یہ گیس اور قیمتیں!

یہ گیس اور قیمتیں!
یہ گیس اور قیمتیں!

  

گزشتہ روز بھی گھر سے نکلے اور دفتر کے لئے روانہ ہوئے تو راستے کے تینوں پٹرول پمپوں پر سی این جی کے لئے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں موجود تھیں۔ گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے تین روز تک سی این جی سٹیشن بند رہنے کے بعد جمعرات کی صبح چھ بجے کھلے تھے، لیکن یہ کھلنا بھی کیا کھلنا تھا کہ گیس لینے والے تو صبح پانچ بجے ہی سے قطار میں لگ گئے تھے۔ یہ سلسلہ جمعرات کی صبح کو شروع ہوا تو گزشتہ روز (ہفتہ) کی رات تک یونہی جاری تھا۔ اگلے روز گیس مزید ملنا تھی اور پھر تین روز کی بندش آنے والی ہے یہ غیر معمولی بات ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ گیس سٹیشن والوں نے غیر اعلانیہ ہڑتال کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو تاحال جاری ہے۔ متعدد، گیس سٹیشن بند رکھے جاتے ہیں۔ بعض تھوڑے وقت کے لئے کھلتے اور پھر بند کر کے بورڈ لگا دیا جاتا ہے کہ ”بجلی بند ہے“ اور گیس دینا بند کر دی جاتی ہے۔ گیس نہ دینا تو اپنی جگہ جہاں گیس دی جاتی ہے، وہاں پریشر بہت کم ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ تمام بڑے شہروں میں ہے، تاہم جی ٹی روڈ اور دوسری ملحقہ سڑکوں پر صورت حال مختلف ہے۔ ان سڑکوں کے اطراف والے سی این جی سٹیشن گیس دیتے ضرور ہیں، لیکن پریشر کم ہوتا ہے اور کئی ایسے سٹیشن بھی ہیں، جہاں پریشر پورا ہوتا ہے، لیکن یہ حضرات گاہک سے بلیک میں پیسے لیتے ہیں اور گیس 54 روپے کی بجائے75 روپے فی کلو تک بیچتے ہیں۔

یہ صورت حال ابھی تک چل رہی ہے۔ حکومت نے کئی بار انتباہ کیا۔ اوگرا نے بھی بیان بازی کی کہ جو گیس نہیں دیں گے۔ ان کے لائسنس منسوخ کر دئیے جائیں گے، لیکن یہ بات بیان بازی تک ہی محدود رہی اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اب عدالت عظمیٰ نے سخت اور حقیقت پسندانہ ریمارکس دیتے ہوئے اوگرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ سی این جی کے مالکان کی تنظیم کے ساتھ مشاورت کر کے گیس کی قیمت کا تعین کر ے اوگرا کے چیئرمین نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کر کے یہ کہا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر ایسا کر لیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ کے فاضل جج نے یہ کہا کہ حکومت اور اوگرا کی کشمکش اور سی این جی سٹیشن مالکان سے ملی بھگت کے باعث شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ 2008ءاگست میں سی این جی 35 روپے کلو تھی جو ستمبر 2012ءمیں 95 روپے فی کلو ہوگئی۔ یوں چار سال کے اندر قیمتوں میں چار گنا اضافہ کیا گیا۔ عدالت عظمیٰ اس سے پہلے یہ قرار دے چکی تھی کہ قیمت مقرر کرنا عدلیہ کا کام نہیں، لیکن قیمتوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اب دیکھئے اوگرا پٹارے سے کون سا سانپ نکالتی ہے، کیونکہ عدالت نے پہلا فارمولا تو مسترد کر دیا ہے۔

جہاں تک سی این جی کے مسئلے کا تعلق ہے تو یہ گیس کی قلت کے باعث پیدا ہوا۔ پہلا مرحلہ تو یہ تھا کہ گیس شیڈنگ شروع کی گئی۔ ہفتے میں ایک بار کا سلسلہ شروع ہواجو پنجاب کی حد تک بڑھ کر تین روز اور کراچی میں ڈیڑھ دن تک چلا گیا اور اب تک یہ صورت حال ہے۔ اس عرصہ میں معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت آگیا، جہاں حکومت، اوگرا اور سی این جی سٹیشن مالکان کا مو¿قف بھی پیش کیا گیا۔ انکشاف ہوا کہ سی این جی کم از کم 31 روپے زائد منافع پر بیچی جا رہی ہے۔ عدلیہ نے یہ اضافہ مسترد کر دیا اور 54 روپے فی کلو بیچنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد سے یہ صورت حال پیدا ہوگئی۔ سی این جی سٹیشن مالکان اپنا منافع کم کرنے پر تیار نہیں اور حکومت اپنے ٹیکس چھوڑنے پر آمادہ نہیں اس کشمکش میں پسنے والے عوام ہیں، حکومت کا مو¿قف تو یوں بھی واضح ہو چکا تھا کہ گیس کی قلت ہے۔ اس لئے قیمتوں کو پٹرول کے نرخوں کے مطابق کر دیا جائے تو گیس کے استعمال کی حوصل شکنی ہوگی۔ سٹیشن مالکان کو یہ منظور نہیں تھا، چنانچہ ان کے دباو¿ پر قیمت پٹرول کے نرخوں سے تو کم رکھی گئی، لیکن گیس کی بندش کے یوم کم نہ کئے گئے۔ اس صورت حال کی روشنی میں عدلیہ نے حکم دیا اور 54 روپے فی کلو بیچنے کی ہدایت کر دی۔

