متنازعہ ٹوئیٹ پر تنقید او رگرفتاری کے مطالبے پر ماروی سرمد کا موقف بھی آگیا

متنازعہ ٹوئیٹ پر تنقید او رگرفتاری کے مطالبے پر ماروی سرمد کا موقف بھی آگیا
متنازعہ ٹوئیٹ پر تنقید او رگرفتاری کے مطالبے پر ماروی سرمد کا موقف بھی آگیا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی ماروی سرمد گاہے گوں ناگوں وجوہات کی بناءپر خبروں میں اور سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں رہتی ہیں۔ اب ایک بار پھر انہوں نے ایسی ٹویٹ کر ڈالی ہے کہ سوشل میڈیا صارفین نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق اس ٹویٹ میں ماروی سرمد نے ایک طنزیہ لطیفہ بیان کیا جس میں انہوں نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کا حوالہ بھی دے ڈالا تاہم ان کی گرفتاری کے ٹرینڈ پر ایک مرتبہ پھر ماروی سرمد کا جواب بھی آگیا۔

ماروی سرمد نے اس لطیفے میں لکھا کہ ”مولوی صاحب نے بتایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اٹھا لیے گئے ہیں۔ ایک سادہ مقتدی نے پوچھا کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بلوچ تھے؟“انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ ماروی سرمد اس لطیفے کی وجہ سے ’توہین مذہب‘ کی مرتکب ہوئی ہیں چنانچہ انہیں دفعہ’295سی ‘کے تحت گرفتار کیا جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر #ArrestMarviSirmed_295Cکا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہا ہے۔ اس قدر تنقید ہونے پر ماروی سرمد بھی اپنے دفاع میں سامنے آ گئی ہیں اور کہا ہے کہ انہوں نے یہ ٹویٹ نقل کی تھی۔ انہوں نے اسی لطیفے پر مبنی ٹویٹس بھی ثبوت کے طور پر پیش کی ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -