چراغ بجھ گیا....روشنی باقی ہے

چراغ بجھ گیا....روشنی باقی ہے

 زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی

ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے

مَیں آج بھی عبداللہ ملک کے ہاں اپنے کمرے میں اپنی میز پر بکھری فائلوں سے وہ خط تلاش کرتا رہا جو اس ادارے سے میری وابستگی کا سبب بنا، یہ خط چند برس پہلے ادارہ رحیمیہ، علوم قرآنیہ(ٹرسٹ)لائبریری کی جانب سے لکھا گیا تھا۔یہ خط ملک صاحب کے بڑے صاحبزادے جناب ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک کے نام تھا۔اس میں ادارے کی لائبریری کے لئے ملک صاحب کی تصانیف طلب کی گئی تھیں، ایک شام بھائی جان کوثر ملک نے یہ خط مجھے دیا:

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

زمین کے اندر بھی روشنی ہو

مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

کہ اس لائبریری کو اباجی کی جو کتابیں دستیاب ہیں۔ایک ایک کاپی رابطہ کرکے ڈاک کے ذریعے بھیج دیں۔مَیں نے خط لیا کھولا اور پڑھا۔اس ادارے کا نام میرے دل و دماغ میں گھومنے لگا کہ مَیں نے یہ نام انپے گھر کے آس پاس ہی کہیں پڑھا ہے ۔مزید معلومات کے لئے مَیں نے اپنے بزرگ دوست شیخ بلال احمد(مرحوم) سے رابطہ کیا کہ میرے پاس ادارہ رحیمیہ سے خط آیا ہے ۔کیایہ وہی ادارہ تو نہیں جس کا آپ اکثر میرے ساتھ ملاقاتوں میں تذکرہ کرتے رہتے ہیں:

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم

بجھ تو جاﺅں گا ، مگر روشنی تو کر جاﺅں گا

انہوں نے کہا ہاں یہ وہی ادارہ ہے ،ہم نے بھی اباجی کی تمام نایاب کتابیں اس ادارے کی لائبریری کو عطیہ دی ہیں۔میرے خاندان کو اس ادارے اور اس کی تحریک سے بڑی محبت ہے ۔ اس تحریک کا چراغ اب حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے ہاتھوں میں ہے ،جس سے لاکھوں افراد ہدایت اور فکر کی روشنی پاتے ہیں۔

ایک پتنگے نے یہ اپنے رقصِ آخر میں کہا

روشنی کے ساتھ رہیے روشنی بن جایئے

اس کے بعد مَیں نے خدا حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔یہ روحانی اور نورانی ادارہ رحیمیہ میرے گھر سے کوئی 5/7منٹ کی مسافت پر ہے ۔ٹوٹل پٹرول پمپ کے عقب میں آف وائٹ رنگ کی 3منزلہ بلڈنگ ، اس پر مسجد کا گنبد اور ادارے کانام دیوار پر درج ہے ۔جو دور سے دکھائی دیتا ہے ۔مَیں نے رابطہ کیا تو جناب مفتی عبدالغنی قاسمی سے بات ہوئی ۔انہوں نے ادارے میں آنے اور لائبریری کو دیکھنے کی دعوت دی۔مَیں نے چند روز میں عبداللہ ملک کی کتابیں اکٹھی کیں اور رابطہ کرکے ایک دن ادارے میں چلا گیا اور ساتھ ہی اپنی بھی ایک تصنیف لے لی۔قاسمی صاحب نے کتابیں وصول کیں، چائے پلائی اور لائبریری کا دورہ کروایا۔اس ادارے کی روحانیت، فکر اور حضرات اقدس رائے پوری کی محبت ادارے کو لگی ہر اینٹ سے نمایاں تھی:

