”تبدیلی ،نئے پاکستان اورنئے نظام“ کی باتیں

”تبدیلی ،نئے پاکستان اورنئے نظام“ کی باتیں
”تبدیلی ،نئے پاکستان اورنئے نظام“ کی باتیں

  

آج کل ”تبدیلی ،نئے پاکستان“ اورنئے نظام کی باتیں عام ہیں۔جیسے جیسے الیکشن قریب آ رہے ہیں،ان نعروں میں شدت آ رہی ہے۔وہ جماعتیں اور شخصیات بھی ”تبدیلی“ ،انقلاب اور نئے پاکستان “ کی باتیں کررہی ہیں،جن کی بقاءہی موجودہ نظام کے استحکام میں ہے۔ بہرحال ایک بات،مَیں بلا تمہید کہنا چاہتا ہوں کہ موجودہ آئین کو چلانے والے نااہل تھے یا یہ آئین ہمارے زخموں اور آنسوﺅں کے لئے مرہم والا سامان نہیں رکھتا۔دونوں صورتوں میں نتیجہ مایوس کن ہے۔ہر آنے والا دن ہمارے مسائل،مشکلات اور حسرتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ 20دسمبر2012ءکو روزنامہ ”پاکستان“ کے ادارتی صفحہ پر محترم شمشاد احمد صاحب کا کالم نظر سے گزرا۔وہ ایک سینئر بیورو کریٹ، زیرک اور صاحب مطالعہ شخص ہیں۔انہوں نے اپنے کالم میں کچھ توجہ طلب باتیں کیں۔ انہوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ بانی پاکستان صدارتی نظام کے حامی تھے۔یہ ایک انتہائی سنجیدہ قومی بحث ہے کہ ہمیں کس طرح دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے۔ہم جس سسٹم کے رحم و کرم پر زندہ ہیں ،کیا یہ سسٹم ہمیں ذلت اور رسوائی کے پاتال سے نکال سکتا ہے،؟ مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ سسٹم نکال سکنے کی سکت رکھتا ہوتا تو ہمیں اس گڑھے میں گرنے ہی کیوں دیتا؟

آئین بنانے والی اسمبلی نے آئین کے فوری بعد 7ترامیم متعارف کروا کر غیر محسوس طریقے سے یہ پیغام دیا کہ آئین سازی کا عمل عجلت میں مکمل ہوا۔اگرچہ یہ بحث انتہائی حساس ہے کہ اس موضوع پر خلوص نیت کے ساتھ رائے زنی کرنے والوں کو بعض حلقے گردن زدنی قرار دینے سے نہیں چوکتے، لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ 1973ءسے لے کر آج تک ہر آنے والی حکومت اور صدر نے آئین میں ردوبدل کیا اور آج ترامیم کی تعداد 20تک جا پہنچی ہے۔ہر حکومت اور ہر سیاسی جماعت ایک ہی خوف دلاتی چلی آ رہی ہے کہ کہیں سسٹم کو نقصان نہ پہنچ جائے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میںیہ سوچ پائی جاتی ہے کہ سسٹم ملک اور قوموں کو بچاتے ہیں، مگر ہم اپنے سسٹم کو بچاتے بچاتے نڈھال ہوگئے ہیں۔مَیں بڑے ادب سے کہنا چاہتا ہوں کہ 1973ءکے آئین کی موجودگی میں صوبے حقوق کے لئے لڑتے ہیں۔مالیاتی امور پر دست و گریبان رہتے ہیں۔بجلی، پانی، گیس کی تقسیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔کچھ قربانی دینے کا ذکر کرکے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ مظلوم دکھائی دیتے ہیں۔افسران کے تقرر و تبادلے اور نوکریوں کی تقسیم تک ،ریونیو، گیس ،پانی وبجلی کی رائلٹی تک اور قومی اداروں کی آئینی حدود و قیود کی بحث تک کے سوال درد سر بنے ہوئے ہیں، مگر کیا وجہ ہے کہ ان سارے معاملات میں آئین موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا نظر نہیں آتا؟