ہمارے ملک میں ہر شعبہ زندگی میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ ایسا ہی بجلی اور گیس کے ساتھ بھی ہو رہا ہے اور ملک توانائی کے بحران سے دوچار ہے۔ اگر تو منصوبہ بندی یہ ہوتی کہ جتنی گیس اور بجلی میسر ہے اس کے مطابق صارفین تک پہنچائی جائے اور اس دوران بجلی کی پیداوار بڑھانے اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے کی تگ و دو کی جائے اور جب تک بجلی اور گیس میسر نہیں آتی اس وقت تک گیس اور بجلی کے نئے کنکشنوں پر پابندی عائد کی جاتی اور جوں جوں پیداوار میں اضافہ ہوتا، توں توں بجلی اور گیس کے کنکشن مہیا کئے جاتے، لیکن یہاں تو صورت حال یہ تھی کہ گیس اور بجلی دیہات تک پہنچانے کی دوڑ لگی ہوئی تھی اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ہر روز کسی بستی یا علاقے میں فیتہ کاٹا جاتا اور بجلی یا گیس کی لائنوں کا افتتاح کیا جاتا ہے۔ اس طرح رسد اور طلب میں فرق بڑھتا چلا گیا، جو لوڈشیڈنگ پر منتج ہوا کیونکہ نئے بجلی گھر اور گیس کے نئے ذخائر دریافت نہیں ہو سکے۔

 ادھر سی این جی کا سلسلہ شروع ہوا تو گاڑیوں کے لئے بھی کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی۔ایک طرف سی این سٹیشن کھولنے کی اجازت دی جاتی رہی اور دوسری طرف ٹرانسپورٹ والے حضرات کوکھلی چھٹی مل گئی بلکہ اُکسایا جاتا رہاکہ پٹرول اور ڈیزل کی نسبت سی این جی ماحول دوست ہے۔ کار والوں نے تو گاڑیوں کو پٹرول کے ساتھ گیس کے ساتھ منسلک کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا کہ ویگنوں، بسوں اور ٹرکوں والے بھی میدان میں آگئے اور دھڑا دھڑ سی این جی کٹیں لگوانا شروع کر دی گئیں۔ یوں نجی اور پبلک ٹرانسپورٹ گیس پر منتقل ہوگئی اور گیس کی طلب سینکڑوں گنا بڑھ گئی اب گیس کی کمی کا رونا رویا جا رہا ہے۔

دوسری طرف کھاد کی صنعت سے لے کر ٹیکسٹائل کے صنعتی اداروں کو بھی گیس کنکشن دئے گئے اور یوں گیس کی طلب بڑھتی چلی گئی۔ صنعت کا پہیہ بھی گیس سے چلنے لگا۔ توانائی کا بحران پیدا ہوا تو بجلی کم پڑ گئی۔ لوگ شیڈنگ شروع ہوئی۔ گیس کی قلت نے گیس مہیا کرنے سے معذرت کا جواز پیدا کر دیا۔ یوں ایک بڑا بحران پیدا ہوگیا جو ابھی تک حل نہیں ہوپا رہا۔ حکومت کے اندر اس پر شدید تحفظات اور اختلافات ہیں۔ وزارت پٹرولیم اور اوگرا کے درمیان کوئی تعاون نہیں اوگرا اب بہت ہی خود مختار حیثیت والا ادارہ بن کے سامنے آیا، لیکن اس سارے کھیل میں کمبل تو عوام کا چرایا گیا۔ ابھی گزشتہ روز صبح کے وقت اکثر تاجر حضرات صنعتوں کے لئے گیس کو لازم قرار دے رہے تھے کہ صنعتی پہیہ چلنا چاہئے اور بڑی گاڑیوں کو گیس نہیں ملنا چاہئے۔ حکومت اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی، جہاں تک سی این جی سٹیشن والوں کا تعلق ہے تو وہ بحران پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے اور حکومتی کارروائی سے بھی محفوظ ہےں، کیونکہ سی این جی سٹیشن زیادہ تر سیاسی رہنماو¿ں، فوجی افسروں (ریٹائرڈ) اور بیورو کریٹس کے ہیں اور یہ حضرات کسی خوف کے بغیر صارفین کو پریشان کرتے ہیں۔ اب تو ان کے پاس یہ عذر بھی ہے کہ بجلی نہیں تو گیس کا پریشر کیسے بنے۔ چنانچہ گیس نہ دینے کا جواز یہ ہوتا ہے کہ گیس سٹیشن بند کر کے بورڈ لگا دیا جاتا ہے، بجلی نہیں ہے۔

سی این جی سٹیشن والے واقعی با اثر ہیں کہ اب تک کامیاب ہیں۔ اب دیکھیں اوگرا کیا گل کھلاتی ہے۔ اگلے 48 گھنٹوں کا کہاگیا ہے ۔ یہ اس لحاظ سے تو بہت اہم ہے کہ جو قیمت مقرر ہو، اسے قبول بھی کر لیا جائے۔ تمام سی این جی سٹیشن کھلیں گے تو یہ لمبی قطاریں بند ہوں گی۔ ویسے پنجاب میں تین روز تک گیس بند رکھنا امتیازی سلوک ہے۔ پنجاب میں بھی گیس کا ناغہ کراچی کے مطابق ہی ہونا چاہئے۔ ہم بہرحال اس تجویز کے حق میں ہیں کہ سی این جی صرف چھوٹی گاڑیوں (ایک ہزار سی سی تک) اور پبلک ٹرانسپورٹ ہی کو دی جائے۔ نجی ٹرانسپورٹ والے تو کرایہ ڈیزل کے نرخوں کے مطابق متعین کر کے لے رہے ہیں۔ توقع کرنا چاہئے کہ اب یہ بحران حل ہو جائے گا اور سی این جی کے قابل قبول نرخ مقرر ہوں گے، اس کے بعد ہی گیس سٹیشن کھلیں گے اور پھر دباو¿ کم ہو سکے گا۔ ٭

مزید : کالم