علم کی شمع ہے روشن ایک فیضِ عام ہے

آپ کی ذات گرامی علم کا پیغام ہے

قاسمی صاحب کہنے لگے....ہمارے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری اس وقت آرام فرما رہے ہیں، کسی دن آپ آئیں گے تو حضرت سے آپ کی ملاقات کروائی جائے گی۔مَیں نے ادارے کے بارے میں تفصیل جاننا چاہی تو انہوں نے بتایا کہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ(ٹرسٹ) ایک دینی اور تربیتی مرکز ہے ۔یہ اپنی دقیع علمی حیثیت اور دین اسلام کے نظام فکر و عمل کی شعوری تربیت کے حوالے سے ایک منفرد دینی شناخت رکھتا ہے ۔یہ ادارہ 2001ءمیں قائم ہوا۔اس ادارے کا مین کیمپس اور ہیڈ آفس پاکستان کے تاریخی شہر لاہور میں ہے ،جبکہ اس کے ریجنل کیمپس کراچی،سکھر، ملتان اور راولپنڈی میں واقع ہیں۔یہ ادارہ نوجوانان پاکستان میں دینی تعلیم و تربیت اور اس کے شعور و فکر کے پھیلاﺅ کے لئے بڑی استقامت کے ساتھ کام کررہا ہے ۔

اس ادارے کے بانی اور سرپرست اعلیٰ برعظیم پاک و ہندکے مسلمہ دینی سلسلے ”سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور“ کے مسندنشین حضرت اقدس مولانا شاہ سعید رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔آپ حضرت رائے پوری ثانی حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ کے خلیفہ مجاز اور اپنے والد گرامی حضرت رائپوری ثالث حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری قدس سرہ کے جانشین ہیں۔حضرت اقدس رائے پوری رابع دامت برکاتہم العالیہ جنوری 1926ءمیں پیدا ہوئے۔ پانچ سال کی عمرسے ہی خانقاہ رائے پور میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ کی صحبت اور اپنے والد گرامی کی معیت میں ”رائے پور“ رہے۔جہاں آپ نے اپنے والد گرامی سے ابتدائی دینی کتب پڑھیں،جبکہ دیگر جید علمائے کرام سے علوم قرآنیہ کی تعلیم حاصل کی ،پھر 1948ءمیں مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ذکریا کاندھلوی سے دورئہ حدیث پڑھ کر ظاہری دینی تعلیم کی تکمیل کی، اس کے بعد دو سال حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ سے ”سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور“ میں باطنی تربیت حاصل کی اور 1950ءمیں آپ کی جانب سے خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے اس کے بعد آپ پاکستان تشریف لے آئے۔

آپ حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری کے حکم کے مطابق 1950ءسے ہی پاکستان میں جدید تعلیمی اداروں ، کالجوں، یونیورسٹیوں اور قدیم مدارس کے طلباءاور نوجوان نسل کی دینی اور اخلاقی تعلیم و تربیت اور شعور و آگہی کا کام بڑی ہمت اور استقامت سے کررہے ہیں۔ آپ زوال کے دور میں انسانی معاشروں کے اہم ترین مسائل، خاص طور پر سیاسی، معاشی اور عمرانی مسائل کاقرآنی نقطہ ءنگاہ سے تجزیہ کرنے اور دینی حوالے سے ان کے حل کی رہنمائی کے فرائض بڑی عمدگی سے سرانجام دے رہے ہیں۔اسی طرح ”دنیا وی تعلیم“ کے نام پر پرائیویٹ اور حکومت کے زیراہتمام چلنے والے ہماری ملک کے سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کو مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism)کے اصول پر مختلف شعبوں میں صرف پیشہ ورانہ تعلیم دی جاتی ہے ، لیکن دین اور قرآنی نظریئے کی اساس پر قومی اور بین الاقوامی نظام کے سیاسی، معاشی اور عمرانی مسائل پررہنمائی کا کوئی طریقہ کار ان کے سامنے نہیں ہے ،بلکہ اس کے برخلاف یہ تعلیمی ادارے غلامی کے دور کی طرح لارڈ میکالے کے نظریہءتعلیم کی اساس پر قائم ہیں اور سرمایہ دار نظام کے لئے آلہ¿ کار طبقات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

