھ دھونے کے طریقے  بتا رہےہیں ۔میرا اشارہ تمام سیاستدانوں ، اداکاروں ،گلوکاروں اور میڈیا اینکرز کی طرف ہے۔ اگر ایک ہفتے میں پی ایس ایل کا گانا بن سکتا ہے تاکہ ساتھی گلوکار کو نیچا دکھایا جاسکے تو جناب لوگوں کی مدد کے لئے آپ بھی کوئ راشن امداد چلاسکتے ہیں۔ گیم شو میں بیس تولے سونا دینے والے بھی غائب ہیں۔ اور کچھ شریف سیاستدانوں کےہاں تواتنی خاموشی ہےکہ جیسےمجھے کیوں نکالا کی مہم کے بعد اور میاں صاحب کے جانے کے بعد شاید اب سب عدت میں بیٹھ گئے ہیں،جیساکہ انور مقصود نےاپنےایک دلچسپ مقالہ میں کہا۔ اور اینکرز کا تو حال یہ ہے کہ اس نازک صورت حال میں بھی پھوپھو بننے سے باز نہیں آرہے۔شام ہوتےہی  حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان نورا کشتی شروع ہو جاتی ہےاور رات گئےتک جاری رہتی ہے۔

ڈاکٹرز کہتےہیں پورا ملک بند کر دو۔مولوی کہتے ہیں مسجدیں کھول دو۔ تاجر برادران کہتے ہیں کہ دکانیں کھول دو۔ غرض یہ کہ ہر طبقہ اپنے حساب سے حالات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرہا ہے۔ مگراس وقت ایک اجتماعی کوشش ہی ملک کے حالات کو قابو میں لا سکتی ہے جس میں ہر طبقہ اور  ہرمسلک کے لوگوں کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

اب تو بس اللہ سے یہ دعا ہے کہ رمضان کے بابرکت مہینے کے توسط سے ہمیں اس وبا سے نجات مل جاۓ۔ آمین

کروناکےاثّرات پر قارئین کی نظر  میرے کچھ ذاتی قطعات

عرض کیا ہے

زمیں پر اکڑ کر تم چلتے تھے

ہواؤں میں تم اڑتے تھے

غرور اورتکبر تھا تمہاراشیوہ

کسی کی نہ تم سنتے تھے

پھر یکایک رت بدلی منظر بدلا

جینے کا ہر ایک انداز بدلا

چلتے قدم جیسے جم سے گۓ

لفظ لبوں پر آکر رک سے گۓ

قدرت نے کیا خوب کرشمہ دکھلایاہے

یہ ہےتمہاری اوقات، تم کو بتلایاہے

اب رکے ہو تو ٹہرو ،سوچو اور سنبھل جاؤ

یہ زندگی ہے ایک سراب اب تو سمجھ جاؤ

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -