افکارِ پریشاں

افکارِ پریشاں
افکارِ پریشاں

  

گذشتہ ماہ رب کریم کی رحمت کے باعث حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ حج پر جانے سے قبل دل کی جو حالت تھی، مَیں جانے سے پہلے والے کالم میں تحریر کر چکا ہوں۔پوری دنیا سے 40 لاکھ سے زائد مسلمان اپنے رب کریم کے حکم کو پورا کرنے کے لئے حج کے فریضے کی خاطر اپنا ذاتی مال خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی مشقت بھی برداشت کرتے ہیں، مگر ذہن میں کلبلاتا ہوا سوال مجھے جانے سے پہلے بھی بے چین کرتا رہا اور حج سے واپسی کے بعد بھی مَیں اپنے سوال کے جواب کو تلاش کر رہا ہوں۔ لاکھوں فرزندان توحید جب ہر تفریق بھلا کراللہ کی وحدانیت اور اس کی کبریائی کا اجتماعی اقرار کرتے ہیں، اس سے اپنے سابقہ گناہوں کی معافی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ شیطان سے مکمل لا تعلقی کا اقرار کرتے ہوئے اسے علامتی طور پر اپنی نفرت کا نشانہ بھی بناتے ہیں تو کس طرح پوری دنیا کے مسلمانوں میں صحیح اور مکمل اسلام اپنے جلوے نہیں دکھاتا۔ اللہ کو واحد و صمد ماننے اور ہر مرحلے پر اس کی تجدید کے باوجود حج اور عمرے جیسی اجتماعی عبادت ہماری زندگیو ں کو تبدیل کیوں نہیں کر رہی؟

 ہر سال حج اور عمرے پر جانے والے زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف امت کے حالات میں سدھار کے بجائے بگاڑ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حج اور عمرے کے فیوض و برکات ہمیں کیوں حاصل نہیں ہو رہے؟ ذاتی طور پر مجھے تو ایک ہی بات سمجھ آتی ہے کہ اصل میں ہم اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی پورے کے پورے اسلام میں داخل نہیں ہو سکے۔ ہم نے اسلام کو بطور مذہب اختیار تو کر رکھا ہے، لیکن اپنی زندگیوں میں شامل نہیں کیا۔ ہم نے اسلام کے ساتھ بھی Pick n choose کا رویہ اختیار کر رکھا ہے، جو بات پسند ہو اسے پورا مان لو اور جو نا پسند ہو اسے چھوڑ دو۔ اب اس رویے کے ساتھ ہم نہ کافر رہے اور نہ مسلمان۔ اللہ کو واحد رب ہی مانتے ہیں اور زندگی میں ہر مرحلے پر جھوٹے خداﺅں کے سامنے سر تسلیم خم بھی کرتے ہیں۔ شیطان کو قابل نفرت اور اس سے لا تعلقی کا اعلان بھی کرتے ہیں اور شیطان کے راستے اور شیطانی قوتوں کو اپنا دوست بھی بناتے ہیں، اسی لئے نہ ہماری دعاﺅں میں اثر رہ گیا ہے اور نہ ہماری آہیں رب کریم تک پہنچ پاتی ہیں۔

65 سال سے لاکھوں کروڑوں پاکستانی ہر سال حج اور عمرے پر تشریف لے جاتے ہیں۔ کم و بیش ہر پاکستانی اپنی ذاتی حاجات کے ساتھ ساتھ ملک عزیز کی سلامتی اور سکون کے لئے بھی اللہ رب کریم کے حضور اپنی گذارشات پیش کرتا ہے، لیکن ملک عزیز کی حالت روز بروز خرابی کی طرف جا رہی ہے۔ ملک میں مسجدوں کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہوتا جا رہا ہے، بلکہ تعداد کے ساتھ ساتھ مسجدوں کی شان و شوکت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اب گرم موسم میں یخ بستہ مساجد اور سرد موسم میں گرم ماحول میسر ہے۔ سخت اور چبھنے والی چٹائیاں تو اب ناپید ہو گئی ہیں، نرم و گداز قالینوں سے آراستہ مساجد ہر کونے میں موجود ہیں۔ ماحول پُرسکون ہے، مگر دلوں سے سکون رخصت ہو چکا ہے، اس لئے نہ عبادات میں خشوع باقی رہا اور نہ خضوع۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہبر و رہنما مانتے بھی ہیں، اس کا اعلان بھی کرتے ہیں، لیکن آپ کی ذات مبارک اور حیات مبارک کو نمونہ مان کر اپنی زندگیوں میں شامل کرنے کے لئے تیار نہیں۔

غور کیجئے اور تھوڑی دیر تنہائی میں بیٹھ کر سوچئے کہ یہ قتل و غارت، انسانی جانوں کی ارزانی، لوٹ مار اور ذاتی مفاد پر ہر چیز قربان کرنے کی ریت اللہ کے نام پر بننے والے ملک میں کیسے شروع ہو گئی؟ ہر برائی کو سازش قرار دینے کا چلن آج ہمیں یہاں تک لے آیا ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں اور محرومیوں کے اسباب پر غور کرنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ اللہ رب کریم نے جس امت کو بہترین امت قرار دیا، آج وہ امت رسوائی اور پستی کے گہرے گڑھے میں گرنے کے باوجود اس عذاب سے نکلنے کے لئے تیار نہیں۔ ایک اللہ اور ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہونے کے باوجود گروہ در گروہ میں تقسیم ہونے والی امت کو نہ اتحاد کا سبق یاد ہے اور نہ ہی اخوت اور بھائی چارے کے فوائد۔

