حق گو اور نڈر مجاہد، بشیر بلور کی شہادت

حق گو اور نڈر مجاہد، بشیر بلور کی شہادت

پشاور میں خود کش حملے کے نتیجے میں صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر احمد بلور سمیت نو افراد شہید اور پولیس اہلکاروں سمیت18 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس حملے میں سینئر وزیر کے پرسنل سیکرٹری اورایک ایس ایچ او بھی شہید ہوئے۔ بشیر بلور پشاور کے علاقہ ڈھکی نعلبندی میں ایک کارنر میٹنگ میں شرکت کے بعد اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھ رہے تھے کہ خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ جناب بشیر بلور کی شہادت کی خبر پورے ملک میں گہرے رنج و غم سے سنی گئی ۔ اے این پی کے غم میں ڈوبے ہوئے کارکنوں نے انتقام لینے کے لئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کارکنوںکو صبر کی تلقین کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کاررو ائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دوسرے رہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ وہ ڈرنے والے اور بھاگنے والے نہیں ۔ جناب بشیر احمد بلور کے بہادر بیٹے عثمان بلور نے کہا کہ اُن کے والد کہتے تھے کہ دہشت گردوں کی گولیاں ختم ہو جائیں گی، لیکن ہم سینہ سپر رہیں گے۔ اِس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے بھی اسفند یار ولی کو فون کر کے بشیر بلور کی شہادت پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ افغانستان پاکستانی عوام اور اے این پی کے غم میں شریک ہے، بشیر بلور نے دہشت گردی کے خلاف بے مثل قربانی دی ہے۔ صدر اور وزیراعظم نے بھی جناب بشیر بلور کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ صدر زرداری نے بشیر بلور کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، حکومت دہشت گردوں کے خاتمے تک ان کے خلاف جنگ جاری رکھے گی۔ شہید ایک نڈر اور دلیر انسان تھے انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے شہادت حاصل کی ۔مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں نواز شریف اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ شہید بشیر بلور کی شہادت پورے ملک کا نقصان ہے وہ دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر رہے۔ اُن کے علاوہ دوسرے تمام اہم رہنماﺅں نے بھی اُن کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اِس واقعہ کے بعد قوم کو دہشت گردی کے خلاف آخری جنگ کے لئے ڈٹ جانا چاہئے۔ وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اُن جیسے سیاسی رہنما بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔

جناب بشیراحمد بلور ایک حق گو او ر بہادر انسان تھے اُن کے قریبی لوگ اُن کے مجاہدانہ کردار کی گواہی دیتے ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ حق بات کہی اور دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بات کی اور ان کی کارروائیوں کو کچلنے کے لئے موثر اقدامات کرنے پر زور دیتے رہے۔ اسفند یار ولی کے بقول وہ کہتے تھے کہ پلنگ پر بیتھ کر سسک سسک کر مرنے سے بہتر ہے میں بہادری سے دہشت گردی کے خلاف لڑتے شہید ہو جاﺅں۔ واضح رہے کہ جس جلسے کے بعد انہیں شہید کیا گیا اس میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستحق افراد کا مفت علاج کرایا جائے گا، علاج معالجے کے لئے ایک ارب کا فنڈ مختص کر رکھا ہے۔ سیکنڈری سکولوں کے طلبہ کو بیس ہزار روپے وظیفے دیں گے۔ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ جب بھی دھماکہ ہوتا ہے وہ مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، جن کے بچے مرتے ہیں انہیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔

جناب بشیر بلور کی شہادت پر جہاں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت کی طرف سے ان کے کردار اورقربانی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے وہاں دہشت گردوں کی تمام پناہ گاہوں کو تباہ کرنے اور ا ن سے فیصلہ کن جنگ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی اس ضرورت کو واضح کیا جاتا رہا ہے، لیکن حکومت کی طرف سے مختلف شخصیات اور تنصیبات کے بہتر حفاظتی انتظامات سے بڑھ کر مسئلے کی بنیادیںختم کرنے کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا گیا۔ نہ دہشت گردوں سے کسی طرح کے مذاکرات ہوئے نہ قومی سیاسی جماعتوں کی کوئی قومی کانفرنس بلائی گئی جس میں قوم وملک کی بربادی پر تلے ہوئے ایسے لوگوں کے خلاف بھرپور اور ہر ممکن کارروائی کے لئے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کیا جا سکتا۔ سوات کی بچی ملالہ پر دہشت گردوں کے قاتلانہ حملہ کے بعد پوری قوم کی طرف سے دہشت گردوں کے اصل ٹھکانوں پر بھرپورحملے کرنے اور ان کے لئے پاکستان میں کوئی جائے پناہ نہ رہنے دینے کی توقع کی جارہی تھی۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے متعلق بھی غور کیا جارہا تھا، لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ آخر پھر کون سی مشکلات حکومت کے آڑے آگئیں۔ وطن عزیر کے ہر خطے میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور ان کے صدمات یک طرفہ طور پر آخر ہم کب تک برداشت کریں گے ؟ آخر حکومت کی رٹ نام کی کوئی چیز اگر ہوتی ہے تو وہ کہاں ہے؟ جناب بشیر بلور کے گھر والے اورجمہوریت اورقومی یکجہتی پر ایمان رکھنے والے ان کی پارٹی کے ساتھی اس عظیم سانحے پر صبر کرلیں گے، لیکن آخر قوم اپنے دونوں ہاتھ اوپر اُٹھا کر انسانیت دشمنوں کو پاک سرزمین پرایسی یک طرفہ کارروائیاں کرنے کا کب تک موقع دے گی؟ اب تو دہشت گردوں کا رُخ عام لوگوں اور گلی کوچوں کے بجائے ا ہل اقتدار کی طرف ہوگیا ہے۔ کیا اب بھی ہمارے حاکم صرف اپنی ذات ہی کی قلعہ بندیوں تک معاملے کو رکھیں گے اور باقی قوم کو اسی طرح ان وحشی لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے؟

