پاکستانی فاسٹ باﺅلنگ بھی ٹیسٹ کرکٹ میں بری طرح ناکام، اعداد و شمار جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں

پاکستانی فاسٹ باﺅلنگ بھی ٹیسٹ کرکٹ میں بری طرح ناکام، اعداد و شمار جان کر آپ ...
پاکستانی فاسٹ باﺅلنگ بھی ٹیسٹ کرکٹ میں بری طرح ناکام، اعداد و شمار جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیائے کرکٹ پر اپنی دھاک بٹھانے والی پاکستانی فاسٹ باﺅلنگ لائن کی کارکردگی بھی ناقص ہونے لگی اور گزشتہ 10 سال سے غیر معمولی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے، 2010ءسے اب تک صرف ایک میچ میں کسی پاکستانی باﺅلر نے 10 وکٹیں لیں، اننگز میں 5 یا زائد وکٹوں کا کارنامہ 25 مرتبہ انجام دیا گیا، مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے باقی ٹیموں میں ساتویں پوزیشن ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کی اصل قوت ہمیشہ سے ہی فاسٹ باﺅلنگ رہی ہے جس نے متعدد بار سنسنی خیز مقابلوں میں فتح دلا کر سبز ہلالی پرچم بلند کیا مگر گزشتہ ایک دہائی اس کی کارکردگی میں مسلسل کمی آئی ہے۔ قومی ٹیم نے گزشتہ 10 سال کے دوران 87 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں صرف 727 وکٹیں حاصل کی گئیں جبکہ اس تمام عرصے کے دوران صرف ایک مرتبہ کسی باﺅلر کی جانب سے 10 وکٹیں حاصل کی گئیں، اننگز میں 5 یا زائد وکٹوں کی کارکردگی 25 مرتبہ دیکھنے میں آئی، جبکہ اس عرصے کے دوران باقی ٹیموں کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو پاکستان ٹیم فہرست میں ساتویں نمبر پر دکھائی دیتی ہے اور فاسٹ باﺅلنگ لائن کی کارکردگی کے لحاظ سے انگلینڈ کی ٹیم سرفہرست ہے۔ 

انگلینڈ نے 135 میچز کھیل کر 1,609 وکٹیں حاصل کیں مگر 7 مرتبہ میچ میں 10 اور 59 مرتبہ اننگز میں 5 یا زائد وکٹوں کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا، ماضی میں صرف بیٹنگ کی وجہ سے شہرت رکھنے والی بھارتی ٹیم کی فاسٹ باﺅلنگ لائن کی کارکردگی بھی پاکستانی ٹیم سے بہتر ہو چکی ہے جو فہرست میں پانچویں نمبر پر موجود ہے۔ 

پاکستانی ٹیم کے پاس ماضی میں شعیب اختر، محمد آصف وغیرہ کے بعد محمد عامر فاسٹ باﺅلنگ روایت کی اگلی کڑی کے طور پر سامنے آئے مگر کرپشن میں جیل اور پابندی کی سزا بھگت کر 5 برس بعد جب واپسی ہوئی تو وہ توقعات پر پورا نہیں اتر پائے اور پھر انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی، اب پاکستانی فاسٹ باﺅلنگ کا بوجھ نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی کے نوجوان کندھوں پر ہے، جنہیں کھیل کے چڑھاﺅ سے ہم آہنگ ہونے اور دباﺅ برداشت کرتے ہوئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کیلئے تجربہ درکار ہو گا۔ 

مزید :

کھیل -