ابھی حال ہی میں وفاق نے بلدیاتی انتخابات کو صوبائی سبجیکٹ قرار دیا ہے۔ 4سال سے ایک بحران کی کیفیت ہے۔ہر صوبہ اپنا نظام چاہتا ہے، مگر عوام 4سال سے بلدیاتی نمائندے منتخب کرنے کے حق سے محروم چلے آ رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ عوام کو ووٹ کے آئینی حق کے استعمال سے روک دینے والوں کا محاسبہ آئین کی طرف سے ہوتا ہوا نظر کیوں نہیں آتا؟آئین کا آرٹیکل 25-Aکہتا ہے کہ 5سے 16سال تک کے بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر 2سال بعد بھی اس ذمہ داری کو پورا کرنا دور کی بات، اس پر ابھی قانون سازی کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ہمیں ایسا نظام چاہیے جو غلطیوں کی نشاندہی اور بازپرس کے حوالے سے ”خودکار“ نظام کی صلاحیتوں سے بھی بہرہ مند ہو۔

عوام کی کچھ مشکلات اس کے علاوہ بھی ہیں۔مَیں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ موجودہ آئین، عوام کے مزاج کے مطابق نہیں ہے۔ اس سسٹم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔اس بیمار سستم کو افراد بچا رہے ہیں، جو سسٹم اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا، اس کا بدل جانا ہی بہتر ہے۔مَیں یہاں ایک اور بات کہنا چاہوں گا کہ یہاں مارشل لاءبھی آئے، جمہوری حکومتیں بھی ، مگر ملک کی حالت بدلی، نہ عوام کی ، انتخابات کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور انتخابات ملکی مسائل کا حل بھی نہیں۔ہم ایک عجیب سانحہ سے دوچارہیں اور نازک موڑپرکھڑے ہیں، کریں تو کریں کیا اور جائیں تو جائیں کدھر؟طاقتور طبقہ ٹیکس دینے کے لئے تیار نہیں اور ٹیکس لینے والی اتھارٹی موثر نہیں رہی ،لیکن حق حکمرانی سے بھی دستبردار ہونے کو کوئی تیار نہیں ۔ موجودہ سسٹم نے سوسائٹی کے ہر طبقے کو اس موڑپر لاکھڑا کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو معذوری سے بچانے والی پولیو ٹیموں کے تحفظ کے بھی قابل نہیں رہے۔

مَیں معذرت سے کہوں گا کہ یہ صرف حکومت کی ناکامی نہیں، بلکہ اس پورے سسٹم کی ناکامی ہے۔پاکستان سے پولیو پروگرام کو معطل کرنے کی خبریں دل دہلانے اور رُلا دینے والی ہیں۔آخر یہ موجودہ سسٹم جس نے ہمیں لاتعداد ذہنی اور روحانی بیماریوں میں مبتلا کررکھا ہے، ہم اس پر نظرثانی کے لئے کب تیار ہوں گے؟یہ غوروفکر کا مقام ہے۔قوم کو اور ذمہ داروں کو اس اہم اور نازک موڑ پر بڑے فیصلے کرلینے چاہئیں۔دانشوروں کو اب مصلحت ترک کرکے کھلے دل و دماغ کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔عوام اس وقت انتخابی بخار میں مبتلانہیں، بلکہ تبدیلی کے موڈ میں ہیں۔ملک اور عوام کے تحفظ اور خوشحالی کی ضمانت دینے والا نیا ضابطہ یا ایک نئے سوشل آرڈر کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے کھل کر بات کرلینی چاہیے۔ کون سا صوبہ کیا چاہتا ہے ؟ اس پر غور کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ایک بار پھر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کی سیاسی فکر اور ان کے ارشادات کا ازسرنو مطالعہ بھی کرنا چاہیے کہ آخر ان کے ذہن میں کون سا نقشہ اور نظام تھا، جس سے ہٹتے ہٹتے ہم کچھ زیادہ ہی اصل راستے سے ہٹ گئے ہیں....محترم شمشاد احمد صاحب کا کہنا ہے کہ بانیءپاکستان صدارتی نظام سے ملتے جلتے نظام کے حامی تھے۔اس پر تاریخ اور حال کے تناظر میں کھلی بحث کی ضرورت ہے۔  ٭

مزید : کالم