اس طرح قومی سطح پر تعلیمی حوالے سے ہماری کوتاہی یہ ہے کہ ہم دہرے نظام ہائے تعلیم کی اساس پر”دینی“ اور دنیاوی“ دومتضاد اور باہم برسرپیکار طبقات پیدا کرنے میں مصروف عمل ہیں،جس کا نتیجہ ہے کہ ہم دین کی اساس پر قومی وحدت فکری، اجتماعی شیرازہ بندی، سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی سے کوسوں دور اور دینی نظام سے بیگانہ ہیں۔ان حالات میں بڑی ضرورت تھی کہ ایسی تعلیمی تربیتی جدوجہد اور کوشش شروع کی جائے ، جس کے ذریعے نوجوانوں میں دینی اور قرآنی تعلیمات کی اساس پر انسانی سماج کے اہم ترین سیاسی، معاشی اور عمرانی مسائل کا شعور پیدا ہو اور ہمارے ملک کے نوجوان دین اسلام کو بطور نظام زندگی سمجھنے کے لئے قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں:

زمانہ یاد کرے ےا صبا خاموش

ہم ایک چراغ محبت جلاتے جاتے ہیں

پھر کچھ دنوں بعد جب مَیں ادارے میں گیا تو قاسمی صاحب نے میری ملاقات خانقاہ کے مستند جانشین حضرت اقدس سے کروائی۔ حضرت اپنے کمرے میں تشریف فرما تھے۔ انتہائی خوبصورت نورانی چہرہ ،چاندی کی مانند سفید داڑھی آنکھوں میں بلا کی چمک، زبان و لہجہ میں دین و اسلام کی دمک، حضرت سے میرا تعارف بطور ادیب عبداللہ ملک کی کتابوں کے مرتب کار کی حیثیت سے کروایا گیا ، اس پر انہیں ملک صاحب سے اپنی یادگار ملاقات یاد آ گئی ،بہت سی یادیں دہرائی گئیں۔وہ یادیں جو ہمیشہ زندہ رہتی ہیں، اس عمر مبارک میں بھی آپ کا کمال کاحافظہ تھا۔حضرت اقدس سے پہلی ملاقات نے مجھے ان کا گرویدہ بنا دیا، اس کے بعد جناب مفتی عبدالخالق آزاد سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔یہ بھی حضرت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ادارے کی آبیاری کررہے ہیں اور ممتاز عالم دین ہیں، ان کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں:

اک سخی ہے جس کا در ہر وقت کشادہ رہتا ہے

بھیک کرم کی بٹتی ہے دن رات یہاں ناداروں میں

اس طرح میرا اس روحانی اور فکری ادارے سے تعلق جڑ گیا اور مَیں جب بھی اپنے کاموں سے فراغت پاتا یا جی اداس ہوتا تو بیٹے فیاض کے ساتھ حضرت جی کادیدار کرنے چلا جاتا، وہ کندھے پر تھپکی دیتے اور دعائیں دیتے اور مَیں اپنے گناہوں سے بھرے میلے دامن میں وہ دعائیں اور صدائیں سمیٹ کر لے آتا۔پھر2سال قبل جب آپ اپنے ادارے کے ساتھیوں کے ساتھ حج بیت اللہ کی سعادت کے لئے گئے، مَیں پھرملنے گیا اور اپنے لئے دعا کی درخواست کی۔واپس آئے تو مبارک باد دینے گیا اور پھر اپنے لئے دعا کی اپیل کی ۔وہ دعا قبول ہوئی ، ایک سال بعد مجھے بھی اللہ تعالیٰ کے گھر سے بلاوا آ گیا ۔ساغر بابانے کہا تھا:

