سوزن رائس دستبردار کیوں ہوئیں؟

سوزن رائس دستبردار کیوں ہوئیں؟
سوزن رائس دستبردار کیوں ہوئیں؟

  

کہا جاتا ہے کہ سیاست،جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے اور اس پر عمل بھی ہوتا ہے، لیکن امریکہ میں محبت اور سیاست میں سب کچھ نہیں چلتا، خاص طور پر بڑے اور اہم لوگوں کے لئے ....محبت ملک کا صدر کرے یا کسی خفیہ ادارے کا سربراہ، اسے جائز قرار نہیں دیا جاتا۔یہی حال سیاست کا ہے۔ابھی حال ہی میں ہمیں انتہائی دکھ ہوا،جب امریکی وزارت خارجہ کی دوڑ سے سوزن رائس الگ ہوگئیں، حالانکہ وہ جس بات پر اپنے سیاسی مستقبل سے دستبردار ہوئی ہیں،وہ آسانی سے ٹالا جا سکتا تھا۔انہوں نے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارتخانے پر حملے اور سفیر کی ہلاکت پر اوباما انتظامیہ کے موقف سے ہٹ کر بیان دیا تھا،جو یقینا قابل اعتراض تھا، کیونکہ وہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر ہیں۔ حالانکہ جب انہوں نے فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر کا درجہ دینے پر احتجاج کیا تھا تو ہم سمجھ گئے تھے کہ ان کی تمام وفاداریاں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہیں۔اس طرح وہ وزیرخارجہ کے عہدے کے لئے انتہائی مناسب ہیں۔

سوزن رائس نے امریکی صدر اوباما کو خط لکھا ہے کہ اگر وہ وزیرخارجہ نامزد ہوئیں تو ان کے لیبیا کے بیان پر انتظامیہ کی جانب سے سوالات اور ان کی تصدیق کا عمل طویل انتشار پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے،جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ صدر اور امریکہ کی قومی اور بین الاقوامی ترجیحات متاثر ہوں اور یہ قومی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں اس لئے انہیں وزیر خارجہ نامزد نہ کیا جائے۔ ایک اطلاع کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے سوزن رائس کے فیصلے کو قبول کر لیا ہے، وہ وزیر خاجہ نہیں بنائی جائیں گی۔ یہ خبر بھی ہے کہ انہیں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے عہدے پر قائم رکھا جائے گا۔

سوزن رائس کے سامنے وزیر خارجہ بننے کے بعد ایک روشن سیاسی مستقبل تھا۔ وہ اس سیڑھی پر قدم رکھ کر صدارتی محل میں داخل ہو سکتی تھیں، لیکن انہوں نے ایک خط لکھ کر تمام راستے تاریک کر دیئے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ سیاست میں اتار چڑھاو¿ تو آتے رہتے ہیں، ہم نے ایسے رہنما دیکھے ہیں، جو روز بیان دے کر دوسرے دن تردید کر دیتے ہیں اور عوام مان بھی لیتے ہیں۔ امریکہ کے پاکستان سے گہرے مراسم ہیں۔ اقوام متحدہ میں بھی اس کے نمائندے موجود ہیں۔ سوزن رائس کو صدر باراک اوباما کو خط لکھنے سے پہلے ان میں سے کسی سے مشورہ کر لینا چاہیے تھا، وہ ترکیب و رکیب سب بتا دیتے۔ ایک بیان کی تردید کر دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ سیاست تو داو¿ پیچ، سیاہ کو سفید اور سفید کو کالا کرنے کا نام ہے، جسے یہ ہنر نہیں آتا، وہ سب کچھ ہو سکتا ہے، سیاست دان نہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ سوزن رائس سیاست دان نہیں ہیں، لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ انہیں ابھی تک وہ گُر نہیں آئے، جو اقتدار حاصل کرنے اور پھر اس پر جمے رہنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

کاش یہ سب کچھ پاکستان میں ہوتا تو کسی تردید کی ضرورت ہی نہیں تھی، سب کام چوکھا ہوتا، نہ کوئی پوچھتا، نہ سوال ہوتا۔ وہاں تو عدالت کے کہنے سے بھی خط نہیں لکھا جاتا اور اپنی مرضی سے خط کون لکھتا ہے اور وہ بھی یہ کہنے کے لئے کہ خدارا میرے پاو¿ں پر کلہاڑی مار دو۔ سوزن رائس کیسی سیاست دان ہیں؟ نادان بھولی یا پھر اندر باہر سے سچی کھرے سونے کی طرح۔ ہم نے اکثر قبرستان کے کتبے پر لکھا دیکھا ہے: ....”حسرت اُن غنچوں پہ ہے، جو بن کھلے مرجھا گئے“.... اب ہم یہ سوزن رائس کے لئے تو نہیں کہہ سکتے، کیونکہ وہ ابھی تک اپنے عہدے پر فائز ہیں، لیکن ایک بار یہ بات تسلیم کر لینے سے کہ انہوں نے لیبیا پر حملے کے مو¿قف پر انتظامیہ کی حمایت میں بیان نہیں دیا، کسی وقت بھی انہیں مرجھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔

سوزن رائس کے وزارت خارجہ کی دوڑ سے نکلنے کے بعد نہ جانے کتنی خواتین و حضرات دوڑنے کے لئے تیار ہوں گے، لیکن ہماری خواہش تھی کہ ہیلری کلنٹن کے بعد سوزن رائس جیسی خاتون کو اس عہدے پر فائز ہونا چاہیے تھا۔ صدر باراک اوباما نے سوزن رائس کے خط کو فوراً قبول کر لیا، حالانکہ انہیں خط کے جواب میں سمجھانا چاہیے تھا کہ آئندہ احتیاط رکھیں اور مستقبل پر دھیان کریں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر باراک اوباما بھی ان کے بیان سے خوش نہیں تھے، اس لئے خط ملا.... قبول کر لیا۔ سوزن رائس کمال کی خاتون ہیں، اپنے دیئے ہوئے بیان پر نہ ندامت کا اظہار کیا، نہ تردید کی، بلکہ اپنے پورے مستقبل سے دستبردار ہو گئیں۔ کاش پاکستان میں کوئی ایک تو ایسا ہوتا۔  ٭

مزید : کالم