   

حالت تو یہ ہے کہ کسی نام نہاد طالبان پاکستان کے کھاتے میں سب کچھ ڈال کر قوم کو ابھی تک واضح طور پر اِن دھماکوں ، حملوں اور خود کش حملوں کے پیچھے چھپے ہوئے اصل ہاتھوںکا علم نہیں ہو سکا۔ ہمارا دشمن اور اِن دہشت گردوں کا سرپرست جتنا بھی بڑا ہے اور اس کے جو بھی عزائم ہیں وہ قوم پر واضح ہونے چاہئیں۔ کیا یہ سب ہمارے جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے ہمیں ہر لحاظ سے بے بس اور کمزور کر دینے کے سلسلے میں ہے؟ کیا یہ ہماری افغانستان یا کسی دوسرے ملک میں کسی طرح کی کاروائیوں کے جواب میں ہے؟ کیا یہ واقعی ملک کے پروگریسو حلقوں کے نقطہ نظر کے مطابق ہمارے موجودہ جمہوری نظام کو ختم کرکے کسی طرح کی نظریاتی آمریت قائم کرنے کے لئے بعض گروہوں کی کوشش ہے؟ کیا ہماری طرف سے کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت کی وجہ سے ہم سے انتقام لیا جارہا ہے؟ کیا افغانستان کی جنگ میں مصروف لوگ اپنی کارروائیوں کی راہ میں ہمارے رکاوٹ بننے پر طیش میں آکر ہمیں نشانہ بنارہے ہیں؟ کیا کوئی بدترین شیطانی طاقت ان انسانیت دشمن سرگرمیوں سے اپنے شیطانی مقاصد پورے کرنا چاہتی ہے؟ کیا ناکام حکمران قوم کی توجہ ہٹانے کے لئے قوم کو دہشت زدہ رکھنا چاہتے ہیں؟ یہ سارے سوال اور وسوسے ہیں جو عوام کے ذہنوں میں جنم لیتے رہتے ہیں اور جن پر ہمارے گلی کوچوں میں بحث ہوتی رہتی ہے، لیکن یہ سب قوم کے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے آگے کچھ بھی نہیں۔جب تک دہشت گردی کی روز بروز سنگین ہوتی ہوئی جنگ کے خلاف ہماری تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو کر کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار نہیں کرتیں اور اِس سلسلے میں ایک مشترکہ موقف اختیار نہیں کرتیں ، اس وقت تک قوم اپنا اندھیروں کا یہ سفر جاری رکھنے پر مجبور رہے گی۔ نہ ہمیں اپنے دشمنوں کی خبر ہے اور نہ ہمدردوں اور خیر خواہوں کی ۔ آخر ہم کس سے جنگ کر رہے ہیں ؟ ہمیں کس طرح یہ جنگ لڑنی ہے، ہر شہری کو اس کے لئے اپنا کیا کردار ادا کرنا ہے؟ اس کے لئے قومی قیادت یک سو ہونے کے بعد ہی قوم کی رہنمائی کرسکتی ہے۔ قوم کو یک سو کرنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے جسے اس کی طرف سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی مزید طویل مدت تک ہمیں انہی حالات میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ جناب بشیر بلور پوری قوم کے خراج عقیدت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے نہایت بہادری اور جرا¿ت مندی سے انسانیت دشمن دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ، ان کے خلاف آواز بلند کی اور عوام کو حوصلہ دیتے ہوئے شہادت پائی۔ اللہ یہ حوصلہ اور جرا¿ت ملک کی اونچی اونچی کرسیوں پر بیٹھنے والے دوسرے سب لوگوں کو بھی دے۔ (آمین)  ٭

٭٭٭٭٭

مزید : اداریہ