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

مَیں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

معروف ترقی پسند مصنف عبداللہ ملک کی خواہش پر جناب عباس شاد نے حضرت صاحب سے ملک صاحب کی رہائش گاہ پر ملاقات کا اہتمام کیا، سب نے اکٹھے کھانا کھایا اور جی بھر کے باتیں کیں۔حضرت سے ملتے ہوئے ملک صاحب کی آنکھوں سے آنسوﺅں کی برسات جاری تھی ۔وہ اپنے لئے بار بار دعا کی درخواست کرتے رہے۔ اس ملاقات میں حضرت کے جانشین مفتی عبدالخالق آزاد بھی شامل تھے ۔ اس ملاقات کو یادگار اور تاریخی قرار دیا اورکہا کہ مَیں آج اپنے اندر ایک روحانی سکون قلب محسوس کررہا ہوں۔ملک صاحب نے اس ملاقات کا ذکر اپنی ڈائری میں بھی کیا ہے ،جو کتاب کی صورت میں چھپ چکی ہے ، اس کا نام ہے .... ”ایک مسلم کمیونسٹ کے شب و روز“....

اچھے خاصے تھے کہ لینے کو قضا آ ہی گئی

دل پہ سارے اقربا کے اک اداسی چھا گئی

حضرت اقدس آج ہم میں موجود نہیں،مگر ان کی باتیں اور یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ان کے عقیدت مند ہمیشہ ہدایت کی روشنی پاتے رہیں گے۔ چراغ بجھ گیا تو کیاہوا، روشنی تو باقی ہے۔ان کے علم کی، ان کے فکر کی اور ان کے ذکر کی.... حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کا انتقال 26ستمبر2012ءبروز بدھ لاہورمیں ہوا، ان کی نماز جنازہ 27ستمبر2012ءبروز جمعرات بوقت 3بجے دن وارث روڈ گراﺅنڈ میں ادا کی گئی۔نماز جنازہ میں ملک بھر سے خلفاءاور عقیدت مندوں کی تعداد تقریباً 40ہزار کے قریب تھی، ان میں باہر کے ملکوں سے ان کے مریدین بھی آئے تھے۔اس موقع پر مختصر خطاب ہوا۔حضرت کی وصیت پڑھ کر سنائی گئی کہ میرے بعد اس خانقاہ رحیمیہ کے جانشین جناب مفتی عبدالخالق آزاد ہوں گے۔ حضرت کی تمام تعلیمات اور فکر نوجوانوں کے لئے تھی۔ان نوجوانوں میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباءاور اساتذہ کی تعداد زیادہ تھی، جو ہمہ وقت ان پر جان چھڑکنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ان کی وفات پر سب سے زیادہ رونے والوں کی تعداد نوجوانوں کی تھی ،جو دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔یہ عالم تھا ان کی فکری تعلیمات کا کہ پورا عالم ان کے جنارے میں شریک تھا۔ایک عالم نے عالم کا شاندار نظارئہ رخصت دیکھا جو لاہور کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کی آخری آرام گاہ اداریہ رحیمیہ کے بالکل سامنے چند گام کے فاصلے پر ایک احاطہ چار دیواری میں ہے ۔اس جگہ کو ”گلزار سعید“ کا نام دیا گیا ہے:

”کیا بتاﺅں یہ راز کیا ہوں میں

خاک دہلیز مصطفی ہوں میں“

حضرت چند روز بیمار رہے.... مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی.... حضرت نے غنودگی میں جانے سے پہلے اپنے آخری الفاظ ادا کئے۔یا اللہ اس جماعت اور ادارے کی حفاظت فرما۔آپ پانچ بھائی تھے۔حضرت سمیت تین کا وصال ہو چکا ہے ،اب دو حیات ہیں۔آپ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔آپ کی دو بہنیں تھیں۔ایک وفات پا چکی ہیں اور دوسری حیات ہیں۔آپ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، سب سے چھوٹا بیٹا ایک حادثے میں انتقال کر گیا تھا۔جس کا حضرت کو بہت غم تھا۔دو بیٹے حیات ہیں۔حضرت کی ایک صاحبزادی جناب مفتی عبدالخالق آزاد کی شریک حیات ہیں۔آزاد صاحب آپ کی تحریک اور فکر کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔آخر میں:

”کہتا ہوں ایک بات بڑی مختصر سی ہے

جھک کر چلو حیات بڑی مختصر سی ہے

مزید : کالم