30 لوگوں کی نوعمر لڑکی سے اجتماعی زیادتی کا کیس، پولیس کو بڑی کامیابی مل گئی

30 لوگوں کی نوعمر لڑکی سے اجتماعی زیادتی کا کیس، پولیس کو بڑی کامیابی مل گئی
30 لوگوں کی نوعمر لڑکی سے اجتماعی زیادتی کا کیس، پولیس کو بڑی کامیابی مل گئی

  

تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل میں 30 لوگوں کی نوعمر لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں اہم پیشرفت ہوگئی، پولیس نے 9 لڑکوں سمیت 11 افراد کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نو عمر لڑکی سے زیادتی کرنے والے 9 لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کی عمریں 16 سے 17 برس کے درمیان ہیں۔ پولیس نے 2 نوجوانوں کو بھی اسی کیس میں گرفتار کیا ہے جن کی عمریں 27 سال ہیں جبکہ باقی ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے  اسرائیل میں 30مردوں نے ایک ہوٹل میں 16سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا ۔ یہ انسانیت سوز واقعہ اسرائیل کے ساحلی سیاحتی شہر ایلیت کے ایک ہوٹل میں پیش آیا۔ لڑکی اس ہوٹل میں قیام پذیر نہیں تھی بلکہ اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ وہاں شراب پی رہی تھی۔ اس دوران وہ باتھ روم گئی جہاں سے کچھ مرد اسے اپنے کمرے میں لے گئے۔ لڑکی شراب کے نشے میں دھت تھی جس کی وجہ سے وہ مزاحمت بھی نہ کر سکی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مرد زیادہ تر ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے۔ گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ دو درجن سے زائد مرد کمرے کے باہر قطار بنا کر کھڑے رہے اور باری باری کمرے میں جا کر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ کئی مردوں نے متاثرہ لڑکی کے ساتھ اس بہیمانہ سلوک کی ویڈیوز بھی بنائیں اور ایک نے لڑکی کو بھی ویڈیو دینے کی پیشکش کی۔

 جب لڑکی کی حالت غیر ہوئی تو ایک مرد نے ڈاکٹر ہونے کا ڈرامہ کیا اور کہا کہ وہ لڑکی کو طبی امداد دینے جا رہا ہے۔ اندر جا کر اس نے بھی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔

مزید :

جرم و انصاف -