ملک عزیز میں تو آج کل ایک اور روش چل نکلی ہے اور وہ ہے تبدیلی کی روش.... ہر شخص اور ہر گروہ دوسرے کو تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ کوئی بھی شخص اور کوئی بھی گروہ اپنے آپ میں تبدیلی کا خواہاں نہیں ہے، بلکہ دوسرے کے بارے میں یہ خواہش بھی رکھتا اور اس کا اظہار بھی کرتا ہے کہ وہ تبدیل ہو جائے۔ نہ کسی میں اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ ہے اور نہ ہی کوئی اپنی غلطی کی اصلاح چاہتا ہے۔ میڈیا، جس کی آزادی اور طاقت کے چرچے ہر سو ہیں، وہ بھی اسی چلن پر گامزن ہے۔ ریٹنگ اور زیادہ سے زیادہ اشتہارات کے حصول کو اپنا ٹارگٹ بنانے والا میڈیا کیا کسی کی اصلاح کر سکتا ہے؟ میڈیا کے بڑے بڑے ذمہ داران نہ اپنے آپ کو کسی کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی اپنے خلاف کوئی اعتراض سننے کو تیار ہوتے ہیں۔ بھیڑ چال کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے ایک میڈیا چینل پر ہونے والا پروگرام تمام چینلوں پر اس طرح ہو رہا ہوتا ہے کہ اکثر ایک ہی موضوع اور ایک جیسے مہمانوں کے ساتھ پروگرام کسی چینل پر Live چل رہا ہوتا ہے تو دوسرے چینل پر ریکارڈ شدہ پروگرام.... دانستگی یا نادانستگی میں ہم کہیں معاشرے میں سدھار کے بجائے انتشار پھیلانے کا باعث تو نہیں بن رہے؟ کوئی ہے جو اس پر غور کرے اور اس کے بارے سوچے۔

پانچ سال حکومتوں نے مکمل کر لئے، جمہوریت کے نام پر، مفاہمت کے نام پر اور عوام کے نام پر۔ بہتری کے نام پر حکمران بننے والے حاکم بہتری تو کیا لاتے، بگاڑ اور خرابی کو اس مقام تک لے آئے ہیں، جہاں سے بہتری اور حالات میں درستگی کا تصور بھی محال نظر آرہا ہے، اس کے باوجود ہر گروہ اور ہر سیاسی جماعت اگلے پانچ سال کی حکمرانی کا طلب گار بھی ہے اور دعویدار بھی۔ پانچ سال ایک جماعت کے ساتھ اقتدار میں شرکت کے مزے لوٹنے والے اب نئی چراگاہوں کی تلاش میں ہیں اور جس کی جہاں پہنچ ہے، وہ وہاں اپنے تجربات اور کمال ہنر کے ساتھ اپنے چہرے پر نئی نقاب ڈالنے کے لئے تیار ہے۔ جیالے بھی حیران ہیں تو متوالے بھی کہ کل ایک دوسرے کی قیادت کو گالیاں دینے والے آج کاسہ لیسی کے باعث جیالوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور متوالوں کو بھی حیران و پریشان کر رہے ہیں۔ ایک طرف جیالے اور متوالے حیران و پریشان ہیں تو دوسری طرف سونامی کے لشکر میں شامل ہر اول دستے کے سالار اپنے لشکر میں Electables کے نام پر شامل ہونے والے سواروں کے پیروں تلے کچلے جا رہے ہیں۔ آٹھ سال سے زائد عرصے سے جن کرداروں کے خلاف اپنی پوری توانائی سے جنگ کا آغاز کرنے والے سونامی لشکر کے مجاہدین آج اپنے لشکر میں شامل ہونے والے انہی کرداروں کے ہاتھ شہادت کے بلند رتبے تک پہنچنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

ہم پاکستانی بھی کیا معصوم اور بھولے لوگ ہیں، جو، جو کی فصل بو کر بہترین گندم کے حصول کی آس میں زندہ رہتے ہیں۔ محرومیوں اور اندھیروں کو اپنا ساتھی بنا کر اجالے اور روشنی کی تمنا کرنے والے لوگ کیا دنیا میں اور بھی کسی جگہ اس طرح کے سادہ و معصوم لوگ مل سکتے ہیں۔ اللہ رب کریم کو وحدہ لا شریک اور اپنا خالق ماننے والے جب سیاسی وابستگی کے نام پر سیاسی لیڈروں کو اپنا ملجا و ماویٰ قرار دیتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ اس دھرتی پر اللہ رب کریم کی رحمتوں کا نزول ہو سکے؟ زبانی طور پر شیطان سے لا تعلقی اختیار کرنے کے باوجود اپنی زندگی شیطان کی راہ پر گامزن کرنے کے بعد ہم یہ کس طرح سوچتے ہیں کہ اللہ رب کریم ہماری دعاﺅں کو قبول کرے گا اور ہماری آہوں کا جواب دے گا!

تبدیلی کی ضرورت نہ نظام میں ہے اور نہ چہروں کی تبدیلی سے مسائل کا خاتمہ ممکن ہے۔ ایک بار پھر اس تحریر کے سہارے گذارش ہے کہ خلوص نیت اور دل کی گہرائیوں سے اللہ رب کریم ہی اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ ہم سب کے دلوں کو تبدیل کر دے اور جب دل تبدیل ہو جائیں گے تو کسی اور تبدیلی کی ضرورت نہیں رہے گی نہ نظام کی اور نہ ہی چہروں کی۔ دلوں کی تبدیلی سے ہی ہم اپنے رب کو بھی پہچان پائیں گے اور اس کی طاقت کو بھی اور اس طرح آنے والی تبدیلی خوش کن بھی ہو گی اور مستقل بھی۔ ٭

مزید : کالم